حضرت بابا داؤد شاہ خاکیؒکی ولادت با سعادت908ھ بمطابق 1502 میں سید ابولحسن شاہؒ کے ہاں ہوئی جو حضرت شاہ محمد غوث لاہوریؒ کے پوتے ہیں۔آپ کا خاندان والی ٔکشمیر کے دربار سے وابستہ تھا۔حضرت بابا داؤد شاہ خاکیؒ کے بچپن میں ہی آپ کے والدِ ماجد کا انتقال ہوگیا تھا۔ والدہ نے آپ کی تربیت و کفالت کی۔آپ بچپن سے ہی بے حد ذہین اور لائق تھے۔آپ نے اپنے وقت کے جید اور نامی گرامی علمائے کرام جیسے اخوند ملا بشیر، اخوند شمس الدین پال، میر رضی الدین اور میر افضل سے تعلیم حاصل کی۔ آپ ایک بہترین فقہیہ اور شاعر تھے۔آپ کی انہی خصوصیات کی بناء پر والی ٔکشمیر نے آپ کو اپنے بیٹے کا اتالیق مقرر کیا۔ اور پھر آپ کشمیر کے قاضی القضاء یعنی چیف جسٹس بنا دیے گئے۔یوں آپ اعلیٰ شان و شوکت کے ساتھ شاہانہ زندگی گزار رہے تھے۔
ایک دن حضرت بابا جیؒ دریائے جہلم میں اپنی کشتی میں جا رہے تھے۔حضرت سلطان العارفینؒ نے انہیں جاتے دیکھا تو اپنے خادم صوفی اللہ داد کو کہا کہ جاؤ انہیں کہو کہ میں دین کے بارے بہت ہی اہم سوال ان سے پوچھنا چاہتا ہوں۔صوفی اللہ داد نے جب یہ پیغام حضرت بابا جیؒکو جا کر دیا تو وہ سلطان العارفینؒ کی بارگاہ میں آنے کیلئے تیار ہو گئے۔جب بابا جیؒدربار شریف پہنچے تو مخدوم شیخ حمزہؒ نے سوال کیا کہ شریعت اس شخص کے بارے میں کیا کہتی ہے جس نے ایک سانس بھی یادِ الٰہی کے بغیر لیا ہو۔حضرت بابا داؤد شاہ ؒ جی نے جواب کیلئے اپنی کتاب کھولی تو حیران رہ گئے کہ ان کی کتاب کے سارے صفحے بالکل خالی ہیں ،کتاب میں لکھا سب کچھ صاف ہو چکا ہے۔حضرت مخدوم شیخ حمزہؒنے فرمایا کہ تم بے کار میں اپنی لیاقت و قابلیت اور دولت و شان و شوکت پہ اتراتے رہے ہو۔حضرت مخدوم شیخ حمزہؒ کی اس کرامت و نظر کا ایسا خاص اثر ہوا کہ حضرت بابا داؤد شاہؒ نے شاہی عہدے کو خیر باد کہہ کر حضرت سلطان العارفین مخدوم شیخ حمزہؒ کے ہاتھ بیعت کر لی۔پھر آپ ؒنے مرشد کے حکم پر ایسی ریاضت و چلہ کشی کر کے اپنے آپ کو خاک کی طرح یوں مٹاڈالا کہ ‘‘خاکی’’ کا لقب پایا۔ حضرت مخدوم شیخ حمزہؒ نے 970ھ میںآپ کو سہروردیہ سلسلہ کی خلافت عطا کی۔
مرشد کی خدمت میں رہتے ہوئے ایک روز آپ کو اپنے ماضی کی ظاہری شان و شوکت اور دولت و مرتبے کا خیال آیا اور پھر اپنی موجودہ حالت جو کہ ظاہری طور پر اس طرح نہ تھی،پر آپ غمگین ہوئے۔اسی حالت میں آپؒ نے کوہِ ماران کی طرف دیکھا تو سارا پہاڑ سونے کا نظر آیا۔یہ آپؒ کے مرشد کی کرامت تھی۔ آپؒ کے دل سے سارا رنج و الم دور ہوگیا۔مرشد کے حکم پر آپ نے سارے کشمیر میں لوگوں کو دعوتِ اسلام دی اور بے شمار لوگ سہروردیہ سلسلہ میں بیعت ہوئے۔ حضرت داودشاہ خاکیؒ نے اپنے مرشدِکامل کی شان میں فارسی منقبت لکھی:
شکر للہ حالِ من ہر لحظہ نیک و تر شد است
شیخِ شیخاں شیخِ حمزہؒ تا مرا راہبر شد است
آپؒنے 995ھ بمطابق 1587 میںاس دنیا ئے فانی سے انتقال فرمایا۔آپؒ کو ابتداء میں اننت ناگ میں دفن کیا گیا تھا۔آپؒ کے وصال کے تین ہفتہ کے بعدوالی ٔ کشمیر کے خواب میں حضرت سلطان العارفینؒ تشریف لائے اور اسے حکم دیا کہ حضرت بابا داؤد شاہ خاکیؒ کا جسدِ مبارک اننت ناگ سے اٹھا کرسری نگر میں انکے ساتھ ہی دفن کیا جائے۔والی ٔ کشمیر نے خفیہ طور پہ اس کا انتظام یوں کیا کہ اعلان کروا دیا کہ سری نگر سے شاہی افواج کا ایک دستہ اننت ناگ کا دورہ کرے گا۔ اس دوران شاہی حکم ہے کہ تمام لوگ اپنے گھروں تک محدود رہیں۔پھر شاہی فوج کے سپاہیوں نے آپؒ کا جسدِ مبارک قبر کھود کر نکالا اور تابوت میں رکھ کر سری نگر کے لئے روانہ ہو گئے۔ابھی سپاہی اننت ناگ سے ذرا دور کھنہ بل کے مقام پر پہنچے ہی تھے کہ اس بات کا علم کسی ذریعے سے اننت ناگ کے لوگوں کو ہو گیا۔لوگوں کا ایک ہجوم سپاہیوں سے آپ ؒکا جسدِ مبارک واپس لینے کیلئے سپاہیوں کے پاس پہنچ گیا۔اور بات لڑائی جھگڑے و مار کٹائی تک پہنچ گئی۔ آخر کار اس بات پہ فیصلہ ہوا کہ جسدِ مبارک وہ لوگ لے سکیں گے، جو اسے اٹھا لیں گے۔اننت ناگ کے لوگ لاکھ کوشش کے باوجود جسدِ مبارک زمین سے اٹھا نہ سکے۔جبکہ شاہی سپاہیوں نے اسے آسانی سے اٹھا لیا اور یوں آپؒ کو اپنے مرشد کی قبرِ انور کے ساتھ کوہِ ماران سری نگر مدفون کیا گیا۔اس بات سے آپؒ کے مرشدکی آپؒ سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔
حضرت بابا داؤد شاہ خاکی ؒ کی تصانیف میں’ ورد المریدین‘، ’دستور السالکین‘ ،’قصیدہ جلالیہ‘(حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے متعلق)،’قصیدہ لمیہ‘( بابا حیدر رشی ؒکے متعلق) اور شرعی موضوعات پہ رسالے، ’مجموعۃ الفوائد‘، ’ضروری کلاں‘ اور ’ضروری خورد‘ شامل ہیں۔حضرت بابا نصیب الدین غازیؒحضرت بابا جیؒ کے خلیفۃ اعظم ہیں جن کا مزاربیج بہارہ کشمیر میں ہے۔حضرت بابا نصیب الدین غازیؒ کے چودہ سو خلفاء تھے۔اللہ ہمیں شیخ حمزہ مخدوم کشمیری ؒ اور شیخ بابا داوود خاکی ؒ کی دکھائے ہوئے راستے پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آ مین
(مضمون نگا ر بری گام قاضی گنڈسے ہیں اور فی الوقت گورنمنٹ ہائی سکول اندرون گاندربل میں بحیثیت استاد اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں)