جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال پچھلے سالوں کے مقابلے میں بہتر :لیفٹیننٹ گورنر
سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میںحد بندی کا عمل ختم ہونے کے فوراًبعد اسمبلی انتخابات کرائے جائیں گے۔ ’ایس کے آئی سی سی‘ میں پارلیمانی رسائی تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کے لئے پرعزم ہے، تاہم حد بندی کمیشن پہلے اپنی مشق مکمل کرے گا۔انہوں نے کہا کہ15 اگست کی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ حد بندی کمیشن تیزی سے کام کر رہا ہے۔ منوج سنہا نے کہا کہ اس کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پہلے ہی پارلیمنٹ کے ایوان پر کہہ چکے ہیں کہ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ لیفٹیننٹ گورنرنے کہا کہ حد بندی کمیشن کی مشق مکمل کرنے کے فورا ًبعد ، جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک انتخابات کی تاریخیں طے کرنیکا معاملہ ہے ، یہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی تعداد موجودہ 87 سے بڑھ کر 94 ہو جائے گی۔لیفٹیننٹ گورنر کہا کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال پچھلے سالوں کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے ۔منوج سنہا نے کہا کہ حکومت پنچایت ممبروں کو سیکورٹی فراہم کرنے اور ان کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا ، "پچھلے سالوں کے مقابلے میں اب سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ،اس سال پنچایتی نمائندوں کے قتل کے واقعات کم ہوئے ہیں۔ انہوں نے پنچایت ممبران کو یقین دلایا کہ انہیں سیکورٹی فراہم کی جائے گی اور اس سمت میں پہلے ہی کافی اقدامات کئے جا چکے ہیں۔سنہا نے کہا کہ یہاں سیکورٹی کے مسائل عمومی ہیں۔ ہم اپنے لیے دستیاب تمام ذرائع استعمال کرکے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی رہائش ، سکیورٹی اور دیگر چیزوں کا خیال رکھا جائے گا، ہم یقینی طور پر جو کچھ بھی کرسکیں، کریں گے۔ سنہا نے کہا کہ پنچایتی راج نظام جموں و کشمیر کے لیے ایک نئی صورت حال ہے اور اسے بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، "ہم ایک سال میں اس میں بہتری کی توقع نہیں کر سکتے"،میں یہ ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ اسے بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے شکر گزار ہیں جن کی ہدایت پر تین درجہ پنچایتی راج قائم کیا گیا۔"مجھے خوشی ہے کہ لوگوں نے بڑی تعداد میں اس مشق میں حصہ لیا اور یہ کہ ایک منصفانہ اور تشدد سے پاک انداز میں منعقد کیا گیا۔ رائے شماری گزشتہ چند اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات سے کہیں زیادہ تھی۔بدعنوانی کے خلاف انتظامیہ کی لڑائی کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ اگرچہ یو ٹی کو وراثت میں کچھ مسائل درپیش ہیں ، وہ یقین نہیں کر سکتے کہ ایک یا ایک سال میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔"لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج جموں و کشمیر کے لوگوں کو خرچ ہونے والے ہر روپے کا حساب دیا جا رہا ہے۔