دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،پیر پنچال میں فوج الرٹ پر:جی اوسی
سمت بھارگو
راجوری // سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور کسی بھی ممکنہ دشمنانہ کارروائی کا بھرپور اور فوری جواب دینے کی تیاری ظاہر کی گئی ہے۔ایس آف سپیڈز ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میجر جنرل کوشک مکھرجی نے پیر کے روز راجوری میں منعقدہ ‘راجوری ڈے‘تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ فوج ہر وقت چوکنا ہے اور سرحدوں پر کسی بھی خطرے سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مستقبل میں بھی پیر پنجال خطے کے عوام، سول انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کے درمیان قریبی تال میل برقرار رکھا جائے گا تاکہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ہر سطح پر ناکام بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج سرحدوں کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار ہے اور دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔میجر جنرل مکھرجی نے اس موقع پر مقامی آبادی کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ جب فوج سرحدوں پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتی ہے تو مقامی لوگ بھی شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اندرونی سلامتی کو مضبوط بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور فوج کے درمیان اعتماد، اشتراک اور حب الوطنی کا جذبہ ہی اس خطے کی سب سے بڑی طاقت ہے، جو کسی بھی بیرونی خطرے کے مقابلے میں ڈھال کا کام کرتا ہے۔تقریب کے دوران 1947ـ48 کے تاریخی پس منظر کو بھی یاد کیا گیا، جب راجوری ضلع کو درانداز افواج سے آزاد کرانے کیلئے متعدد فوجیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ اس موقع پر اْن شہدا کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا جن کی قربانیوں کی بدولت آج یہ خطہ محفوظ ہے۔میجر جنرل مکھرجی نے ‘آپریشن سندور‘ کے دوران مارے جانے والے افسران اور جوانوں کو بھی یاد کیا اور ان کی خدمات کو سلام پیش کیا۔ انہوں نے ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنر راج کمار تھاپا، صوبیدار میجر پون کمار، حوالدار سنیل کمار، لانس نائک دنیش کمار اور اگنی ویر منڈ مرلی نائک کے نام خصوصی طور پر لئے، جنہیں بعد از مرگ سینا میڈل سے نوازا گیا۔فوجی افسر نے اپنے خطاب میں نہ صرف سکیورٹی پہلوؤں پر روشنی ڈالی بلکہ خطے کی سماجی و معاشی ترقی کیلئے فوج کی جانب سے شروع کی جا رہی نئی سکیموں کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔
سرحدی تعلقات مضبوط بنانے کیلئے شہری فلاحی اقدامات کا اعلان
فوج انٹر لاکنگ ٹائلز بنانے کا ایک پلانٹ قائم کرے گی،ڈیجیٹل بھارت درشن پروگرام بھی ہوگا
فوج انٹر لاکنگ ٹائلز بنانے کا ایک پلانٹ قائم کرے گی،ڈیجیٹل بھارت درشن پروگرام بھی ہوگا
سمت بھارگو
راجوری//فوج نے پیر کے روز جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں میں شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اور سکیورٹی فورسز اور مقامی برادریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے فلاحی اقدامات کا ایک جامع پیکیج پیش کیا۔یہ اعلانات جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) ایس آف سپیڈز ڈویژن میجر جنرل کوشک مکھرجی نے راجوری ڈے کی تقریبات سے خطاب کے دوران کیے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرامز راجوری اور پونچھ کے سرحدی اضلاع میں سول انتظامیہ کے تعاون سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔ترقی اور آپریشنل معاونت کے دوہرے نقطۂ نظر پر زور دیتے ہوئے جی او سی نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف مقامی آبادی کے لیے فائدہ مند ہوں گے بلکہ ایل او سی پر تعینات فوجیوں کے لیے بھی مختلف طریقوں سے مددگار ثابت ہوں گے۔ماحولیاتی مسائل پر بات کرتے ہوئے میجر جنرل مکھرجی نے پلاسٹک آلودگی کو راجوری ضلع کا ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فوج سول انتظامیہ کے اشتراک سے پلاسٹک کچرے کو ری سائیکل کر کے انٹر لاکنگ ٹائلز بنانے کا ایک پلانٹ قائم کرے گی۔ ان ٹائلز کو ایل او سی کے اگلے علاقوں میں راستوں کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے گا، جس سے فوجی نقل و حرکت بہتر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف پلاسٹک کچرے میں کمی لائے گا بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا اور دشوار گزار علاقوں میں فوج کی لاجسٹک نقل و حرکت کو بھی بہتر بنائے گا۔تعلیم کے شعبے میں فوج نے’’ڈیجیٹل بھارت درشن‘‘کے نام سے ایک جدید پروگرام شروع کیا ہے جو خاص طور پر سرحدی اضلاع کے سرکاری اسکولوں کو ہدف بناتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت طلبہ ہر ماہ ایک اہم شہر کو اپنی کلاس روم سے ورچوئل طور پر دیکھ سکیں گے اور ملک بھر کی ترقی اور مواقع سے آگاہی حاصل کریں گے۔جی او سی نے کہا کہ یہ پروگرام پہلے کے بھارت درشن ٹورز کا جدید ورژن ہے، جو محدود طلبہ تک ہی محدود تھے۔ڈیجیٹل بھارت درشن کے ذریعے ہر طالب علم کو ورچوئل رسائی حاصل ہوگی، جس سے دور دراز سرحدی علاقوں اور مرکزی شہری علاقوں کے درمیان خلا کم ہوگا۔عہدیداروں کے مطابق یہ اقدامات فوج کے جامع ترقی، ماحولیاتی پائیداری اور سرحدی برادریوں کے ساتھ گہرے روابط کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ اس سے اسٹریٹجک طور پر حساس علاقوں میں آپریشنل کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔
راجوری ڈے عقیدت اور جوشِ حب الوطنی کے ساتھ منایا گیا
عظمیٰ نیوزسروس

راجوری//جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری میں راجوری ڈے پورے احترام اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ منایا گیا، جہاں ایس آف اسپیڈز ڈویژن نے 1947۔48کی تاریخی آزادی کے دوران فوجیوں اور عام شہریوں کی قربانیوں اور بہادری کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریبات کی قیادت کی۔یہ دن راجوری کے لیے نہایت تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ 13 اپریل 1948 کو شدید لڑائی کے بعد بھارتی فوج نے مقامی شہریوں کے تعاون سے اس علاقے کو پاکستانی افواج اور باغی عناصر سے آزاد کرایا تھا۔ 1947 کے بعد ہزاروں شہریوں نے اس حملے کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جس کے باعث یہ موقع جرات، استقامت اور اتحاد کی علامت بن گیا۔تقریبات کا آغاز گجر منڈی چوک اور راجوری وار میموریل پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی پُر وقار تقریب سے ہوا، جہاں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔اس موقع پر ممتاز فوجی رہنماؤں بریگیڈیئر محمد عثمان اور لیفٹیننٹ رام رگھوپا رانے کو بھی خصوصی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے راجوری کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) ایس آف اسپیڈز ڈویژن میجر جنرل کوشک مکھرجی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ ان کے ہمراہ ڈی آئی جی پولیس سندیپ وزیر، ڈی آئی جی بی ایس ایف سی ایم ایس راوت، ضلع مجسٹریٹ راجوری ابھیشیک شرما، ایس ایس پی راجوری گورو سیکرور اور دیگر سینئر افسران، سول انتظامیہ کے اہلکار اور سول سوسائٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے امن و ہم آہنگی کے لیے خصوصی دعائیں کیں، جو علاقے کے باہمی اتحاد کی عکاسی کرتی ہیں۔ تقریب میں بھارتی فوج، جموں و کشمیر پولیس، بی ایس ایف، سی اے پی ایف اور مقامی لوگوں کی بھرپور شرکت دیکھی گئی، جس سے سول-ملٹری تعاون کا شاندار مظاہرہ ہوا۔تقریب کو مزید رنگین بنانے کے لیے مختلف پروگرامز منعقد کیے گئے، جن میں جموں و کشمیر پولیس کا پائپ بینڈ پرفارمنس، بی ایس ایف کا روایتی سلامی پروگرام اور ڈاگ شو شامل تھے۔ مختلف تعلیمی اداروں، بشمول ویلی ویو آرمی پبلک اسکول، کے طلبہ نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ثقافتی پروگرام پیش کیے، جبکہ فوجی اہلکاروں نے مال کھمب اور دیگر مہارتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔آپریشن سندور پر خصوصی آڈیو ویژول پریزنٹیشن بھی پیش کی گئی جس میں ڈیوٹی کے دوران جان قربان کرنے والے بہادر افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جن میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر راجوری ڈاکٹر راج کمارتھاپا بھی شامل تھے۔’راجوریز گاٹ ٹیلنٹ‘ جیسے پلیٹ فارمز اور ’شانِ پیر پنجال‘ کے تحت منعقدہ اعزازاتی تقاریب میں مقامی ہنرمندوں اور بہادری کے کارنامے انجام دینے والے افراد کو سراہا گیا۔انسانیت کے جذبے کے تحت خصوصی طور پر معذور افراد کو موٹرائزڈ سائیکلیں اور وہیل چیئرز فراہم کی گئیں تاکہ ان کی نقل و حرکت اور خودمختاری کو سہارا دیا جا سکے۔
راجوری ڈے پر نمایاں سماجی خدمت کا اعتراف
اجاز صدیقی کو ’شانِ پیر پنجال‘اعزاز سے نوازا گیا
اجاز صدیقی کو ’شانِ پیر پنجال‘اعزاز سے نوازا گیا
محتشم احتشام

راجوری//پیر پنجال کے پہاڑی خطے میں خدمت، اخلاص اور قومی یکجہتی کی ایک درخشاں مثال قائم کرتے ہوئے معروف سماجی کارکن اجاز صدیقی کو 78ویں یومِ راجوری کی پُروقار تقریب کے موقع پر فوج کی جانب سے باوقار اعزاز ’شانِ پیر پنجال پرشاستی پترا‘سے نوازا گیا۔یہ اعزاز ان کی طویل المدتی سماجی خدمات، عوامی فلاح و بہبود کے لیے غیر معمولی کاوشوں اور خطۂ پیر پنجال میں انسانی ہمدردی کے فروغ کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ اجاز صدیقی نے اپنی عملی جدوجہد اور بے لوث خدمت کے ذریعے نہ صرف مقامی آبادی کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں پیدا کیں بلکہ فوج اور عوام کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی کو بھی مستحکم کیا۔تقریب کے دوران فوجی حکام نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اجاز صدیقی کی انتھک محنت، جرات مندانہ اقدامات اور سماجی وابستگی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی شخصیت اتحاد، اخوت اور ایثار کی عملی تصویر بن کر ابھری ہے، جس نے پورے خطے میں بھائی چارے اور باہمی تعاون کے جذبے کو فروغ دیا۔یہ اعزاز نہ صرف اجاز صدیقی کی ذاتی کامیابی کا مظہر ہے بلکہ پورے پیر پنجال خطے کے لیے باعثِ فخر لمحہ بھی ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی اجاگر ہوتی ہے کہ فوج اور عوام کے باہمی اشتراک سے ایک مضبوط، پرامن اور جامع معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔