عظمیٰ نیوزسروس
نئی دہلی//حج کمیٹی آف انڈیا نے عالمی سطح پر ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر اس سال فی عازم حج ہوائی کرایہ میں 10 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا ہے، جبکہ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ سخت مذاکرات کے ذریعے اس اضافے کو محدود رکھا گیا ہے۔حج کرایہ میں اس اضافے پر اپوزیشن رہنماؤں نے تنقید کرتے ہوئے اسے’’ناانصافی‘‘قرار دیا ہے۔حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر وزارتِ اقلیتی امور نے حج 2026 کے لیے ہوائی کرایہ میں ایک مرتبہ نظرثانی کی منظوری دی ہے۔سرکلر کے مطابق، نئے کرایے کے تحت ہر عازم کو اضافی 100 امریکی ڈالر ادا کرنے ہوں گے، چاہے وہ کسی بھی روانگی مقام سے سفر کرے۔ اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ایئرلائنز نے اے ٹی ایف قیمتوں میں اضافے کے باعث بنیادی کرایے میں 400 ڈالر تک اضافے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر غور و خوض اور مشاورت کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا۔اسی کے تحت تمام عازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 15 مئی تک 10 ہزار روپے اضافی جمع کریں۔
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن ریجیجو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘پر کہا کہ بے شمار خاندانوں کے لیے حج زندگی میں ایک بار پورا ہونے والاخواب ہوتا ہے، اور وہ اس جذبے کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث ایئرلائنز نے 300 سے 400 ڈالر اضافے کا مطالبہ کیا تھا، جو کسی حد تک جائز بھی تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے اس اضافے کو صرف 100 ڈالر تک محدود رکھا، جس سے ہر عازم کو 200 سے 300 ڈالر کی بچت ہوئی۔وزارتِ اقلیتی امور نے کہا کہ یہ فیصلہ شفاف طریقے سے اور نیک نیتی کے ساتھ کیا گیا ہے تاکہ حج 2026 کے انتظامات میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔وزارت نے مزید کہا کہ ایئرلائنز نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث اے ٹی ایف قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے فی عازم 300 سے 400 ڈالر اضافی مانگے تھے، جو کسی بھی حکومت کے قابو سے باہر عالمی مسئلہ ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ وزارت نے صرف 100 ڈالر اضافے کی منظوری دی، جس سے عازمین پر زیادہ بوجھ نہیں پڑنے دیا گیا۔ادھر اپوزیشن نے اس فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ حج کمیٹی کے اس سرکلر کو واپس لیا جائے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ روانگی سے عین قبل عازمین سے مزید 10 ہزار روپے وصول کرنا’’کھلی ناانصافی‘‘ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مکمل کرایہ پہلے ہی طے ہو چکا تھا تو آخری وقت میں اضافہ کیوں کیا گیا۔وزارت نے کہا کہ وہ ہر ہندوستانی مسلمان کے لیے حج کو آسان اور قابلِ استطاعت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔