عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//دریائے جہلم اور اس سے منسلک چینلز میں چلنے والی ہائوس بوٹس کی تعداد پچھلے 200 سے زیادہ سالوں کے دوران بہت کم ہو کر اس وقت صرف 60-70 کے قریب رہ گئی ہے، جس سے روایتی شعبے کی بقا کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔ہائوس بوٹ اونرز ایسوسی ایشن چیئرمین منظور احمد پختون نے کہا کہ یہ کمی وقت کے ساتھ ساتھ 130 سے زائد ہائوس بوٹس کے نقصان کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈیٹا میں ڈل جھیل شامل نہیں ہے اور اس میں جہلم، چونٹی کوہل اور ڈل گیٹ کے قریب کے علاقے شامل ہیں۔ پختون نے کہا کہ صرف تسونی کول سٹریچ میں کسی زمانے میں تقریباً 100-150 ہائوس بوٹس تھے، لیکن اب یہ تعداد بمشکل 40 تک آ گئی ہے۔ “ان میں سے بھی، بہت سے غیر فعال ہیں،” ۔انہوں نے کہا کہ “بہت سے ہائوس بوٹس کو وقت کے ساتھ نقصان پہنچا، کچھ آتشزدگی کے واقعات میں ضائع ہو گئے، جبکہ دیگر کی رجسٹریشن ختم کر دی گئی ‘‘۔پختون نے کہا کہ 100 سے زائد ہائوس بوٹ مالکان نے پانی کی نقل و حمل کے مجوزہ اقدامات سے قبل نقل مکانی پر رضامندی ظاہر کی تھی، اور ان کے کیسز پر تمام رسمی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اب بھی زمین کی الاٹمنٹ کا انتظار ہے۔”