بانڈی پورہ//شہرہ آفاق ولرجھیل کی شان رفتہ بحال کرنے کاکام اگرچہ کئی برسوں سے جاری ہے تاہم مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جھیل کی ڈرجنگ کے دوران ان کے مفادات کاخیال رکھا جائے۔ولرجھیل میں ہائیڈرو ڈرجنگ شروع کئے جانے کے بعدمثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ۔جھیل کے لگ بھگ ڈیڑھ کلومیٹر مربع رقبے کوصاف کیا گیا ہے اور تین کلومیٹر مربع رقبے پر نوبھاری بھرکم ڈرجنگ مشینیں کام پر لگی ہے۔ریچ لمیٹڈ ماہرکمپنی کو ولر کنزرویشن اینڈمنیجمنٹ اتھارٹی کے تحت ٹینڈر جاری ہونے کے بعد کام تفویض ہوا ہے۔200کروڑروپے کے لاگت والے پروجیکٹ کاافتتاح اس وقت کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے ہاتھوں2012میں ہوا،لیکن مرکزی حکومت کی طرف سے رقومات واگزار نہ کئے جانے کی وجہ سے کام میں رخنہ پڑا۔ابتدائی مرحلے میں جھیل ولر کی اراضی کی نشاندہی کا کام مکمل کیا گیااور چار لاکھ بھید اوردیگراقسام کے درختوں کو کاٹنے کومنطوری دی گئی،جووکوماکو سونپی گئی۔ ولرکنزرویشن اینڈمنیجمنٹ اتھارٹی کے انچارج شمالی زون کشمیرکے کنسرویٹرعرفان رسول وانی اورکارڈنیٹر مدثراحمد نے کشمیرعظمیٰ کوبتایا کہ نیلامی کے بعد 99192درختوںکوکاٹنے کا کام ہورہاہے اورٹھیکیداراس کام میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ جھیل میں ڈرجنگ کاکام 2020سے ہورہا ہے اور اب تک اس پر75کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں ۔ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمدکی ہدایت پر حال ہی میں جوائنٹ ڈائریکٹر پلاننگ امتیازاحمدکی سربراہی میں ایک ٹیم نے کام کا جائزہ لینے کیلئے دورہ کیااورمنصوبے پر پورہے کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔اس ٹیم میں ڈوژنل فارسٹ افسربانڈی پورہ شبیر احمد بٹ،ٹورسٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حاکم اور ولرکنزرویشن اینڈمنیجمنٹ اتھارٹی افسراں شام تھے۔اس ٹیم نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ولر جھیل میں ڈریجنگ کا کام شدومد سے جاری ہے ۔اس سے ولر جھیل کے آس پاس لوگوں کو بھی فائدہ ملنے والا ہے لیکن جھیل ولر کے کنارے آباد لوگوں نے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ڈریجنگ سے لوگوں کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ ڈرجنگ سے پانی کی نکاسی بند ہوگئی ہے۔ بارش کے دوران بستیاں زیرآب آسکتی ہیں۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ ہم تعاون دے رہے ہیں لیکن ہمارے مفادات کا خیال رکھا جائے ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ ڈرجنگ کی مٹی کوکھیتوں میں ڈالا جارہا ہے ۔ہمارا ایک ڈرینیج کٹ بانیاری پمپ سٹیشن سے آرہا ہے ۔اس ڈرینیج کٹ سے ہماری کھیتوں کی سینچائی ہورہی ہے لیکن اس درنیج کٹ میں بھی ڈرجنگ کی مٹی ڈالی جارہی ہے، جسے پمپ سٹیشن بیکار ہونے کا احتمال ہے ۔لوگوں کے خدشات پر میں ولرکنزرویشن اینڈمنیجمنٹ اتھارٹی حکام نے کہا کہ ولر پروجیکٹ لوگوں کے فائدے کے لیے ہے ۔اس پر بہت سارا کام ہونا باقی ہے اورمستقبل میں ولر بلیوارڈبھی تعمیر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ان کے مفادات کا خاص خیال رکھا جارہا ہے ۔