زندگی رب کائینات کی ایک عطا کی ہوئی ایک نعمت ہے۔یہ ﷲ تعالی کی طرف سے ہمارے پاس ایک امانت ہے اور ہمیں اس عظیم امانت کی خیانت نہیں کرنی چاہئیے۔ہمیں یہ یاد رہنا چاہئیے کہ ایک دن ہمیں یہ امانت ﷲ کو واپس کرنا ہے۔ اس زندگی کے کچھ مرحلے(Stages) مرحلے ہوتے ہیں : (1)بچپن ۔اس عمر میں ایک بچہ کھیلنے کودنے میں مسروف ہوتا ہے(2)جوانی ۔اس عمر میں ایک جوان سر پر آسمان لے کر پھرتا ہے(3)بڑھاپا۔اس عمر میں ایک انسان پچھتاوے میں ہوتا ہے۔کاش میں نے نوجوانی میں کوئی اچھا کام کیا ہوتا۔ قیامت کے دن اس نوجوانی کے متعلق سوال کیا جائے گا۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت ا بن مسعود سے وہ نبی کریم ؐسے راوی فرمایا:’’ قیامت کے دن انسان کے قدم نہ ہٹیں گے حتی کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال کیا جاوے گا، اس کی عمر کے بارے میں کہ کس چیز میں خرچ کی اور اس کی جوانی کے متعلق کہ کس کام میں گزاری، اس کے مال کے متعلق کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ‘‘۔ (ترمذی)اگر ہم اس حدیث شریف پر غور ر فکر کریں گےتواس میں فرمایا گیا ہے کہ زندگی کے متعلق ایک سوال کیا جائے گا اور جوانی کے متعلق الگ سے ایک سوال ہوگا۔اگر ہم جوانی میں بھلائی کا کام کریں گے تو اس کا اثر بڑھاپے تک رہے گا۔اب اگر ہم خدا نخواستہ جوانی غلط کاموں میں گزاریں گے، اس کا اثر بھی بڑھاپے تک رہے گا۔جب ہمیں یہ سوال پوچھا جائے گا کہ تم نے جوانی کن کاموں میں گزاری؟ فحاشات میں گزاری یا اپنے رب کی عبادت میں؟تو ہم کیا جواب دیں گے؟ نوجوانی زندگی کا ایک سنہری مرحلہ(Golden period)ہوتا ہے۔اس میں ایک انسان کی زندگی بن بھی سکتی ہے اور بگڑ بھی سکتی۔تاریخ گواہ ہے کہ اس دنیا میں آج تک جو بھی انقلابات رونما ہوئے ہیں,ان میں نوجوانوں کا ایک اہم رول رہا ہےاور ہم یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ وہ انقلابات نوجواں نے ہی لائے ہیں۔قرآن کریم میں ایک مشہور واقع آیا ہے یعنی اصحاب کہف کا واقعہ ،ان کے متعلق قرآن مجید میں آیا ہے کہ وہ چند نوجوان تھے۔اس واقع سے ہمیں ان چند نوجوانوں کی ایمان کی مضبوطی نظر آتی ہے۔نوجوان قوم کا ایک عظیم سرمایہ ہوتا ہے اور قوموں کے عروج و زوال کا دارومدار اسی عظیم سرمایہ پر ہوتا ہے۔ہمارے رہبر کامل حضرت محمد صلیﷲ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ میں اپنا نام کمایا تو اس وقت آپؐنوجوان ہی تھے۔ نوجوانی کی عمر میں ایک انسان وہ کچھ کرسکتا ہے جو باقی پوری زندگی میں نہیں کرسکتا ہے۔اعلان نبوت کے ابتدائی دور میں حضوراکرمؐ نے اپنے عزیز و اقاریب کے لئے ایک دعوت کا اہتمام کیا۔جب سب عزیز و اقاریب دعوت پر آئے تو آخر میں حضوراکرمؐ نے اسلام کی دعوت پیش کی۔پورے مجموعے میں سے صرف ایک نوجوان نے اس دعوت پر لبیک کہا،اور وہ تھےحضرت علیؓ،جو اس وقت کمسن تھے،بعد میں اسی نوجوان نےخیبر میں اسلام کی علم لہرائی۔آج ہمارے نوجوان اپنی نوجوانی کہاںصرف کرتے ہیں،کن کاموں میں اپنی جوانی ضائع کرتے ہیں۔ بُرائیوں اور خرابیوںمیں پڑے ہوئے ہیں۔ہماری وادی میں نشہ آور چیزوں کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہےجس میں ہماری جوجوان نسل پوری طرح ملوث ہورہی ہے۔اگر ہم اپنی جوانی اُسی طرح گزارتے، جس طرح ہمارے اسلاف نے گذاری تھیںتو واقعی اس روئے زمیں پر اسلام کا بول بالا ہوتا۔اﷲ تعالی کو نوجوانی کی عمر میں عبادت کرنا بہت زیادہ پسند ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ (ترجمہ(:’’حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ا نے فرمایا: سات آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے (عرش) کے سائے میں جگہ دے گا، جس دن کہ اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک نوجوان چاہے تو زندگی میں ہی قیامت کے دن کے لئے خدا کے سایہ کا حقدار بن سکتا ہے مگر ہائے افسوس!ہم اسی عمر میں اُن کاموں میں پڑ جاتے ہیں جن سے ہم اپنے لئے عذاب تیار کرتے ہیں۔ بیسویں صدی عیسوی کے عظیم مفکر مولانا سید ابو علی مودودیؒ نے جب تصنیف و تالیف کا کام شروع کیا تو اس وقت اُستاد سید مودودی نوجوانی کے بلکل ابتدائی مرحلے میں تھے۔پھر پورے دنیا نے دیکھا کہ اس نوجوان نے دین اسلام کی کتنی خدمت کی اور آج بھی کتنے نوجوان ان کی فکر سے راہ راست پر آجاتے ہیں۔ ایک نوجوان وہ عظیم انقلاب پیدا کرسکتا ہے،جس کے لئے ملت صدیوں سے تڑپ رہی ہے۔نوجوان قوم کا وہ ہتھیار ہوتا ہے جس کو دنیا کا کوئی سپر پاور(Super power)ملک بھی شکست نہیں دے سکتا ہے مگر شرط ہے صحیح سوچ و فکر۔صحیح سوچ و فکر والے نوجوان قوم کے مستقبل کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔جوانی کی قدر تب سمجھ آتی ہے جب ایک انسان سے یہ سنہری مرحلہ رخصت لیتا ہے۔جب ایک انسان نوجوانی کی عمر میں غلط کاموں میں لگ جاتا ہے،تو اس کے جسم سے نوجوانی میں ہی بڑھاپے کے آثار نمایا ہوجاتے ہیں۔ آج کے نوجوانوں میں آرام طلبی ،سستی و کاہلی بہت زیادہ نظر آتی ہے۔ہم اس وقت بھی اپنی زندگی بدل سکتے ہیں۔اگر نوجوانی کے دو یا تین سال ضائیع بھی ہوئے،پھر بھی اگر ہم عہد کرینگے تو ہم دوبارہ اپنی صحیح ڈگرپر آسکتے ہیں۔نااُمیدی کو چھوڑ کرا ﷲ کی بارگاہ میں توبہ کرکےنئےسفر کا آغاز کرسکتے ہیں۔
ایسو شانگس اسلام آباد۔ 9149897428