ایجنسیز
سانیا (چین)/جنگ کے اثرات کے باوجود ایران کا دستہ چھٹے ایشین بیچ گیمز میں شرکت کے لیے مقررہ وقت پر سانیا پہنچ گیا، جس نے کھیل کے ذریعے امن اور حوصلے کا پیغام دیا۔ایرانی نیشنل اولمپک کمیٹی کے سیکریٹری جنرل مہدی علی نژاد نے کہا کہ جنگ نے تمام منصوبوں کو متاثر کیا، لیکن اس کے باوجود چین آنا ضروری تھا تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ ایران زندہ ہے اور اس کے کھلاڑی اب بھی مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سانیا، چین کے صوبہ ہینان میں جاری ان گیمز کا آغاز بدھ کو ہوا، جہاں تقریباً 100 رکنی ایرانی دستہ تمام مشکلات کے باوجود شریک ہوا۔ پروازوں کی معطلی اور تربیتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کے باوجود ٹیم نے شرکت یقینی بنائی۔مہدی علی نژاد کے مطابق ٹیم نے چھ ماہ قبل تیاری شروع کی تھی، لیکن جنگ کے باعث حالات یکسر بدل گئے ۔ چین اور ایران کے درمیان پروازیں اور ڈاک کا نظام معطل ہونے کی وجہ سے کھلاڑیوں کو ایکریڈیٹیشن کارڈز بھی بروقت نہیں مل سکے ۔
انہوں نے بتایا کہ تہران سے سانیا تک سفر دو دن سے زائد پر محیط رہا، جس میں پہلے سڑک کے ذریعے ترکمانستان سرحد تک جانا پڑا، پھر اشک آباد سے بیجنگ اور وہاں سے سانیا پہنچے ۔افتتاحی تقریب میں ایرانی دستے نے سینے پر ہاتھ رکھ کر مارچ کیا، جو جنگ میں جاں بحق اور متاثرہ افراد سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر تھا۔مسٹر علینژاد نے انکشاف کیا کہ جنگ کے دوران تہران کا سب سے بڑا اسٹیڈیم تباہ ہوگیا اور 100 سے زائد ایرانی کھلاڑی جاں بحق ہوگئے ، جن میں کئی نوجوان بھی شامل تھے ۔انہوں نے مزید کہا کہ کھیل کے ذریعے ایران امن، دوستی اور اتحاد کا پیغام دینا چاہتا ہے ، اور خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں کھیل اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ایونٹ کے ایک میچ میں ایران نے بیچ سوکر میں متحدہ عرب امارات کو 2-5 سے شکست دی، جسے علی نژاد نے محدود تیاری کے باوجود ٹیم کی صلاحیتوں کا ثبوت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ایران، سعودی عرب اور یو اے ای سب امن اور دوستی کے لیے یہاں موجود ہیں، اور کھیل ہی وہ ذریعہ ہے جو خطے میں مثبت پیغام پہنچا سکتا ہے ۔