تل ابیب// اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے واضح طور پر غزہ میں جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے اسے حماس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے جنگ بندی کے مطالبے کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا مطالبہ حماس اور دہشت گردی کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ ہے۔نیتن یاہو نے غیرملکی میڈیا کو بتایا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ اسرائیل یہ جنگ جیتنے تک لڑے گا۔ یہ جنگ حماس کو ختم کر دے گی، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ گروپ دوبارہ حملہ نہ کر سکے۔واضح رہے کہ حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں 14 سو سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوئے اور 230 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا۔ اس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے کیے اور پھر زمینی کارروائی کا آغاز کیا۔ غزہ میں شہادتوں کی تعداد آٹھ ہزار پانچ سوسے تجاوز کر چکی ہے۔اسرائیلی فوج نے غزہ میں زمینی دستوں کی سرگرمیوں کو بڑھا دیا ہے خطیمیں شدید جھڑپیں جاری تھیں، اسرائیل نے اعلان کیا کہ اس کے 9 فوجی مارے گئے اور ان میں سے 4 شدید زخمی ہوئیغزہ کی پٹی اسرائیل کے فضائی، زمینی اور سمندری حملوں کی زد میں ہے۔اسرائیلی فوج نے غزہ میں زمینی دستوں کی سرگرمیوں کو بڑھا دیا ہے خطیمیں شدید جھڑپیں جاری تھیں، اسرائیل نے اعلان کیا کہ اس کے 9 فوجی مارے گئے اور ان میں سے 4 شدید زخمی ہوئے۔اسرائیل نے غزہ کے شمال میں 13 اسپتالوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور نے ایک بیان دیا کہ ہسپتالوں کو خالی کرنے کے حکم پر عمل درآمد سزائے موت ہو گا۔