عظمیٰ نیوز سروس
راجوری //ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں شوق سے کھائی جانے والی جنگلی سبزی لونگڈی یا گیوتھیر بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ راجوری ضلع میں پیش آئے حالیہ افسوسناک واقعہ کے بعد طبی ماہرین نے عوام سے غیر شناخت شدہ جنگلی پودوں کے استعمال میں احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔اطلاعات کے مطابق موسم بہار اور اوائل گرما میں جنگلاتی علاقوں سے مختلف اقسام کے فرن جمع کئے جاتے ہیں جنہیں وادی اور جموں خطے کے کئی علاقوں میں بطور سبزی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جنگلی سبزیاں دیہی علاقوں کے علاوہ شہری بازاروں، بشمول سری نگر، میں بھی فروخت ہوتی ہیں تاہم ماہرین کے مطابق بعض اقسام میں قدرتی زہریلے اجزا موجود ہوتے ہیں اور ان کی غلط شناخت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
ماہرین نے خاص طور پر ”ڈرائیوپٹرس فلیکس ماس” نامی فرن کا ذکر کیا ہے جسے مقامی زبان میں لونگڈی یا گیوتھیر کہا جاتا ہے۔ اس پودے میں فلیسن سمیت کئی زہریلے مرکبات پائے جاتے ہیں جو شدید زہر خورانی اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بن سکتے ہیں۔گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے سربراہ اور چیف ایپیڈیمیالوجسٹ ڈاکٹر شجاع قادری نے کہا کہ اس پودے کے استعمال سے ابتدا میں متلی، الٹی، پیٹ درد اور اسہال جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں، جس کے بعد اعصابی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدید صورتوں میں مریض کو چکر آنا، کپکپی، دورے پڑنا، بینائی متاثر ہونا، یرقان، دل یا سانس کی ناکامی حتیٰ کہ کوما اور موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر قادری کے مطابق ماضی میں اس پودے کو ادویاتی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جاتا تھا، تاہم اس کے مضر اثرات کے باعث اب اسے اندرونی استعمال کے لئے غیر محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غلط طریقے سے پکائے گئے یا زہریلے فرن کے استعمال سے جان جانے کا خطرہ رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کھانے کے قابل فرن اور زہریلی اقسام ظاہری طور پر ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث لوگ غلطی سے خطرناک پودا جمع کر لیتے ہیں۔حال ہی میں راجوری کے کوٹرنکہ علاقے کے موڑہ دراج گاؤں میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد نے دوپہر کے کھانے میں یہی جنگلی فرن استعمال کیا، جس کے فوراً بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ متاثرین میں شدید معدے اور اعصابی علامات ظاہر ہونے پر انہیں سی ایچ سی کنڈی سے گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری منتقل کیا گیا۔اس واقعہ میں تقریباً 60 سالہ ایک شخص کی موت واقع ہوگئی جبکہ دیگر سات مریضوں کو علاج کے بعد نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ڈاکٹر شجاع قادری نے بتایا کہ محکمہ صحت، ضلع انتظامیہ اور پولیس کے اشتراک سے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور نمونے ٹاکسیولوجیکل و فارنسک جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر شناخت شدہ جنگلی جڑی بوٹیوں اور پودوں کے استعمال سے گریز کریں اور کسی بھی مشتبہ علامت کی صورت میں فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔