جموں//گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے جموں یونیورسٹی کے شعبہ باٹنی کی طرف سے منعقدہ دو روزہ ’’ پلانٹ اینڈ فنگل ڈائیورسٹی ‘‘ پر قومی سیمنار کا افتتاح کیا ۔ اس موقعہ پر مشیر موصوف نے سائینس اور ماحولیات کو ترقی دینے کے سلسلے میں محققوں اور اساتذہ کے رول کی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کی بقاء کیلئے پودوں اور حیوانوں کا پھلنا پھولنا بہت ضروری ہے اور اُن کی پرداخت کیلئے کام کرنے کو ترجیح دی جانی چاہئے ۔ ریاست کے جنگلات کو ہو رہے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مشیر موصوف نے کہا کہ ریاست کے تمام تحقیقی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سبز سونے کی حفاظت یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ جنگلات کو ترقی دینے کے اقدامات پر زور دیں ۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ریاست کی یونیورسٹیاں اور زرعی ادارے جنگلات و ماحولیات و حیوانات کے تحفظ کیلئے منظم حکمتِ عملی ترتیب دیں ۔ انہوں نے جموں یونیورسٹی کے حکام کو یقین دلایا کہ حکومت اُن کے مستقبل کی کاوشوں کیلئے تمام ممکنہ امداد فراہم کرے گی ۔ انہوں نے اس سلسلے میں جموں یونیورسٹی بالخصوص شعبہ باٹنی کی کارکردگی کو سراہا ۔ خورشید گنائی نے ریاست میں سالڈ ویسٹ منیجمنٹ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں یونیورسٹی کو اس مقصد کیلئے سائینسی طور طریقے اپنانے چاہئیں ۔ آئی سی اے آر ۔ این بی پی جی آر نئی دہلی کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر جے ایل کاریہلو نے اپنے ایک خصوصی خطبے میں چاول ، سیب ، زعفران و دیگر فصلوں کی پیداوار و معیار پر روشنی ڈالی ۔ جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر منوج دھر نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ جموں یونیورسٹی نے حکومتِ ہند کے ڈیپارٹمنٹ آف بائیو ٹیکنالوجی کی مدد سے وادی کشمیر ، ہماچل پردیش اور اترا کھنڈسے لائے گئے 450 سیبوں کی قسموں پر ایک پروجیکٹ شروع کیا ہے ۔ اس موقعہ پر پروفیسر اے کے کول ، پروفیسر ایم سی شرما ، پروفیسر پی این لکھنپال ( شملہ ) ، پروفیسر اے ایس ایہلو والیہ ( پی یو ، چندی گڑھ ) ، ڈاکٹر ڈی کے اوپریتی ( این بی آر آئی ، لکھنو، ڈاکٹر راکیش وارگھو ( آئی سی اے آر ۔ سی آئی اے ایچ ، بیکا نئیر ) ، ڈاکٹر وکرما ( سی ایس آئی آر ۔ آئی آئی آئی ایم ) ، شعبہ باٹنی کے ریٹائیرڈ فیکلٹی ، مختلف یونیورسٹیوں کے ڈین اور سربراہان ، لائیف سائینسز کی فیکلٹی ، باٹنی کے پروفیسر صاحبان ، تحقیقی سکالر و دیگر طلاب اس موقعہ پر موجود تھے ۔