ایجنسیز
واشنگٹن//اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ میں شروع ہوئے مذاکرات ختم ہوگئے ہیں جس میں وہاں تعینات دونوں ممالک کے سفرا شامل ہیں۔ حالانکہ اس ملاقات کی تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی تاہم امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یخیل لیٹر نے جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے کوئی عزم ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں لبنانی سفیر نَدا حمادہ معوذ کے ساتھ اپنی ملاقات کو ’شاندار دو گھنٹے کی گفتگو‘ بتایا۔ یخیل لیٹر نے کہا کہ جہاں تک جنگ بندی کا تعلق ہے… ہم صرف ایک ہی چیز سے نمٹ رہے ہیں۔ میں نے یہ بہت واضح کردیا ہے کہ ہم اسرائیل کے باشندوں کی حفاظت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی اور لبنانی حکومتیں حزب اللہ کے حوالے سے عملی طور پر ایک طرف ہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان رسمی اور دوستانہ تعلقات بحال ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ پہلے کبھی اتنی کمزور نہیں تھی جتنی اب ہے۔ یخیل لیٹر نے مزید کہا کہ اسرائیلی لوگ صبح اْٹھ کر سرحد پار میزائلیں داغنے کی سوچ نہیں رکھتے۔ ہمارے شہریوں پر میزائلیں داغی جا رہی ہیں- اسے روکا جائے گا۔ ہم حزب اللہ کو اپنی آبادی والے علاقوں پر مسلسل میزائل فائر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔یخیل لیٹر نے مزید کہا کہ بات چیت میں کئی تجاویز اور مشورے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق یہ تجاویز اپنی اپنی حکومتوں کے سامنے رکھیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے آنے والے ہفتوں میں دوبارہ واشنگٹن میں ملاقات کریں۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان ان امن مذاکرات کی شروعات ہوئی ہے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان عارضی (کمزور) جنگ بندی نافذ ہے جسے صرف ایک ہفتہ ہی ہوا ہے۔