یو این آئی
لندن/سابق انگلش کپتان مائیکل وان اپنے بے باک تجزیوں کے لئے مشہور ہیں، لیکن اس بار انہوں نے جنوبی افریقہ کی “اسپورٹس مین شپ” یا حکمت عملی کے فقدان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔وان کا ماننا ہے کہ جنوبی افریقہ نے ویسٹ انڈیز کو ہرا کر دراصل ہندوستان کے لئے ورلڈ کپ جیتنے کا راستہ صاف کیا، اور اگر پروٹیز تھوڑی چالاکی دکھاتے تو ہندوستان سپر 8مرحلے میں ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو جاتا۔ وان کے مطابق بڑی ٹیموں کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں گنوانا چاہیے تھا، کیونکہ ایسی ٹیمیں واپسی کر کے خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ جنوبی افریقہ نے تو تمام میچ جیت کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی، لیکن وہاں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 9 وکٹوں کی عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بہترین ٹیم کو جلدی باہر کرنا ہی جیتنے کا طریقہ ہے۔
جنوبی افریقہ نے ہندوستان کو 76 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی تھی، جس کے بعد ہندوستان کی بقا کا دارومدار دوسرے میچوں کے نتائج پر تھا۔ جنوبی افریقہ نے احمد آباد میں ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر نہ صرف اپنی سیمی فائنل کی جگہ پکی کی بلکہ ہندوستان کو بھی ٹورنامنٹ میں زندہ رہنے کا موقع فراہم کر دیا۔ اس نتیجے کے بعد ہندوستان نے زمبابوے اور پھر کولکتہ میں ویسٹ انڈیز کو ہرا کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جہاں انہوں نے انگلینڈ کو دھول چٹائی اور آخر کار نیوزی لینڈ کو ہرا کر چیمپئن بن گئے۔ وان نے مزید کہا کہ اگر آپ ورلڈ کپ جیتنا چاہتے ہیں، تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ سب سے خطرناک ٹیم کو ابتدائی مراحل میں ہی باہر کر دیا جائے۔ ان کے مطابق جنوبی افریقہ نے موقع گنوا دیا اور خود سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے ہار کر باہر ہو گئے، جبکہ ہندوستان فاتح بن کر ابھرا۔اگرچہ وان کا یہ بیان اسپورٹس مین شپ کے خلاف لگ سکتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر اس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا ٹیموں کو ٹائٹل جیتنے کے لئے ایسی تزویراتی شکست کا سہارا لینا چاہیے؟