وسیم فاروق وانی
کمرے میں ہلکی سی زرد روشنی جل رہی تھی۔دیواروں پر وہ پرانی تصویریں آویزاں تھیں جن کے رنگ وقت کے ساتھ کچھ مدھم ہو گئے تھے۔۔۔
ایک تصویر میں باپ اپنے ننھے سے بیٹے کو گود میں لئے ہنس رہا تھااور بچہ باپ کے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکراتا نظر آرہا تھا۔
وہی باپ آج کھڑکی کے پاس کھڑا تھا…چپ سا، جیسے سانس بھی آہستہ لینے لگا ہو۔
بیٹے نے آتے ہی بیگ زور سے میز پر پھینکا۔اس کے قدموں میں ایک عجلت تھی، چہرے پر ناگواری کے آثار۔وہ سامنے آ کر رک گیا اور بغیر کسی تمہید کے بولا:
’’بابا، آپ کو میرے ہر کام میں صرف نقص ہی نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔آپ مجھے بار بار کیوں ٹوکتے ہیں؟
آپ کی یہ toxic interference میرے برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔میں اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینا چاہتا ہوں۔‘‘
یہ جملے ایسے تھے جیسے کانچ کی دھار دل پر رکھ دی گئی ہو۔باپ کا گلا خشک ہو گیا، لب تھر تھرائےاور آنکھوں میں ایک لمحے کو پوری روشنی بجھ گئی۔
وہ سامنے کھڑا نوجوان جس کے الفاظ میں سختی اور غرور گھل چکا تھا،وہی تو تھا جس کے ننھے قدموں کی چاپ کے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ کبھی تھکتا نہیں تھا۔وہی بچہ، جس کے معمولی بخار پر وہ ساری رات جاگ بیٹھتا تھا۔جس کی ہچکی پر بھی دل کانپ جاتا تھا۔جس کے لئے وہ اپنی قمیص کا دامن اٹھا کر رب کے آگے ہاتھ پھیلایا کرتا تھا۔
باپ نے بہ مشکل آواز نکالی:’’بیٹا… میں تو بس چاہتا ہوں کہ تُو محفوظ رہے۔دنیا کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں… جو ساری عمر ساتھ رہ جاتے ہیں۔میں نے وہ زخم دیکھے ہیں، بس چاہتا ہوں تو نہ دیکھے۔‘‘
بیٹا بیزاری کیساتھ منہ پھیر گیا۔
’’بابا، پلیز!
آپ ہر بات میں روک ٹوک کرتے ہیں۔مجھے سانس تک لینے نہیں دیتے۔یہ سب oldschool thinking ہے۔دراصل ہم دونوں میں جنریشن گیپ حائل ہوچکا ہے۔مجھے اپنی راہ پر چلنے دیں۔ میں بچوں کی طرح نہیں رہ سکتا اب۔‘‘
اپنی امی کی طرف منہ کر کے وہ بولا ’’ ماں!!! میں اس آدمی کو مزید برداشت نہیں کر سکتا ‘‘
کمرے میں چند لمحوں کے لیے سناٹا اُتر آیا۔صرف گھڑی کی ٹک ٹک باقی رہ گئی۔۔۔اور باپ کی خاموشی، جو ہر ٹک پر اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔
باپ نے ہونٹ کھولے، شاید کچھ کہنا چاہا،مگر الفاظ جیسے گلے میں پھنس گئے۔وہ آہستہ سے بیٹھ گیا،اپنی آنکھوں کے گوشے انگلی سے صاف کئے،اور یوں لگا جیسے برسوں کی تھکن ایک ہی پل میں کندھوں پر آ گئی ہو۔
چند ثانیے بعد بیٹے نے تیز قدموں سے دروازے کی طرف رخ کیا۔باہر جاتے ہوئے اس نے آخری بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔دروازہ بند ہوا تو جیسے کمرے سے ساری ہوا کھنچ گئی۔
باپ نے نظریں جھکا کر آہ بھری۔اس کے اندر ایک دبی ہوئی دعا پھوٹ پڑی:
’’اے اللہ…میری اولاد کو اپنی امان میں رکھ۔اگرچہ اُس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا،لیکن اس کے ہر قدم کے پیچھے میری دعا ضرور چلتی رہے…‘‘
ہوا کے ہلکے جھونکے سے دیوار پر آویزاں وہ پرانی تصویر ہلی۔۔۔وہ تصویر جس میں باپ اور بیٹا ایک دوسرے کو تھامے مسکرا رہے تھے۔اس تصویر کی مسکراہٹ جیسے حقیقت میں مرجھا گئی تھی۔باپ نے خالی آنکھوں سے اس دروازے کو دیکھنا شروع کیا،جہاں سے اس کا بیٹا
اپنی‘‘آزاد’’دنیا میں چلا گیا تھا۔اور وہ خود۔۔۔
اپنے زخموں، دعاؤں، اور خاموش تنہائی کے ساتھ وہیں رہ گیا۔
اس امید اور درد کے ساتھ کہ شاید کسی دن…ایک تھکا ہوا قدم واپس اسی دروازے سے اندر آ جائے۔
سرینگر ،کشمیر
موبائل نمبر؛8803003787