جموں //صوبہ جموں کی پہاڑیوں پر آجکل سیاحوں کی کافی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے ،جو میدانی علاقوں کی گرمی سے بچنے کے لئے صوبہ کے کم معلوم مقامات کی جانب متوجہ ہو ئے ہیں۔گُذشتہ کئی ہفتوں سے سیاحوں کی کافی بھیڑ پہاڑی قصبوں اور سیاحتی مقامات جیسے کہ بھدرواہ، پدری، کھنی ٹاپ، لال درمن ، سئیوج سیر گاہ، وادی چنتا، جائی وادی، پتنی ٹاپ، نتھا ٹاپ، سناسر، بٹوت، سرتھل، کشتواڑ، گلاب گڑھ میںدیکھی جا سکتی ہے۔ان میں سے بیشتر سیاح صوبہ جموں سے تعلق رکھتے ہیںجبکہ ہریانہ، دہلی اور پنجاب کے سیاحوں کو بھی جموںمیں سیاحتی مقامات کی کھوج میں دیکھا جا سکتا ہے۔ریاست میں براستہ پٹھانکوٹ۔ ڈلہوزی،بسوہلی۔بنی۔ بھدرواہ راستہ سے داخل ہونے والے سیاح خوبصورت مقامات جیسے کہ لوانگ، سرتھل ،چھتر گلہ ،گلڈندا اور تھنتھیرا کا لطف اُٹھا رہے ہیں۔ انتظامیہ نے بھاری رش کی پیشنگوئی کو مد نظر رکھ کر مناسب انتظامات کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ، مختلف مقامات کو جانے والی خراب سڑکوں سے غیر مطمئن ہیں۔ بھدررواہ میں جموں کے ایک سیاح روہت چودھری نے کہا ہے کہ قدرت نے بھدرواہ کو بیش بہا تحفے عطا کئے ہیں لیکن وقت کی سرکاریں ان کا صیح استعمال کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اُس نے مزید کہا کہ سیاحتی مقامات کو جانے والی سڑکیں نہایت ہی خراب ہیں،جن کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ،تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں سیاح بھدرواہ کی جانب وارد ہوں۔بھدرواہ اور پتنی ٹاپ کے ہوٹلوں میں بھاری رش ہے جسکی وجہ سے وہاں کے کمروں میں کرایہ میں بھی اضافہ ہو اہے۔گگوال، سانبہ کے ایک باشندے شبھم شرما نے کہا کہ میں ایک مارکیٹنگ نمائندہ ہوں اور گُذشتہ 6مہینوں سے اکثر ڈوڈہ۔بھدرواہ۔ کشتواڑ کا دورہ کرتا ہوں ۔ سال رواں میں میں نے اپنے کنبہ کوبھی پہاڑوں پر وقت گُذارنے کے لئے اپنے ساتھ لینے کا فیصلہ لیا تھا لیکن سیاحتی سیزن کے دوران ہوٹل کے کمروں کا کرایہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔مُجھے اس بار3500روپے میں ایک کمرہ دستیاب ہوا ،جبکہ وہی کمرہ اپریل کے مہینے میں1200روپے میں دستیاب ہوتا تھا ۔اُس نے کہا کہ سرکار کی محدود ایکموڈیشن بھی بھر گئی ہے ،جبکہ پرائیویٹ ہوٹل والوں کا کہنا ہے کہ ہمیں آج بھی بکنگ کی کالیں موصول ہوتی ہیںتاہم ہمارے پاس کمرے دستیاب نہیں ہیں جسکی وجہ سے ہم ان کی مانگوں کو پورا نہیں کر سکتے ہیں۔دریں اثنا ، مقامی لوگ بھی سیاحوں کو گھروں میں جگہ فراہم کرکے اپنی آمدنی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ڈائریکٹر محکمہ سیاحت سمیتا سیٹھی نے کہا ہے کہ ماضی میں جموں کے لوگ موسم گرما ہماچل پردیش ، اُترا کھنڈ میں گُذارنے کو ترجیح دیتے تھے لیکن محکمہ سیاحت نے صوبہ جموں میں بھی سیاحتی شعبہ کر ترقی دینے کے لئے صحت افزا مقامات پر تما م سہولیات دستیاب رکھی ہیں ،جسکی وجہ سے ریاست خصوصاً جموں کے لوگ جموں کے پہاڑی علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سوشل میڈیا پر ایک زور دار مہم شروع کر دی ہے اور لوگوں کو جموں کے پہاڑی علاقوں کی جانب دلچسپی لینے کی ترغیب دے رہے ہیں،جس کے خاطر خواہ نتائج بر آمد ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پتنی ٹاپ اور بھدرواہ کے ہوٹلوں میں بھاری رش دیکھنا باعث اطمینان ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں سیاح ان صحت افزا مقام کی جانب راغب ہو جائیں گے، جس سے مقامی آبادی کی اقتصادی حالت میں کسی حد تک سدھار آئے گا۔