سرینگر//مرکزی سرکار کی جانب سے 5اگست 2019کو دفعہ 370منسوخ کرنے کیساتھ ہی سابق ریاست جموں کشمیر میں نافذ العمل فاریسٹ ایکٹ بھی منسوخ کیا گیا، جس میں خاص طور پر جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اس میں جنگل سمگلروں پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق بھی شامل کیا گیا تھا۔5اگست 2019تک سابق ریاست جموں کشمیر میں فارسٹ ایکٹ مجریہ 1987نافذالعمل تھا اور جنگلات کے بے دریغ کٹائو کو روکنے اور اسکا تحفظ یقینی بنانے کی راہ میں جو بھی رکاوٹیں پیش آتی تھیں انہیں اسی قانون کا سہارا لیکر دور کیا جاتا تھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جنگل سمگلروں کے خلاف اسی قانون کے تحت پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق بھی کیا جاتا رہا ہے۔ جموں کشمیر فارسٹ ایکٹ میں 1987میں پبلک سیفٹی ایکٹ کی شق کو شامل کیا گیا تھا جس سے کسی حد تک جنگلات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکا۔سینکڑوں جنگل سمگلر سیفٹی ایکٹ کے تحت پابند سلاسل کئے گئے اور یوں دوسرے سمگلروں کیلئے وہ عبرت کا مقام بن گئے۔ خوف اور ڈر کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں نے غیر قانونی طور پر جنگل کاٹ کر لکڑی فروخت کرنے کا دھندہ ترک کیا اور وہ مین سٹریم میں آگئے۔31اکتوبر 2019کو جموں کشمیر تنظیم نو قانون کے اطلاق کے بعد جموں کشمیر فارسٹ ایکٹ سمیت200کے قریب سابق ریاستی قوانین منسوخ کئے گئے اور ان کی جگہ مرکزی قوانین کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔انڈین فارسٹ ایکٹ 1927،انگریزوں کے زمانے کا قانون ہے۔اسکے13چپٹر اور86سیکشن ہیں۔مرکزی قانون میںجنگلات کی تین قسمیں حفاظتی بندوبست والے جنگلات،دیہی جنگلات، محفوظ قرار دیئے گئے جنگلات بیان کی گئی ہیں۔سیکشن 26کے تحت مویشی و بھیڑ بکریاں چرانے، درختوں کی کٹائی، جنگلات کو جلانا، جنگلاتی علاقے میں کان کنی کرنا اور شکار کرنے کی ممانعت ہے۔اس سیکشن 26کے تحت خلاف ورزی کرنے پر 3ماہ سے لیکر 2سال کی قید یا پھر 50روپے سے لیکر 20ہزار تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے ۔اس قانون میں 1967میں ترمیم کی گئی اور5ہزار سے کم جرمانہ نہیں کی شق ختم کردی گئی۔اس قانون میں2019میں ترمیم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔لیکن ابھی اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر کی انتظامیہ انڈین فارسٹ ایکٹ مجریہ1927 میں ترامیم کیلئے مرکزسے رجوع کرسکتی ہے،تاکہ اس(مرکزی) قانون میں جنگل اسمگلروں کے خلاف ’پی ایس اے‘ شامل کرنے کی شق شامل کی جائے۔ مرکزی قانون کے اطلاق سے اگرچہ سیفٹی ایکٹ کا براہ راست اطلاق ہونا ممکن نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص جنگلاتی لکڑی کی لوٹ میں 3مرتبہ ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف پی ایس اے نافذ کیا جاسکتاہے۔کنزرویٹر فارسٹس نے بتایا کہ وہ خطرناک اور عادی جنگل اسمگلروں کے خلاف ڈوزئر تیار کرکے متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کو ان پر ’’ پی ایس اے‘‘ عائد کرنے کی سفارش کرسکتے ہیں،اور محکمہ ایسا کر بھی رہا ہے۔ لیکن گذشتہ 10برسوں کے سرکاری اعداد وشمار پر اگر نظر ڈالی جائے تو2009سے اکتوبر2019تک مجموعی طور پر پی ایس اے عائد کرنے میں جنگل اسمگلروں کی شرح5فیصد کے قریب ہے۔
مرکزی ایکٹ کی خرابیاں
اس ایکٹ میں بنیادی طور پر جنگلات کی زمین ، اس کی پیداوار اور افسران پر فوکس کیا گیا ہے جبکہ ایکٹ کے تحت حیوانات کے لئے کوئی تفصیلی دفعات موجود نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایکٹ انگریزوں کے زمانے میں ان کے شکار کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایاگیا تھا اور اس لئے اس نے جنگلات کی زندگی کے لئے الگ الگ قانون تشکیل نہیں دیا۔ تاہم ، 1972 میں مکمل طور پر ایک علیحدہ قانون سازی یعنی وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ نافذ کیا گیا۔ یہ ایکٹ اگرچہ جنگل کے رہائشیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہتا تھا ، لیکن یہ مقامی باشندوں کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا ۔ہندوستانی جنگلات ایکٹ ، 1927 ایک ترمیم شدہ جامع قانون ہے۔ اگرچہ اس ایکٹ نے جنگلات کی درجہ بندی کرنے اور ان کے وسیع استعمال کی حفاظت کرنے کی کوشش کی ہے لیکن جب حکومت نے ان جنگلات پر کنٹرول حاصل کیا تو اس ایکٹ کا مقصد ختم ہوگیا اور جنگل کی پیداوار سے آمدنی حاصل کرنے کی شروعا ت کی گئی اور یوںیہ ایکٹ اپنے مقصد کی تکمیل نہیں کرسکا۔فاریسٹ ایکٹ کے ان معاملات میں ترامیم کی ضرورت ہے جہاں ماحولیاتی استحکام کے تحفظ کے لئے جنگل کے وسائل کے پائیدار استعمال کے تحفظ کی طرف توجہ مرکوز کی جائے جیسا کہ 1927 کے ایکٹ میں تبدیلی لانے کے لئے 2019 کے ترمیمی بل میں تجویز کیا گیا تھا۔۱