سید امجد شاہ
جموں// اراضی سائنس دانوں نے جموں سے پٹھانکوٹ اور اس کے نیچے کشتواڑ تک 100 کلومیٹر کے فاصلے پر زلزلے کے امکان کے بارے میں خبردار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ زلزلے کے اثرات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا تاہم سائنسدانوں کو یقین نہیں ہے کہ یہ کب آئے گا۔لوگوں سے گھبرانے نہیں بلکہ تجویز کردہ ضابطوں کے مطابق لچکدار ڈھانچہ تعمیر کرنے پر زور دیتے ہوئے ماہرین نے نقصانات کو روکنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں اپنے سائنسی کام کو سرکاری حکام کے ساتھ شیئر کیا۔ماہرین نے کہا کہ ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ ایسا زلزلہ کب آئے گا لیکن ہم اس کے لیے تیاری شروع کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے زلزلوں سے شہروں، لوگوں اور املاک کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے سائنسدانوں، منتظمین، پالیسی سازوں اور عوام کے تعاون اور شرکت کی ضرورت ہے۔سپریو مترا، پروفیسر ڈیپارٹمنٹ آف ارتھ سائنسز اور سنٹر فار کلائمیٹ اینڈ انوائرمنٹل سٹڈیز انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کولکتہ،جنہوں نے جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش پر کام کیا ہے،نے فالٹ لائن یعنی جموں – پٹھان کوٹ میں زلزلے کے امکان کے خلاف خبردار کیا ہے جو کہ رہائشی علاقوں کو بھی اسی شدت سے نشانہ بنا سکتا ہے جو ایک بار 2005 میںپاکستانی مقبوضہ کشمیرور 2015 میں گورکھا (نیپال) کوہٹ کیا تھا۔سپریو مترا ،جنہوں نے زلزلوں کے امکان پر بحث میں شرکت کی اور ممکنہ تباہی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لیے کچھ اقدامات تجویز کیے ہیں،نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا’’اگر زلزلہ آتا ہے تو فالٹ لائن جموں اور پٹھان کوٹ کے درمیان ہوگی۔ اگر یہ زلزلہ فالٹ لائن کو توڑتا ہے تو یہ اسی سائز کا ہوگا جو کانگڑا (1905) اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (2005 میں مظفربار) سے ٹکرایاتھا۔ ہمیں زلزلے کی شدت کا صحیح اندازہ نہیں ہے۔
تاہم زلزلے کی فالٹ لائن 100 کلومیٹر لمبی اور 40/50 میٹر چوڑی ہو سکتی ہے”۔انہوں نے شمالی ہندوستان میں زلزلوں کے خلاف مزاحمت میں اضافہ کے بارے میں بحث کی جس کا اہتمام محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے ISSER کولکتہ کے پروفیسر سپریو مترا اور SMVDU کے اشتراک سے کیا تھا۔ڈاکٹر سنیل کمار وانچو نے اس مباحثے کا اہتمام کیا تھا اور اسے رائل سوسائٹی انٹرنیشنل کولابریشن ایوارڈ ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (IISER)کولکتہ اور یونیورسٹی آف کیمبرج،برطانیہ کے ذریعے فنڈ کیا گیا تھا۔پروفیسر مترا نے کہا “یہ خرابی جموں سے پٹھان کوٹ تک ہوگی اور پھر یہ کشتواڑ (ہمالیہ کے علاقے) کے نیچے واپس چلی جائے گی۔ یہ ایک نقطہ نہیں ہے بلکہ اس خطے کے نیچے ایک بڑی فالٹ لائن ہے‘‘۔انکاکہناتھا”چھوٹی شدت کا زلزلہ واضح کرتا ہے کہ خرابی کہاں ہے۔ ہم نے جموں سے پٹھانکوٹ رینج تک جو کام (مطالعہ) کیا ہے اس کے مطابق فالٹ لائن ہے اور زلزلے کا امکان ہے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ وہ آبادی والے علاقوں کے بارے میں فکر مند ہیں اور اس سلسلے میں “ہم نے جموں میں ایک روزہ بحث کے دوران سرکاری افسران کے ساتھ حفاظتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا”۔انہوںنے مزید کہا”جموں – پٹھانکوٹ تلچھٹ پر واقع ہے جو عمارتوں پر دباؤ ڈالنے کے بعد لہریں پیدا کرتی ہے۔ اس لیے لوگوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عمارتوں کو محفوظ بنانے کے لیے مناسب بلڈنگ کوڈز پر عمل کریں کیونکہ ہماری بنیادی فکر جان و مال کی حفاظت ہے۔ تاہم لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے” ۔زلزلے کے خطرے کے حوالے سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے معلومات کو بہت مثبت انداز میں لیا اور وہ سمجھ گئے کہ ممکنہ خطرہ کہاں ہے۔ ہماری ان سے بہت اچھی بحث ہوئی۔ بات چیت کے بعد حکام اصل میں لوگوں کی مدد کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ایک اور ماہر، شعبہ ارتھ سائنسز بلارڈ لیبارٹریز یونیورسٹی آف کیمبرج،برطانیہ کے پروفیسر جیمز جیکسن نے نیپال، ایران، چین وغیرہ کی مثالیں دیتے ہوئے جان و مال کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر پر روشنی ڈالی۔جیکسن نے زمینی سائنسدانوں، ماہرین ارضیات، انجینئرز/آرٹیکچرز اور انتظامیہ کے درمیان تعاون پر زور دیا تاکہ شمالی ہندوستان میں زلزلے سے لچکدار ڈھانچہ بنایا جا سکے اور حکومت کو لوگوں کو آفت کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔بحث کا مقصد زلزلے کے خطرات (عالمی اور ہندوستانی) سے متعلق سائنسی علم میں پیشرفت پر تبادلہ خیال کرنا، عوامی تحفظ کے اقدامات سے آگاہ کرنے میں زلزلہ سائنس کے کردار اور استعمال کا جائزہ لینا تھا۔گول میز مباحثے کے دوران ماہرین کے ذریعہ مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ ہندوستان میں زلزلوں کی لچک کو بڑھانے میں بنیادی مشکلات کیا ہوں گی، کون سی معلومات/ اقدام/ تعامل غائب ہے، منتظمین کیا سوچتے ہیں کہ ان کے مشن میں ان کی سب سے زیادہ مدد کریں گے۔بحث کے دوران شیئر کی گئی دستاویز کے مطابق ہمالیائی خطے نے پہلے ہی دو تباہ کن زلزلوں کا تجربہ کیا ہے جن مین2005کا پاکستانی زیر قبضہ کشمیر(7.6 شدت) اور 2015 میں نیپال میں (7.8 شدت)کا زلزلہ ہے۔ان دونوں زلزلوں کی ابتدا ہمالیہ کے دبے ہوئے مرکزی زور سے ہوئی جو کہ مرکزی فرنٹل فالٹ کے طور پر سطح پر آتی ہے۔ یہ فرنٹل فالٹ مغرب میں کشمیر سے مشرق میں اروناچل تک جاتا ہے۔ یہی فالٹ 1905 کے کانگڑا کے زلزلے (7.9 شدت) کے لیے ذمہ دار تھی۔پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور کانگڑا کے درمیان اس فالٹ کا حصہ 8.0 شدت کا زلزلہ پیدا کرنے کے لیے کافی تنگ ہے یعنی کانگڑا جیسا اور پاکستانی مقبوضہ کشمیرکے زلزلے سے بڑا ، اور یہ ہمالیہ کے سامنے والے بڑے شہروں یعنی جموں، دھرم شالہ، ہوشیار پور، چندی گڑھ وغیرہ کے لیے ایک سنگین خطرہ کی نمائندگی کرتا ہے ۔