زیادہ گوشت اور چربی دار کھانے بنیادی وجہ،ہائی بلڈ پریشر،ہارٹ اٹیک اور سٹروک ہونے کا موجب
پرویز احمد
سرینگر // جموں و کشمیر53.4فیصد لوگ ہائی کولسٹرال کے شکار ہیں، جو ملک کے سبھی علاقوں میں آبادی کے تناسب کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے ۔ کولسٹرال سے خون کی نسوں کی چوڑائی کم ہوکر سکڑ جاتی ہیں،جو ہارٹ اٹیک، سٹروک اورہائی بلڈ پریشر کا سبب بنتی ہے۔جموں و کشمیر میں گوشت کی کھپت بہت زیادہ ہے جس سے ہائی کولسٹرال کے شکار افراد کی شرح بھی زیادہ ہے۔، بنیادی طور پربھیڑکا سب سے زیادہ پسندیدہ گوشت ہے، جو اکثر 600 لاکھ کلوگرام سالانہ سے تجاوز کر جاتا ہے۔حالیہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ سرخ اور پراسیس شدہ گوشت کا استعمال دائمی بیما ریوں جیسے کولوریکٹل کینسر، ٹائپ 2 ذیابیطس، اور قلبی امراض کے زیادہ خطرات سے منسلک ہوتا ہے۔ پراسیس شدہ گوشت پریزرویٹوز، نمک اور پروسیسنگ کے طریقوں کی وجہ سے مضبوط روابط دکھاتا ہے۔ اگرچہ کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ گوشت آئرن فراہم کرتا ہے، پٹھوں کی صحت جیسے فوائد، اور آئرن کی کمی سے خون کی کمی کو روکنے میں بھی مدد کرتا ہے، لیکن مجموعی طور پر گوشت زیادہ کھانے سے ہی بیماریاں بڑھ جاتی ہیں۔
سروے
جموں و کشمیر میں مئی 2025کے دوران ہائی کولسٹرال پر کی گئی تازہ تحقیق میں بتایاگیا ہے کہ 20سے45سال عمر کی آبادی میں سے45.4فیصد ہائی کولسٹرال کے شکار ہیں۔ ان میں 26سے 30سال کے لوگوں میں 31.4فیصد، 31سے 35سال کے درمیان 22فیصد ، 36سے 40سال کے 55فیصداور 41سے 45سال کے لوگوں میں 70فیصد لوگ خون میں چربی سے جوج رہے ہیں۔ہائی کولسٹرال ہونے کی بڑی وجوہات میں زیادہ چربی دار چیزیں کھانا پہلے نمبر پر آتا ہے جن میں گوشت، مکھن، گھی اور دیگر چیزیںشامل ہیں۔
طبی صلاح
ماہر غذائیت ڈاکٹر نصرت بشیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ چربی ہماری خلیوں کیلئے لازمی ہوتی ہے کیونکہ یہ ہمارے جسم کی خلیوں کا 50فیصدمواد بناتی ہے اور fatsکا واحد ذریعہ جانوروں سے حاصل کی گئی چربی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہی چربی گوشت کے علاوہ گھی اور مکھن وغیرسے بھی ملتی ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ چربی جسم میں ایک محدود مقدار میں موجود ہونی چاہئے ، اس کی زیادہ مقدار انسانی جسم کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ڈاکٹر نصرت مزید بتاتی ہیں کہ چربی والا گوشت، تیل، گھی اور مکھن کے زیادہ استعمال سے چربی آہستہ آہستہ خون میںجمع ہوجاتی ہے اور بعد میں جگر اور دل میںکے علاوہ نسوں میں جمع ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نسوں کی سکڑن ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، سٹروک اور شوگر کی بیماری کی وجہ بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر نصرت نے بتایا ’’ خون میں موجود چربی کو کم کرنے کا بہترین طریقہ جسمانی ورزش اور گوشت اور چربی والے کھانے ترک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صبح سویرے دوڑنے سے پسینے کے ساتھ خون کی چکنائی باہر آجاتی ہے جس سے ہائی کولسٹرال کے مریضوں کو بہت فائدہ ملتاہے۔ انہوں نے کہا کہ خون میں چربی کی مقدار 200mg/dlسے زیادہ ہوتو اس کو ورزش کے ساتھ ساتھ ادویات کی ضرورت پڑتی ہے۔