بلال فرقانی
سرینگر//الیکشن کمیشن آف انڈیا نے انتخابی نظام کو شفاف اور فعال بنانے کی مہم کے تحت ملک بھر سے مزید 474 رجسٹرڈ مگر غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو انتخابی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ ان جماعتوں میں جموں و کشمیر کی 12 غیر معروف جماعتیں بھی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ 6 برسوں کے دوران کسی بھی الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔کمیشن نے جمعہ کو بتایا کہ اس تازہ کارروائی کے ساتھ، اگست 2025 سے اب تک مجموعی طور پر 808 غیر فعال سیاسی جماعتوں کو انتخابی رجسٹر سے حذف کیا جا چکا ہے۔ اس سے قبل 9 اگست کو پہلے مرحلے میں 334 ایسی جماعتوں کو خارج کیا گیا تھا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ خارج کی گئی جماعتوں میں کچھ ایسی بھی شامل ہیں جن کی سیاسی تاریخ اہم رہی ہے۔ ان میں ایک جماعت وہ بھی ہے جس نے 2002 کے اسمبلی انتخابات میں ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کو انتخابی نعرہ بنایا تھا۔ ایک اور جماعت، جو فہرست سے ہٹائی گئی، کی قیادت پی ڈی پی،کانگریس حکومت کے سابق وزیر بابو سنگھ کررہے تھے ، جنہیں 2022 میں حوالہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ، جس کی قیادت سابق رکن پارلیمان عبدالرشید کابلی کر رہے تھے، بھی فہرست میں شامل ہے۔ کابلی نے 1977 کے ریاستی انتخابات میں عیدگاہ، سرینگر سے جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔کمیشن کے مطابق، یہ تمام جماعتیں متواتر 6 سال تک کسی بھی سطح کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کی بنیاد پر خارج کی گئی ہیں۔ کشمیر ڈیولپمنٹ فرنٹ،سابق بیروکریٹ خواجہ فاروق احمد رینزو کی سربراہی میں کام کرتی تھی،اور اپریل2024میں سید الطاف بخاری کی اپنی پارٹی میں ضم ہوگئی ہے۔جموں و کشمیر سے خارج کی گئی سیاسی جماعتوں میں بیک ورڈ کلاسز ڈیموکریٹک پارٹی، ڈوگر پردیش پارٹی، نند کشور کھجوریہ کی فرنٹ آف ریولوشنائزڈ کریٹو ایفورٹس، جموں کشمیر پیپلز پارٹی (سیکولر)، کشمیر ڈیولپمنٹ فرنٹ، نیچر مین کائنڈ فرینڈلی گلوبل پارٹی، سیکولر پارٹی آف انڈیا،اشوک کمار بسوترا کی سوشل موومنٹ پارٹی بھی شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے اس عمل کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے 359 مزید غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کی نشاندہی کی ہے جو گزشتہ تین مالی سالوں کے آڈٹ شدہ حسابات جمع کرانے میں ناکام رہی ہیں، حالانکہ انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ مزید یہ کہ ان جماعتوں نے اپنے انتخابی اخراجات کی تفصیلات بھی کمیشن کو پیش نہیں کی ہیں۔ اس حوالے سے ریاستی اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسراںکو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان جماعتوں کووجہ بتائو نوٹس جاری کریں اور بعد ازاں سماعت کے بعد حتمی رپورٹ کمیشن کو پیش کریں، جس کی بنیاد پر اگلے مرحلے کی کارروائی کی جائے گی۔الیکشن کمیشن کے مطابق، اس مرحلے میں سب سے زیادہ جماعتیں اتر پردیش سے خارج کی گئیں جن کی تعداد 121 ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر سے 44، دہلی سے 40، تمل ناڈو سے 42، آندھرا پردیش اور ہریانہ سے 17، جبکہ جموں و کشمیر سے 12 جماعتیں فہرست سے نکالی گئی ہیں۔