پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں پچھلے 17سال سے ڈینٹل سرجنوں کی تقرریاں نہیں ہوئی ہیں اور تقریباً 10ہزار سے زائد ڈینٹل سرجن بے روزگار بیٹھے ہیں۔ جہاں ایک طرح سرکاری نوکری حاصل کرنے کیلئے مقررہ اوپری حد پار کرنے والے ڈاکٹروں نے روزگار کے دیگر ذرائع کو اپنایا ہے تو وہیں دوسری جانب ڈینٹل کالج سرینگر اور بیرون ریاست سے بی ڈی ایس کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ 17سال کا عرصہ گززر جانے کے بائوجود ابھی تک سرکار نے ڈینٹل سرجنوں اسامیوں کیلئے نوٹیفکیشن جاری نہیں کی گئی ہے۔ محکمہ صحت و طبی تعلیم حکام کا کہنا ہے کہ 4ماہ کے اندر ڈینٹل سرجنوں کی تقرری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ جموں و کشمیر میں سال 2008کو آخری بار 342ڈینٹل سرجنوں کی تقرری عمل میں لائی گئی تھی ۔ ڈینٹل سرجنز ایسوسی ایشن صدر راہل کول نے بتایا کہ 10ہزار سے زائد ڈینٹل سرجن بے کار بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکار نے 543ڈینٹل سرجنوں کی اسامیوں کی بھرتی کیلئے منصوبہ سرکار کو بھیجا ہے لیکن ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر افسر اور ہر وزیر کے دروزے پر گئے ہیں لیکن یقین دہائیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا ہے۔ صحت و طبی تعلیم حکام کا کہنا ہے ’’ سرکاری ریکارڈ میںجموں و کشمیر اور بیرون ریاستوں سے ڈگریاں حاصل کرنے والے ڈینٹل سرجنوںکی تعداد تقریباً 6ہزار ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ منصوبہ سرکار کو بھیج دیا گیا ہے اور اُمید ہے کہ آئندہ 4ماہ کے اندر اندر بھرتی شروع ہونے کا امکان ہے۔‘‘ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں پچھلے17سال کے دوران ہزاروں ڈینٹل سرجنوں نے ملک چھوڑ کربیرون ممالک میں سکونت اختیار کی ہے جبکہ کئی ڈینٹل سرجنوں نے اپنے پیشہ بدل دئے ہیں۔