پرویز احمد
سرینگر //انٹرنیٹ سہولیات کی وجہ سے جہاں پوری دنیا ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہوگئی ہے اور اب زندگی کے ہر شعبہ میں انٹرنیٹ اور کمپوٹر کی دستیابی ضروری ہوگئی ہے لیکن جموں و کشمیر واحد ایسی یوٹی ہے جہاں ابھی بھی 61فیصد سرکاری سکول بغیر کپوٹر اور 51فیصد سکول بغیر انٹر نیٹ سہولیات کے کام کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ 25فیصد سکول بغیر لائبرری اور 12فیصد سکولوں میں لڑکیوں کیلئے علیحدہ بیت الخلاء کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔
اکنامک سروے رپورٹ سال 2025-26میں جہاں سرکار نے شعبہ تعلیم میں مختلف حصولیابیوں کا تذکرہ کیا ہے وہیں سرکار نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں تقریبا 98فیصد بچوں کو شعبہ تعلیم تک رسائی حاصل ہے ہیں۔ رپورٹ میں طلبہ و طالبات کیلئے دستیاب مختلف سہولیات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ 90.84طالبات کیلئے علیٰحدہ بیت الخلاء کی سہولیات موجود ہیں جبکہ ابھی بھی 9فیصد سکولوں میں لڑکیوں کیلئے علیٰحدہ بیت الخلاء کی سہولیت دستیاب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ 88فیصدسکولوں میں لڑکوں کیلئے علیٰحدہ بیت الخلاء کی سہولت ہے جبکہ 12فیصد سکولوں میں لڑکوں کیلئے کوئی بھی سہولیت دستیاب نہیں ہے۔ سکولوں میں کمپوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولیت کا تذکرہ کرتے ہوئے رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں صرف 39فیصد سکولوں میں کمپوٹر کی سہولت دستیاب ہے جبکہ 61فیصد سکولوں میں کمپوٹر کی سہولت موجود نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ 49فیصد سکولوں میں انٹر نیٹ دستیاب ہے جبکہ 51فیصد سکولوں میں انٹر نیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے صرف 91فیصد سکولوں میں بجلی کی سہولت دستیاب ہے جبکہ 9فیصد سکول ابھی بھی اندھیرے میں ہیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جموں و کشمیر سرکار کو سکولوں میں ڈیجیٹل سہولیات کی دستیابی پر توجہ دینے کی ضرور ت ہے۔