سرینگر //جموں و کشمیر کے 13 اضلاع میں 18سال سے زیادہ عمر کے 100فیصد ٹیکہ کاری مکمل کی گئی ہے۔منگل کو مزید1لاکھ 18 ہزار 331افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا ہے اور اسطرح ویکسین لینے والوں کی تعداد 99.13فیصد یعنی1کروڑ 33لاکھ 6ہزار 893 ہوگئی ہے۔ جموں و کشمیر میں 18سال سے زیادہ عمر کے 100 فیصد آبادی کو ویکسین دینے والے اضلا میں 7کشمیر جبکہ دیگر6جموں صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر میں 18 سال سے زیادہ عمر کے 100 فیصد لوگوں کو ویکسین کا پہلا ڈوز دینے والے اضلاع میں اننت ناگ میں 10لاکھ 71ہزار 833،کولگام میں 5لاکھ 60ہزار 194،شوپیان میں 2لاکھ 86ہزار 943،پلوامہ میں 5لاکھ 96ہزار229، بڈگام میں 8لاکھ 4ہزار 561، بانڈی پورہ میں 4لاکھ 19ہزار 6 اورگاندربل میں 3لاکھ 42ہزار 999 ہے جبکہ سرینگر میں13لاکھ24ہزار 944 یعنی 98.71،بارہمولہ میں 11لاکھ 10 ہزار 119 یعنی 98.18فیصد،کپوارہ میں 8لاکھ 54ہزار 548یعنی 90.25 کو ویکسین دی گئی ہے۔ جموں صوبے کے 5اضلاع میں 18سال سے زیادہ عمر کے 100فیصدلوگوں کو کورونا وائرس ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی ہے جبکہ دیگر پانچ اضلاع میں ٹیکہ کاری کا عمل ابھی جاری ہے۔ جموں صوبے میں ٹیکہ کاری مکمل کرنے والے اضلاع میں جموں میں 17لاکھ 33ہزار 922یعنی 100فیصد،راجوری میں 6لاکھ 98ہزار 259،رام بن میں 100فیصد یعنی 3لاکھ 30ہزار 509،ڈوڈہ میں 100فیصد یعنی 4لاکھ 23ہزار 748 اور سانبہ میں 100فیصد یعنی 3لاکھ 86ہزار 674افراد کو ٹیکہ لگائے گئے ہیں۔ جموں صوبے کے پانچ اضلاع میں ابھی بھی ٹیکہ کاری جاری ہے ،ان میں ادھمپور میں 92.66فیصدیعنی 5لاکھ 84ہزار 584،کٹھوعہ میں 97.90فیصد یعنی 6لاکھ 58ہزار 831، کشتواڑ میں 81.01فیصد یعنی 2لاکھ 10ہزار 430 اور ریاسی میں 97.48یعنی 3لاکھ 36ہزار 93افراد کو کورونا مخالف ویکسین دیا گیا ہے۔
کووڈ مخالف ویکسین
۔2سے 18برس تک کے بچوں کو بھی ملے گی
نیوز ڈیسک
نئی دلی//حکومت نے بھارت بایوٹیک کی ویکسین کو منظوری دے دی ہے۔ یہ ویکسین دو سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو بھی لگائی جاسکے گی۔ اس ویکسین کی دو خوراکوں کے درمیان 28 دنوں کا وقفہ رکھنا ہوگا۔ ڈرگ ریگولیٹرز نے بھارت بایوٹیک کو اس سال مئی میں بچوں پر ٹرائل کرنے کی اجازت دی تھی۔ یہ ٹرائل ستمبر میں پورا کیا گیا۔ 6 اکتوبر کو ہی کمپنی نے اعداد و شمار کی تصدیق اور ہنگامی استعمال کیلئے منظوری کیلئے سی ڈی ایس سی او کو سونپ دیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ ویکسین پری فلڈ سرنج یعنی پہلے سے بھری 0.5ml کی ہی خوراک ہوگی۔دو سال تک کے بچوں کے معاملے میں زیادہ خوراک سے پریشانی ہوسکتی ہے اور اس لئے بچوں کے ٹیکے کے لئے ایک PFS میکنزم پر زور دیا گیا۔ پہلے سے بھرے ہوئے 0.5ml ویکسین کو ایک بار استعمال کرکے پھینک دینا ہوگا۔ بچوں کو ٹیکے کی دونوں خوراک28 دنوں کے وقفے پر دی جائے گی۔ سرینج میں بھرتے وقت کبھی کبھی 0.5ml سے کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔ ایسے میں بچوں کے لئے ویکسین پہلے سے ہی بھری ہوئی سیرنج میں ہوگی۔ بچوں کو ٹیکے لگاتے وقت سٹیک خوراک بہت ضروری ہے، جس کی وجہ سے اس سرینج میں بچوں کے لئے ٹیکے کی خوراک 0.5ml ہی ہوگی۔
۔3دن بعد متاثر ین میں پھر اضافہ
متاثر، کوئی فوتیدگی نہیں80
پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں مسلسل تین دنوں تک کورونا متاثرین کی تعداد میں کمی کے بعد منگل کو ایک مرتبہ پھر متاثرین میں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 48ہزار 310 ٹیسٹ کئے گئے جن میں 13مسافروں سمیت 80افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 30ہزار666ہوگئی ہے۔ اس سے قبل 9اکتوبر کو جموں و کشمیر میں82افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ جموں و کشمیر میں پچھلے 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 80افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں جموں میں13جبکہ کشمیر میں 67متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر کے 67متاثرین میں 4بیرون ریاستوں سے سفر کرکے لوٹے جبکہ 63افراد مقامی سطح پر رابطے میں کمی کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر کے 67متاثرین میں سرینگر میں37، بارہمولہ میں 6، بڈگام میں 6، پلوامہ میں 1، کپوارہ میں 4، اننت ناگ میں 8، گاندربل میں 5، گاندربل میں 5جبکہ بانڈی پورہ، کولگام اور شوپیان میں کسی کی رپورٹ نہیں آئی ہے۔ کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد2لاکھ 6ہزار 556تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران کشمیر میں چھٹے دن بھی وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 4426ہوگئی ہے۔ جموں صوبے کے پانچ اضلاع جن میں ادھمپور، راجوری، سانبہ، کشتواڑ اوررام بن میں کسی کی موت نہیں ہوئی ہے جبکہ دیگر 5اضلاع میں 13افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ جموں صوبے میں مثبت قرار دئے گئے 13افراد میں سے 9بیرون ریاستوں سے سفر کرکے واپس لوٹے جبکہ 4مقامی سطح پر رابطے میں کمی کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ جموں صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ 24ہزار 110تک پہنچ گئی ہے ۔ اس دوران جموں صوبے میں بھی مسلسل چھٹے دن بھی کسی کی موت نہیں ہوئی ہے اور متوفین کی مجموعی تعداد 2174بنی ہوئی ہے۔