عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//حکومت نے کینسر کے علاج اور اسکریننگ کے نظام میں بڑی تبدیلی لانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے کئی اعلیٰ سطحی ماہر کمیٹیوں اور ایک خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔یہ اقدام یونین ٹیریٹری میں کینسر کے علاج، نگہداشت اور روک تھام کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے، جس کے تحت ایک جامع اور ہمہ جہتی ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔سرکاری حکم نامے کے مطابق کینسر کے علاج سے متعلق ایپکس کمیٹی، جس کی قیادت ڈاکٹر سندیپ گپتا کریں گے، موجودہ سرکاری میڈیکل کالجوں میں منظم کینسر ہسپتالوں کے قیام کے لیے روڈ میپ تیار کرے گی۔
یہ کمیٹی ریڈی ایشن، میڈیکل، سرجیکل اور ڈائگناسٹک آنکولوجی خدمات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ قومی اداروں کے ساتھ تکنیکی اشتراک، معیاری علاج کے طریقہ کار، ملٹی ڈسپلنری ٹیومر بورڈز اور مؤثر ریفرل نظام کی تشکیل پر بھی کام کرے گی۔ کمیٹی میں ڈاکتر آشو توش گپتا،ڈاکٹر آشیش گولیا اور ڈاکٹر یشپال شرمابطور اراکین شامل ہیں، جبکہ محکمہ صحت و طبی تعلیم کے کمشنر سیکریٹری بطور کنوینر خدمات انجام دیں گے۔مزید، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے امکانات، ٹیلی میڈیسن اور ٹیلی آنکولوجی کے فروغ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری اور طبی عملے کی خصوصی تربیت پر بھی زور دیا جائے گا۔زندگی کے آخری مرحلے میں مریضوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے کے لیے ایک الگ پیلی ایٹو کیئر کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی ڈاکٹر آشیش گولیاکریں گے، جبکہ ڈاکتر روہت لوہوری بطور کنوینر شامل ہیں۔ یہ کمیٹی موجودہ سہولیات کا جائزہ لے کر ثانوی اور تیسرے درجے کے ہسپتالوں میں خصوصی یونٹس کے قیام کی سفارش کرے گی اور کیرالا ماڈل کا مطالعہ کر کے کمیونٹی اور گھریلو سطح پر نگہداشت کے نظام کو فروغ دے گی۔
روک تھام کے شعبے میں ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کی قیادت ڈاکتر آشیش گولیاکر رہے ہیں۔ اس میں ڈاکٹر سید نثار احمد اور ڈاکٹر محمد سلیم خان سمیت دیگر ماہرین شامل ہیں۔ یہ کمیٹی تمباکو نوشی پر قابو پانے، طرزِ زندگی میں تبدیلی، عوامی بیداری، ابتدائی تشخیص اور ’ایچ پی وی‘ویکسین کے فروغ کے لیے حکمت عملی تیار کرے گی۔اس کے ساتھ ہی کینسر اسکریننگ کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے، جو منہ، چھاتی اور سروائیکل کینسر کی آبادی پر مبنی اسکریننگ کی نگرانی کرے گی، معیاری پروٹوکولز تیار کرے گی اور صحت کے تمام درجات پر ریفرل اور فالو اپ نظام کو مضبوط بنائے گی۔یہ ٹاسک فورس فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی صلاحیت بڑھانے، کمیونٹی کی شمولیت اور ڈیجیٹل ڈیٹا مینجمنٹ نظام کی ترقی پر بھی کام کرے گی۔حکم نامے کے مطابق ٹاسک فورس ہر دو ماہ بعد اجلاس منعقد کرے گی، جبکہ تمام کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی سفارشات چار ہفتوں کے اندر محکمہ صحت و طبی تعلیم کو پیش کریں تاکہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔