ترقیاتی کام متاثر ہونے کا خدشہ،حکومت سے مداخلت کی اپیل
سرینگر// جموں و کشمیر کنٹریکٹرز کوآرڈی نیشن کمیٹی نے ٹھیکیداروں کی ادائیگیوں میں تاخیر اور حالیہ سرکاری احکامات کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس صورتحال سے جموں و کشمیر میں ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں۔ایک بیان میں کمیٹی کے چیئرمین غلام جیلانی پرزا نے کہا کہ مالی سال کے اختتام میں صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں مگر اب تک آخری سہ ماہی کے فنڈز جاری نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے ان ٹھیکیداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جنہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبے مکمل کر لیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آر اینڈ بی (پی ڈبلیو ڈی)، پی ایچ ای اور جل جیون مشن سمیت کئی محکموں میں بھاری رقم واجب الادا ہے اور صرف واجبات کی رقم تقریباً 1500کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت کام مکمل کرنے کے باوجود ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں نہیں مل رہی ہیں جس سے وہ شدید مالی دبائو میں ہیں۔
جیلانی پرزا نے کہا کہ مارچ میں مالی سال ختم ہونے والا ہے مگر اب تک آخری سہ ماہی کے فنڈز جاری نہیں کئے گئے، جس سے جموں و کشمیر کے ٹھیکیدار سخت پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ ان کی ادائیگیاں طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔انہوں نے فائنانس ڈپارٹمنٹ اور جیالوجی و مائننگ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے احکامات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان ہدایات کی وجہ سے خزانے میں ٹھیکیداروں کے بل کلیئر ہونے میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ان کے مطابق خزانے سے بل مختلف سوالات کے ساتھ واپس کیے جا رہے ہیں جن کا ٹھیکیداروں سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹھیکیداروں سے تعمیراتی مواد کے لیے مائننگ رائلٹی سے متعلق دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں، حالانکہ عام طور پر یہ ذمہ داری کان کنوں، کرشر مالکان اور سپلائرز کی ہوتی ہے، نہ کہ ٹھیکیداروں کی جو مارکیٹ سے مواد خریدتے ہیں۔جیلانی پرزا نے کہا کہ اگر ادائیگیاں اسی طرح تاخیر کا شکار رہیں اور خزانے میں بل منظور نہ کیے جائیں تو اس سے فنڈز لیپس ہونے کا خدشہ ہے اور ترقیاتی کام بھی متاثر ہوں گے۔انہوں نے جموں و کشمیر حکومت سے اپیل کی کہ وزیر اعلی عمر عبداللہ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، نائب وزیر اعلی سریندر چودھری اور متعلقہ انتظامی افسران فوری طور پر مداخلت کریں اور ٹھیکیداروں کے مسائل حل کریں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت نئے قواعد نافذ کرنا چاہتی تھی تو پہلے تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔جیلانی پرزا نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کے ہر ضلع میں تعمیراتی مواد کے قانونی ذرائع کی نشاندہی اور مائننگ سیکٹر کو باقاعدہ قانونی شکل دی جائے تاکہ ٹھیکیدار بغیر کسی انتظامی رکاوٹ کے قانونی طریقے سے مواد حاصل کر سکیں اور حکومت کو بھی مناسب رائلٹی حاصل ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر ان مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو مالی سال کے اختتام تک کئی ادائیگیاں لیپس ہو سکتی ہیں جس سے ہزاروں ٹھیکیداروں، سپلائرز اور مزدوروں کی روزی روٹی متاثر ہوگی۔