سمت بھارگو
راجوری //جموں و کشمیر میں محکمہ صحت کے ملازمین کی جاری ہڑتال نے سرکاری ہسپتالوں میں طبی خدمات کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے جاری اس احتجاجی تحریک کے نتیجے میں معمول کی طبی سہولیات تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی تھیں، جبکہ حکومت کی جانب سے مسئلے کے حل میں تاخیر پر عوامی ناراضگی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیاتاہم، وزیر صحت سکینہ ایتو کی جانب سے مطالبات پر غور کرنے اور مقررہ مدت میں حل کی یقین دہانی کے بعد ملازمین نے اپنی ہڑتال تین ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے باوجود ملازمین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات مقررہ وقت میں پورے نہ کیے گئے تو احتجاج دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
یہ ہڑتال بنیادی طور پر پیرامیڈیکل، ٹیکنیکل اور معاون عملے کی جانب سے کی جا رہی تھی، جو ماہانہ تنخواہ میں اضافی ڈھائی دن کی ادائیگی کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ سہولت 1992 سے تین شفٹوں پر مشتمل مسلسل ڈیوٹی کے پیش نظر دی جا رہی تھی، تاہم حال ہی میں حکومت نے اسے واپس لے لیا، جس کے بعد ملازمین میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی۔ابتدائی طور پر وقفے وقفے سے جاری رہنے والا احتجاج گزشتہ پانچ دنوں کے دوران مکمل ہڑتال میں تبدیل ہو گیا، جس میں ملازمین نے ’نو ورک‘ پالیسی اپنائی۔ اس کے نتیجے میں او پی ڈی خدمات اور دیگر معمول کے علاج معالجے کے نظام کو معطل کرنا پڑا، جبکہ صرف ایمرجنسی خدمات کو جاری رکھا گیا۔اس ہڑتال کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے گئے، خاص طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری میں مریضوں کے تیمارداروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ طبی خدمات مکمل طور پر ٹھپ ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے علاوہ بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں، جس سے مریضوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔اسی طرح سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کالا کوٹ میں بھی صورتحال کشیدہ رہی، جہاں تیمارداروں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بروقت اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی افراد نے شکایت کی کہ سنگین نوعیت کے مریضوں کو بھی بروقت علاج فراہم نہیں کیا جا رہا۔دریں اثنا، میڈیکل ایمپلائز فیڈریشن (MEF) یکم اپریل سے تین اپریل تک جی ایم سی راجوری میں پرامن احتجاج کر رہی تھی، جسے بعد میں 6 اپریل تک بڑھا دیا گیا۔ احتجاج کے دوران صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک او پی ڈی اور غیر ہنگامی سرجریاں معطل رہیں، جبکہ ایمرجنسی خدمات جاری رکھی گئیں۔اس احتجاج میں 340 سے زائد نان گزٹیڈ ملازمین نے شرکت کی، جبکہ مختلف تنظیموں بشمول میڈیکل فیکلٹی فورم، ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور جے کے این ایچ ایم ایمپلائز فورم نے بھی حمایت کا اعلان کیا۔ ملازمین نے نان گزٹیڈ عملے کے لیے گزشتہ سات برسوں سے بھرتی اور سروس رولز نہ بننے پر بھی تشویش ظاہر کی۔فی الحال ہڑتال کی معطلی سے عوام کو وقتی ریلیف ملا ہے، تاہم آئندہ تین ہفتے اس مسئلے کے حل کے لیے نہایت اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔ اگر حکومت اور ملازمین کے درمیان اتفاق رائے نہ ہو سکا تو ایک بار پھر طبی نظام کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔