محتشم احتشام
پونچھ// بی جے پی جموں و کشمیر ایس ٹی مورچہ کے صدر چودھری عبدالغنی نے مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر میں دیہی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لئے ایک بڑی پیش رفت کے تحت آٹھ ہزار کروڑ روپے مالیت کے سڑک منصوبوں کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا۔انہوں نے کہا یہ اعلان مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے سری نگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے ائی سی سی) میں ایک تقریب کے دوران کیا،جہاں اس اہم منصوبے کو پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت منظوری دی گئی۔انہوں نے منصوبہ کو دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو سڑک رابطوں کے ذریعے صحت، تعلیم اور منڈیوں جیسی بنیادی سہولیات سے جوڑنے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا، جس سے دیہی معیشت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔چوہدری غنی نے اسے خطے کی ترقی کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا۔
انہوں نے مرکزی وزیر کی جانب سے دین دیال انتیودیہ یوجنا–نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن (DAY-NRLM) کے تحت اضافی 4568.23 کروڑ روپے کی منظوری کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سے دیہی روزگار اور خود کفالت کو فروغ ملے گاتاہم چودھری عبدالغنی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں قائم حکومت پر سخت تنقید بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز کی جانب سے فراہم کردہ خطیر فنڈز کے باوجود زمینی سطح پر منصوبوں کے نفاذ میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ایم جی ایس وائی جیسے فلیگ شپ پروگرام اپنی متوقع کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث کئی دیہی علاقے آج بھی بنیادی سڑک سہولیات سے محروم ہیں۔ مزید برآں، جل جیون مشن کے حوالے سے بھی انہوں نے کہا کہ متعدد پانی سپلائی اسکیمیں ادھوری چھوڑ دی گئی ہیں، جس سے عوام کو پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت میسر نہیں۔چودھری عبدالغنی کے مطابق،”مرکزی حکومت شفافیت اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے، مگر مقامی سطح پر سنجیدگی اور جوابدہی کی کمی ترقی کی رفتار کو متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے مرکز اور مقامی انتظامیہ کے درمیان مؤثر تال میل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی فائدہ یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔دوسری جانب، تقریب میں موجود وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مفاہمتی رویہ اپناتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ تمام منظور شدہ منصوبوں کو مؤثر اور بروقت مکمل کرنے کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔مبصرین کے مطابق، یہ پیش رفت جہاں ایک طرف ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار تیز کرنے کی عکاس ہے، وہیں جموں و کشمیر میں سیاسی اختلافات اور حکومتی کارکردگی پر جاری بحث کو بھی مزید تقویت دے رہی ہے۔