عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں و کشمیر کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی 28,400 کروڑ روپے کی نئی مرکزی سیکٹر اسکیم کے جائزہ اجلاس سے قبل صنعتی حلقوں اور کاروباری ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتی پیکیج کے فوائد کو مزید متوازن اور وسیع بنایا جائے تاکہ یونین ٹریٹری کے تمام اضلاع یکساں طور پر ترقی سے مستفید ہو سکیں۔صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ 2021 میں شروع کی گئی یہ اسکیم جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور کاروباری اعتماد بحال کرنے کیلئے ایک اہم قدم ثابت ہوئی ہے۔ اس اسکیم کے باعث مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوئے اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک منظور شدہ بیشتر سرمایہ کاری چند مخصوص صنعتی علاقوں تک محدود رہی ہے جہاں بنیادی ڈھانچہ اور رابطہ سہولیات نسبتاً بہتر ہیں، جبکہ کئی اضلاع صنعتی ترقی کے حوالے سے ابھی بھی پیچھے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر سرمایہ کاری اور مراعات کو ضلعی سطح پر متوازن انداز میں تقسیم کیا جائے تو صنعتی ترقی کے فوائد پورے جموں و کشمیر تک پہنچ سکتے ہیں۔
کاروباری حلقوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ متعدد ایسے صنعتی یونٹ جو مقررہ وقت کے اندر اسکیم میں رجسٹر ہوئے تھے، فنڈز کی کمی کے باعث مراعات سے محروم رہ گئے۔ اس کے علاوہ کئی پرانے صنعتی ادارے، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف مشکلات کے باوجود کام کر رہے ہیں، انہیں بھی خاطر خواہ سرکاری مدد حاصل نہیں ہو رہی۔صنعتی ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً 40 ہزار صنعتی اور کاروباری یونٹ موجود ہیں جن میں سے بہت سے گزشتہ برسوں کے دوران بدامنی، سیلاب، اقتصادی بحران اور دیگر مسائل کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان اداروں کی بحالی، جدید کاری اور توسیع سے کم وقت میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔صنعتی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ صنعتی یونٹوں کی بحالی کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا جائے اور مقامی صنعتوں کو سرکاری خریداری میں ترجیح دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پائیدار صنعتی ترقی کے لیے نئی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ موجودہ صنعتوں کی مضبوطی اور مقامی کاروباروں کو منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔کاروباری برادری کو امید ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ کی صدارت میں ہونے والا جائزہ اجلاس جموں و کشمیر کی صنعتی پالیسی کو مزید مؤثر، منصفانہ اور روزگار دوست بنانے کے لیے اہم فیصلے کرے گا۔