جموں//جموں خطہ میں ڈینگی کے 836 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر جموں شہر کے رہائشی علاقوں سے ہیں۔چونکہ کیسوں میں دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، ریاستی ملیرولوجی ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے بتایا کہ صرف آج جموں خطہ سے 82 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔حکام نے بتایا"کل جموں میں 754 کیس سامنے آئے اور ان میں سے زیادہ تر جموں شہر کے رہائشی علاقوں سے تھے" ۔حکام نے بتایا کہ جموں کے شہری علاقوں میں گنجان آباد علاقوں سے 503 سے زیادہ کیس ہیں۔انہوںنے کہا "کچھ معاملات میں خاندان ڈینگو سے متاثر ہیں اور ان خاندانوں کا تعلق شہر کے علاقوں جیسے سروال، نیو پلاٹ، بخشی نگر اور دیگر مقامات سے ہے" ۔عہدیدار نے بتایا کہ کٹھوعہ ضلع میں 120 سے زیادہ کیس ہیں اور سانبا میں ڈینگو کے 60 کیس ہیں جہاں مقامی انتظامیہ نے متعلقہ اضلاع کی میونسپل کمیٹیوں کے ساتھ مل کر فوگنگ شروع کردی ہے۔عہدیدار نے کہا کہ جموں کے میدانی علاقوں میں پبلک ایڈریس سسٹم، ریڈیو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے لوگوں کو احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ 2013 کے بعد ڈینگوکے کیسوں کی دوسری سب سے زیادہ تعداد ہے۔ تاہم ملیرولوجی ڈیپارٹمنٹ جموں، سانبہ اور کٹھوعہ میں ضلعی انتظامیہ اور میونسپل اداروں کی شمولیت سے تمام اقدامات کر رہا ہے۔سٹیٹ ملیریا آفیسر ڈاکٹر بیلو شرما نے بتایا کہ لوگوں کو ڈینگوسے محفوظ رکھنے کی خاطر مسلسل آگاہی مہم چلائی جا رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس بار جموں کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سروال، ریہاڑی، جانی پورہ کے علاوہ کٹھوعہ ضلع کے گووند سرکا علاقہ بھی شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ڈینگو پر قابو پانے کی خاطر اقدامات اٹھائے جار ہے ہیں اور وقتاً فوقتاً ہدایات بھی جاری کی جا رہی ہیں لیکن لوگوں کو بیماری سے محفوظ رہنے کی خاطر ماہرین کے مفید مشوروں اور ایس او پیز پر عمل کرنے کی اشد ضروت ہے۔مذکورہ آفیسر کے مطابق بیماری پر قابو پانے کی خاطر لوگوں کو وزارت صحت کی جانب سے وضح کئے گئے رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہونا چاہئے تاکہ اس بیماری کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔