نیوز ڈیسک
جموں// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں کے ڈوگروں نے وادی کشمیر، چناب ویلی اور پیر پنچال سے مجبواً ہجرت کرنے والے لوگوں کو پناہ دینے اور اْن کا خندہ پیشانی سے استقبال کرتے ہوئے بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا’’ہم اس بات کو کیسے بھول سکتے ہیں کہ 90 کی دہائی کے اوائل میں جب دہشت گردی عروج پر تھی اور وادی کشمیر، چناب ویلی اور پیر پنچال سے لوگوں کو مجبوراً نکلنا پڑا تو جموں کے لوگوں نے بھائی چارے اور مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان مہاجرین کا خیر مقدم کیا اور اْنہیں پناہ دی‘‘۔سید محمد الطاف بخاری جموں میں ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس تقریب کا انعقاد پارٹی کی یوتھ ونگ کے صوبائی صدر جموں وِپْل بالی نے کیا تھا۔اس موقعے پر پی ڈی پی کے سابق ریاستی سیکرٹری روی بالی نے اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت سید محمد الطاف بخاری کی موجودگی میں اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ پارٹی سربراہ نے روی بالی کا استقبال کرتے ہوئے اْمید ظاہر کی ہے کہ اْن کی شمولیت سے اپنی پارٹی کو مزید تقویت ملے گی۔اپنی تقریر کے دوران سید محمد الطاف بخاری نے مزید کہا ’’جب کشمیری پنڈتوں، مسلمانوں اور ڈوڈہ، کشتواڑ، راجوری اور پونچھ اضلاع کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے گھر بار پیچھے چھوڑ کر جموں میں پناہ لینی پڑی تھی، تو یہاں کی ڈوگرہ آبادی نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے وسائل کو ان مہاجرین کے ساتھ بانٹا، جو کہ ایک قابلِ سراہنا عمل ہے‘‘۔بخاری نے کہا کہ جموں اتحاد کی ایک علامت ہے یہاں نفرت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے بلکہ لوگ مل جل کر رہ رہے ہیں اور اْنہیں یکساں مواقعہ میسر ہیں۔بخاری نے کہا کہ دونوں خطوں یعنی جموں اور وادی کے لوگ ایک منتخب حکومت کی عدم موجودگی کی وجہ سے پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں اس لئے جموں کشمیر میں جلد از جلد اسمبلی انتخابات کا انعقاد کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام کو ایک منتخب حکومت کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیفٹنٹ گورنر کی حکومت ایک سیول حکومت کا نعم البدل نہیں ہوسکتی ہے۔سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ لوگ منتخب حکومت کی عدم موجودگی کی وجہ سے خود کو بے اختیار محسوس کررہے ہیں۔ عوام میں کھوئی ہوئی اْمید کو بحال کرنے کا واحد راستہ اسمبلی انتخابات کا انعقاد ہے۔
جموں باسیوںنے مہاجرین کا خندہ پیشانی سے خیرمقدم کیا