سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر میں جل جیون مشن کے تحت ہونے والی بے ضابطگیوں اور ناقص عملدرآمد کی تحقیقات کیلئے تشکیل دی گئی اراکینِ اسمبلی کی اعلیٰ سطحی ہاؤس کمیٹی نے ضلع راجوری کا دو روزہ دورہ شروع کر دیا ہے۔ کمیٹی کی قیادت ایم ایل اے حسنین مسعودی کر رہے ہیں، جبکہ دیگر اراکین بھی ان کے ہمراہ مختلف علاقوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔بدھ کی صبح راجوری پہنچنے کے بعد کمیٹی نے ضلع کے مختلف حلقوں میں جل جیون مشن کے تحت جاری اسکیموں کا معائنہ کیا۔ ان علاقوں میں سسلکوٹ، ٹھنڈی کسی، نیالی اور گھمبیر مغلاں شامل ہیں، جہاں منصوبوں کی زمینی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم ایل اے حسنین مسعودی نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں جل جیون مشن تقریباً 13 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا، تاہم اس کے نفاذ پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناقص عملدرآمد اور عوامی شکایات کے پیش نظر یہ معاملہ متعدد بار اسمبلی میں اٹھایا گیا، جس کے بعد ہاؤس کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ اسکیموں، فنڈز کے استعمال اور دیگر پہلوؤں کی مکمل جانچ کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی تیز رفتاری سے کام کر رہی ہے اور آئندہ دو ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی کوشش کرے گی، جس میں جل جیون مشن کے نفاذ سے متعلق تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا۔ مسعودی کے مطابق، کمیٹی نے مجموعی اسکیموں میں سے تقریباً 5 فیصد کا انتخاب کیا ہے تاکہ زمینی سطح پر حقیقت کا جائزہ لیا جا سکے، تاہم ابتدائی مشاہدات تشویشناک ہیں۔راجوری حلقہ میں صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں کل 43 اسکیمیں منظور کی گئی تھیں، جن پر کام بھی شروع ہوا، لیکن اس وقت صرف دو اسکیمیں ہی عوام کو فائدہ پہنچا رہی ہیں، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ایم ایل اے راجوری افتخار احمد، جو اس کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے کہا کہ جل جیون مشن ایک انقلابی اقدام تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاری فنڈز کے خرچ کے باوجود عوام کو پانی کی فراہمی کا خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ بیشتر اسکیمیں ادھوری حالت میں پڑی ہیں اور بہت کم منصوبے ہی مکمل طور پر فعال ہیں، جو نہ صرف ناقص عملدرآمد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ فنڈز میں ممکنہ خرد برد کے خدشات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ہاؤس کمیٹی کا یہ دورہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور جل جیون مشن کی حقیقت سامنے لانے میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ عوام کو امید ہے کہ اس تحقیق کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔