یواین آئی
بارسلونا/بارسلونا فٹ بال کلب کے کوچ ہینسی فلک نے اسٹار فارورڈ لامین یامال کی جانب سے ٹیم کی فتح کی پریڈ کے دوران فلسطینی پرچم لہرانے کے عمل کو کھلاڑی کا “ذاتی فیصلہ” قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا۔اتوار کے روز ریال میڈرڈ کو 2-0 سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار لا لیگا کا ٹائٹل جیتنے کے بعد، پیر کے روز بارسلونا شہر میں ایک کھلی بس میں فتح کی پریڈ نکالی گئی۔ اس جشن کے دوران ہسپانوی انٹرنیشنل کھلاڑی لامین یامال کو بس پر سوار فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا گیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
منگل کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران جب فلک سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا”مجھے یہ پسند نہیں آیا۔ میں نے اس (یامال) سے بات کی ہے اور اگر وہ ایسا کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے۔ وہ 18 سال کا ہو چکا ہے۔”فلک نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ لوگ ان سے کیا توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا”ہم فٹ بال اس لیے کھیلتے ہیں تاکہ لوگوں کو خوشیاں دے سکیں۔””جب آپ سڑکوں پر لوگوں کو خوشی سے روتے ہوئے دیکھتے ہیں، تو وہی ہمارا اصل مقصد ہوتا ہے۔”لامین یامال کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ اگرچہ کوچ نے اسے کھلاڑی کا نجی فیصلہ قرار دے کر بات ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن کھیلوں کے حلقوں میں اس پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔یاد رہے کہ لامین یامال اس وقت عالمی فٹ بال کے ابھرتے ہوئے ستارے ہیں اور بارسلونا کی حالیہ فتوحات میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔