عظمیٰ نیوزڈیسک
ریاض//خلیج تعاون کونسل کی ریاستوں اور روس کے درمیان پیر کے روز سٹریٹجک ڈائیلاگ ہوا۔ ڈائیلاگ کے اختتام پر حتمی بیان میں مشترکہ بیان میں سوڈان سے متعلق جدہ میں ہونے والے امن مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور سوڈان کے دونوں فریقوں کو پرسکون کرنے کی کوششوں پر زور دیا گیا۔جی سی سی اور روس کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے حتمی بیان میں میری ٹائم سیکیورٹی کے تحفظ اور جی سی سی ممالک میں میری ٹائم شپنگ لائنز اور تیل کی تنصیبات کو درپیش خطرات سے نمٹنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ تمام یمنی فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اقوام متحدہ کی سرپرستی میں براہ راست مذاکرات شروع کر دیں۔ تزویراتی گفت و شنید کے بعد جاری بیان میں لیبیا سے تمام غیر ملکی افواج، غیر ملکی جنگجوؤں اور کرائے کے فوجیوں کے انخلا اور انتخابات کے انعقاد کی ضرورت بھی بیان کی گئی۔اس سے قبل پیر کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے خلیجی ریاستوں اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے اپنے ملک کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔لاوروو نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ مزید تجارتی تعاون میں ماسکو کی دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خلیجی ریاستوں کی جانب سے یمن میں بحران کے خاتمے اور ایک جامع قومی مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ شام کے اتحاد اور اس کی سرزمین پر خودمختاری اور شام کی عرب لیگ میں واپسی کے حوالے سے ہمارا موقف بھی خلیجی ریاستوں کے ساتھ ہے۔