تواریخ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اسلام آنے کی کئی وجوہات ہیں جیسے کہ ہندوستان میں اسلام اوّل جنوبی ہندوستان میں تاجروں کےذریعے اور پھر سندھ میں عربوں کی فتح کے بعد اور آخر میں ترکوں کی فتح کے بعد شمالی ہندوستان میں آیا ۔ تواریخ کے مطالعہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاں جہاں اسلامی فتوحات ہوئیں اور جو جو ممالک فتح ہوئےوہاں سیاسی قوت کے ساتھ اسلام کو استحکام ملتا گیا۔
600 عیسوی کے لگ بھگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے عرب اور ہندوستان کے لوگ آپس میں تجارت کے سلسلے سے آتے جاتے تھے ۔عرب تاجر باقاعدگی سے ہندوستان کے مغربی ساحلوں پر اشیا بیچتے تھے اور جب عربوں نے اسلام قبول کیا تو قدرتی طور پر اسلام تاجروں کےذریعے ہندوستان کے ساحلوں پر پھیلنا شروع ہوگیا،لیکن حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں اسلام کی تاریخ اس سے بہت زیادہ پرانی ہے۔ڈاکٹر عبد القدیر خان نے 16اکتوبر2009میں ایک کالم لکھا جس میں انہوں نے یہ ذکر کیا کہ شق القمر کے موقع پر ہندوستان میں اسلام کی کرن آپہنچی تھی ۔شق القمر کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ کفار مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہے کہ اگر آپﷺ واقعی اللّہ کے پیغمبر ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاند کے دو ٹکڑے کرکے دکھاے تو آپؐ نے انگلی سے چاند کو اشارہ فرمایا اور چانـد آپؐ کے اشارے سے دو ٹکڑوں میں تقسيم ہوگیا اور یہ واقع قرآن و احادیثِ مباركہ مـیں بھی آیا ہے ۔حضرت ابنِ مسعود رضي اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہو گیے کہ ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپری جانب تھا اور دوسرا نیچے کی طرف۔ رسول اللہ ؐنے( کافروں کی طلب پر یہ معجزہ دکھا کر ان سے) فرمایا کہ میری نبوت یا میرے معجزۂ کی شہادت دو۔(مشکوۃ شریف).
اور شق القمر کا واقعہ جنوبی ہندوستان کی ریاست کیرالاکےہندو راجہ نے بچشم خود دیکھا تھا،پھر اگلے دن بادشاہ نے اپنے درباری علما ٕ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کا تذکرہ ان کی مذہبی کتب میں موجود ہے ۔ڈاکٹر عبدا لقدیر خان ؒنے اپنے ایک کالم میں اس واقعہ کا تذکرہ کیا ہے۔جو ڈاکٹر صاحب نے 14 اکتوبر 2009میں کالم لکھی تھی اور کیرالہ کے راجہ بھوج پاک کو جب اپنے علما ٕ اور رہنمائوں نے اس بات کی تصدیق کی اور تفصیلات معلوم ہونے پر راجہ خدمت اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش ہوا اور مسلمان ہو کر لوٹا اور ہندوستان میں پہلی مسجد تعمیر کی جو کہ کیرالہ کی چیرامن جامع مسجد کے نام سے مشہور ہے، جو آج بھی وہاں موجود ہے اور یہی ہند کی پہلی مسجد ہے۔ہجرت کے 15سال بعدعمر فاروق ؓکے دور ہی میں اسلام ہندوستان میں آچکا تھا ۔سب سے پہلے3 صحابی آئے اور تینوںطایف کے رہنے والے تھے، سکفی قبیلے سے تعلق تھا اور بمبی تھانہا بڈہوش ،ان تمام علاقوں میں انہوں نے اسلام کی دعوت دی، پھر اس کے بعد کہا جاتا ہے تقریباً 28 صحابہ کی آمد ہندوستان کے مختلف ساحلی علاقوں میں آنا ثابت ہے۔اور ظاہر سی بات ہے صحابہؓ اس وقت آئے تھے ۔اسلام کی دعوت دینے کے لئے آئے تھے ۔ان 28صحابہ کے بعد تقریباً 42 شاگرد صحابہ کے افغانستان سے لیکر ہندوستان کے مختلف علاقوں میں دعوت دین کے لیے آئے تھےاور یہاں پہ اسلام کی دعوت کسی حد تک عام ہو چکی تھی اور کچھ حضرات کا کہنا ہے محمد بن قاسم ؒ نے ہندوستان میں اسلام کی دعوت دی جبکہ یہ صیح نہیں ہیں۔محمد بن قاسم جو 1992 میں سندھ پر حملہ کیا ،راجہ داہر پر وہ اس وقت جہاد کے لیے آئے تھے ۔کہا جاتا ہے کہ بلوچستان اور سندھ میں پانچ سو مسلمان گھر موجود تھےاور بقول شیخ ظفر الحق ایک مسلمان عورت پر راجہ داہر کے ڈاکوؤں نے ظلم کیا اور اسی ظلم کو مٹانے کے لیئے محمد بن قاسم آئے۔یہ بات ذہین میں رکھنی چاہئے کہ ہندوستان سے مراد آج کا ہندوستان نہیں بلکہ بر صغیر مراد ہوتی ہے ۔جس میں پاکستان ،ہندوستان ،افغانستان، برما ،بنگلہ دیش موجود ہے ۔افغانسان بھی ہندوستان کا ایک حصہ ہی تھا یہ 1926میں الگ ملک بنا۔
فثح مکہ کے موقع پر بت منات کو ہندوستان لایا گیا اور اس کے نام کے ساتھ سو (100)لگا کر سومناتھ کے مندر میں رکھ دیا گیااور تب سلطان محمود غزنوی کو دربار نبوت سے اس بت کو توڑنے کا آسان ہوااور انہوں بہت دفعہ سومنات مندر پہ حملہ کیا اور آخر کار اس بت کو توڑ دیا۔یہ کئی وجوہات تھیں ہند میں راہ حق کا سورج طلوع ہونے کا ۔
(مصنف راجپورہ شاہورہ سے ہے اور دو کتابوں کے مصنف بھی ہے اور کم عمر ناول نگار بھی ہے)
9596402379
�������