گزشتہ ہفتے ہم نے جو موضوع چھیڑا وہ کافی طویل اوردقیق موضوع ہے لیکن یہ بحیثیت قوم ہمارا سب سے بڑا اور اہم ترین موضوع ہے کیونکہ اسی پر ہمارے مستقبل بلکہ ہمارے وجود کا سارا دار و مدار ہے ۔ہم آج تاریخ کے جس موڑ پر کھڑے ہیں ،وہ ہماری مکمل فنا کے ساماں کرچکاہے ۔لیکن اس سے پہلے کہ ہم اپنی عظیم تہذیب ،تمدن،مذہبی شناخت اور پانچ ہزار سال کی شاندار تاریخ کے ساتھ وقت کی گرد میں ہمیشہ کے لئے گم ہوجائیں، ایسے امکانات تلاش کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے جو ہمارے وجود کو بچانے میں مددگار ہوسکتے ہوں ۔اس سے پہلے بھی ایسے کئی دور آئے جب ہمارا قومی وجود دائو پر لگا لیکن ہم نے صبر و ضبط کے ساتھ انتظا ر کیا، یہاں تک کہ قدرت نے ہمارے لئے نئے راستے کھول دئیے اور ہم فناکی سرحد سے سرخرو ہوکر لوٹ آئے ۔قدرت نے ہمیں نہ سکھ دور کے ظلم و استبداد سے مٹنے دیا ، نہ افغانیوں کے اور نہ ڈوگروں کے، لیکن یہ وہ وقت تھا جب ہم میں کوئی تفریق نہیںتھی۔نہ مذہبی ، نہ سیاسی ، نہ مسلکی ، نہ نظریاتی ، نہ تہذیبی نہ اخلاقی ۔ہم اپنی چھوٹی سی اقلیتوں کے اس کے باوجود محافظ تھے کہ وہ ہر جابر اور ظالم حکمراں کے دربار کے اہم ستون ہوتے تھے ۔موئے مقدس کی تحریک میںہماری قومی مفاہمت کایہ عالم تھا کہ شہر سرینگر نے دیہات سے آنے والے لاکھوں لوگوں کو اُس وقت تک سرآنکھوں پر بٹھایا جب تک نہ موئے مقدس دستیاب ہوا۔دنیا نے دیکھا کہ کوئی قوم متحد ہو تو وہ طوفانوں کا رخ موڑ سکتی ہے ۔شیر بکرا اختلاف ہمارا پہلا نظر یاتی اختلاف تھا لیکن اس اختلاف پر کوئی قتل کبھی نہیں ہوا۔مباحث ہوتے تھے اور کبھی کبھی تلخ مباحث بھی ہوتے تھے لیکن پھر بھی ایک ہی گھر میں شیر اور بکراسکون کے ساتھ رہا کرتا تھا ۔نوے کی دہائی میں پوری قوم متحد ہوکر عسکریت کی حمایت میں کھڑی ہوگئی ۔نہ کوئی شیر رہا نہ بکرا رہا ۔آستاں پرست بھی پیش پیش تھا اور مخالف بھی لیکن اس کے بعد خود بندوق نے مختلف نظریات ، مختلف عقاید ، مختلف روایات اور مختلف اختلافات کی سرپرستی کرنی شروع کردی ۔جن بے شمار عسکری تنظیموں کا قیام عمل میں آیا، وہ الگ الگ نظریاتی حلقوں کی نمائندگی کررہے تھے ۔کچھ اعتدال پسند تھے ، کچھ انتہا پسند تھے ،کچھ بنیاد پرست ،کچھ صوفی ازم کے حامی ،کچھ صوفی ازم کے مخالف ، کچھ خود مختار کشمیر کے حامی ، کچھ الحاق پاکستان کے حامی ۔المیہ یہ ہوا کہ نہ صر ف ان اختلافات کو پنپنے دیا گیا بلکہ عقاید کو ایک دوسرے پر حاوی کرنے کی کوششیں بھی ہوئیںاور بعد میں یہ کوششیں تشدد کا رخ بھی اختیار کرنے لگیں ۔بالا دستی کی کشمکش نے عسکری تحریک پر وہ ضرب لگادی کہ اس کی کوکھ سے عسکریت مخالف عسکریت نے جنم لیا ۔بے شک اس میں سرکاری ایجنسیوں نے اہم کردار ادا کیا لیکن بیج تو پہلے سے ہی موجود تھے ۔اس طرح سے رفتہ رفتہ غیر محسوس طریقے پر وہ ماحول تیار ہونے لگا جس میں عسکریت کا دائرہ تنگ ہونے کے زیادہ امکانات پیدا ہوتے گئے۔اس دور ان کشمیر کی سیاسی ،تہذیبی، ثقافتی اور اخلاقی وحد ت کے پارہ پارہ ہونے کا و ہ عمل تیزی کے ساتھ فروغ پانے لگا جس نے آگے چل کر کشمیر کی صورت ہی بدل کر رکھ دی ۔عسکری تحریک کا جائز ہ لیتے وقت جو بہت سارے پہلو سامنے آتے ہیں ،ان میں کشمیر کی تہذیبی انفرادیت ایک اہم ترین پہلو ہے کیونکہ یہی ہماری سیاسی جدوجہد کی تاریخی بنیاد ہے ۔مغل سلطنت ایک مسلم سلطنت تھی ۔مسلکی جبر نے شیخ حمزہ مخدوم کو اکبر اعظم کے پاس وفد بھیج کر مدد طلب کرنے پر مجبور کردیا لیکن اس کے باوجود کشمیر نے مغلوں کی حمایت نہیں کی بلکہ ان کے خلاف جدوجہد کا بیڑا اٹھایا کیونکہ انہیں مغلوں کی حکومت اپنی تہذیبی انفرادیت کیلئے بہت بڑا خطرہ نظر آرہی تھی ۔مغلوں کو کشمیریوں کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لئے انتہائی جبر سے کام لینا پڑا ۔ کشمیریوں نے افغانیوں کو بھی قبول نہیں کیا ۔ کشمیری پنڈتو ں نے مغلوں کا بھی ساتھ دیا او ر افغانیوں کا بھی، اس کے باوجود بھی مسلم اکثریت نے انہیں اس وقت بھی گلے سے لگائے رکھا جب جموں میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کردیا گیا ۔اس شاندار تاریخی اور تہذیبی عظمت کو عسکری تحریک کے آغاز میں ہی ملیا میٹ کردیا گیا ۔پنڈتوں کا کشمیر چھوڑ جانا کشمیر کی تہذیبی اور ثقافتی قدروں پر ایک کاری ضرب تھی ۔اگر کوئی کشمیری پنڈت کسی جنگجو کی گولی کاشکار نہیں ہوتا توان کی ہجرت کا ہم پر کوئی الزام نہیں ہوتا اور یہ ہجرت فرار سے تعبیر ہوتی لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوا ۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پنڈت کئی کشمیر مخالف سازشوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ۔ڈوگرہ مطلق العنانیت کیخلاف تحریک کے دوران بھی اور اس کے بعد 53ء کی سازش میں بھی پنڈت رہنمائوں کا نمایاں کردار رہا۔ہندو مسلم سکھ اتحاد کے سب سے بڑے علمبردار شیخ محمد عبداللہ کے وہ سب سے بڑے مخالف تھے کیونکہ اس نے جاگیر داری کا خاتمہ کردیا تھا ۔لیکن ان سب باتوں کے باوجودبھی اس چھوٹی سی اقلیت کی موجودگی ہماری تہذیبی انفرادیت کی علامت تھی ۔محدود سوچ رکھنے والے بہت چھوٹی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں لیکن دور اندیش لوگ اپنے وقت سے بہت آگے دیکھتے ہیں اور انہوں نے اسی وقت اندازہ کیا تھا کہ پنڈتوں کے نکل جانے کی وجہ سے کشمیر کو اور کن کن غیر متوقع حالات کا سامناکرنا پڑے گا ۔اس واقعہ نے ہندوستان کے اس باشعور طبقے جو ہماری حق خود ارادیت کی جدوجہد کی کھل کر حمایت کررہا تھا کوہمارا مخالف بنادیا ۔اس طرح یہ ایک بہت بڑی سیاسی غلطی ثابت ہوئی ۔ا اس کے ساتھ ساتھ یہ ہماری تہذیبی انفرادیت کا سب سے بڑا نقصان ہے اوریہ واقع ہماری آنے والی ہر نسل کی شرمندگی اور نقصان کا باعث ہوگا۔اس دوران کشمیر کی تہذیب اور اس کی نسلی اور علاقائی قدرو ں کو تبدیل کرنے کی بھی کوششیں ہوئیں،شاید اس کے پیچھے یہ سوچ تھی کہ کشمیر کی تحریک مزاحمت کو سیاسی جدوجہد کے خول سے نکال کر مذہبی جدوجہد کا لباس پہنایا جائے ۔ یہ ایک بہت بھیانک غلطی تھی کیونکہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ تھا اور اقوام متحدہ میں بھی اس کی حیثیت سیاسی مسئلے ہی کی تھی۔واقعات گواہ ہیں کہ اسی کوشش نے مسئلہ کشمیر کو عالمی حمایت سے محروم کردیا اور اقوام متحدہ نے بھی اس کے بعد اس مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی ۔اس بات کو نہ سمجھنے کی کوشش کی گئی اورنہ ہی اسے کوئی اہمیت دی گئی ۔ زمینی سطح پر کشمیر کی تہذیبی قدروں کو تبدیل کرنے کی جارحانہ کوشش تیز ہوتی گئیں۔ اسی دور میں غیر محسوس طریقے پر بچوں کے کشمیری نام رکھنے کا چلن تبدیل ہوا ۔ عربی نام رکھنے کا ایک فیشن شروع ہوا ۔عام کشمیریوں کو یہ یقین دلایا گیا کہ اول تو کشمیری نام پچھڑے پن کی علامت ہیں اور دوم یہ ہماری مسلم شناخت کی تشفی نہیں کرتے ۔زبان کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔کشمیری زبان کا تقریباً پورا لٹریچر صوفی اور ریشی سوچ اور جذبوں کی عکاسی کرتا ہے ۔رسول میر اور مہجور کے علاوہ شاید ہی کوئی کشمیری شاعر ہوگا جس کی شاعری عشق مجازی سے لبریز ہو۔اس کی جگہ اردو میں اقبال کی شاعری ہے اور مذہبی لٹریچر کا ایک خزانہ ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے کشمیری کی جگہ عام بول چال کی زبان تبدیل ہوکر اردو ہوگئی۔ اس دوران عربی لباس بھی دیکھتے میں آیا اور خواتین کا پردہ بھی عربی طرز اختیار کرنے لگا ۔لوگ خوشی کے ساتھ اس تبدیلی کے ساتھ ہوتے گئے کیونکہ انہیں یہ لگ رہا تھا کہ اب وہ اصل دین کی طرف آرہے ہیں ۔شادی بیاہ کے مواقع پر کشمیری گیت گانے کا سلسلہ بھی رفتہ رفتہ ترک کیا جانے لگا ۔گانے بجانے کی مخالفت اور ممانعت ہونے لگی لیکن گانا بجانا ترک نہیں ہوا، صرف کشمیرکے روایتی ونہ وون کی جگہ فلمی گانوں اور پنجابی گانوں نے لی۔اس طرح کشمیری تہذیب کو عربی تہذیب میںغرق کرنے کی کوشش کامیاب تو نہیں ہوسکی لیکن کشمیری تہذیب کا خاتمہ ہوا اور اس کی جگہ پنجابی ، عربی اور انگریزی تہذیب کے اثرات نے مل کرایسی تہذیب کو جنم دیا جس نے اندر ہی اندر ذہنوں کو تہذیبی کشمکش کا اکھاڑہ بنادیا ۔یہ بات کوئی نہیں سمجھ سکا کہ عربی تہذیب کا اسلامی تہذیب سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اسلام خود ایک تہذیب ہے جو تمام عالمی تہذیبوں کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلامی تہذیب اخلاقی بنیادوں پر کھڑی ہے ۔علاقائی روایتوں اور زبانوں پر نہیں۔عرب سے باہر بہت سی عظیم تہذیبوں نے اسلام کو گلے لگایا لیکن کسی نے بھی عربی تہذیب کو قبول نہیں کیا ۔اسلام ایک آفاقی دین ہے کوئی علاقائی دین نہیں ۔عثمانی خلافت نے چھ سو سال تک عرب پر حکومت کی ۔ عثمانیوں کی تہذیب مختلف تھی، اس لئے عربوں نے نہ اس خلافت کو اور نہ ہی اس تہذیب کو قبول کیا ۔آج جب ترک ڈراما ’’ التغرل ‘‘ دنیا میں سب سے مقبول ڈراما بن چکا ہے ۔ مصر اور دیگر عرب ممالک اسے دیکھنا بھی حرام قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ عثمانی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے ۔حالانکہ عام عربی اس کے باوجود اسے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ مسلمانوں کے عروج کی بھی عکاسی کرتا ہے ۔دنیا کا ہر انسان کسی نہ کسی تہذیب میں جنم لیتا ہے ۔یہ تہذیب اس کے وجود کا لافانی حصہ ہوتی ہے ۔ مذہب اس کی روح کا احاطہ کرتا ہے ۔دونوں اپنی اپنی جگہ رہیں تو دونوں کافطری ارتقاء ہوتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کو مضبوط بناتے ہیں ۔ تہذیب ایک مخصوص فطرت تیار کرتی ہے اور ایک مخصوص سوچ پیدا کرتی ہے ۔کسی تہذیب کو دوسری تہذیب میں زعم کرنے کی کوشش فطرت کو تبدیل کرنے کی کوشش ہی ہوسکتی ہے ۔ کشمیر نے اپنی تہذیبی انفرادیت کو ختم کرکے اپنے شعور کے ٹکڑے کرکے رکھ دئیے اور ہمارے قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرکے رکھدیا۔اس کا نتیجہ یہی ہونا تھا کہ احداف بکھر کر رہ گئے اور سیاسی ہزیمتوں کے راستے کھل گئے۔
یہ اس صورتحال کا محض ایک پہلو ہے جس نے ہمیں آج کی کسمپرسی کی حالت پر پہنچادیا ۔اس کے اور بہت سارے پہلو ہیں جنہیں جاننا اور سمجھنا ہمارے لئے ضروری ہے، تب ہی کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے جو ہمیں مکمل تباہی سے بچاسکتا ہے ۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہمیں برصغیر میں قومی اور سیاسی وقار حاصل تھا ۔کیا ہمیں اس بات پر غور نہیں کرنا چاہئے کہ کیسے ہم نے یہ وقار اس حد تک کھودیا کہ بانہال کے اُس پار بھی ہمیں دھتکارا جارہا ہے اور ایل او سی کے اُس پار بھی ہم پر سوال اٹھ رہے ہیں ۔اس کا جائزہ اگر گہرائی اور سچائی کے ساتھ لیا جائے تو کئی تلخ حقائق بھی سامنے آئیں گے۔ ہمیں ان تلخ حقائق کا فراخ دلی کے ساتھ سامنا کرنا ہوگا ۔اگر برداشت کا مادہ ہم میں نہیں ہو گا تو ہم پہلے کی طرح ہر سچ بولنے والے کو دشمن سمجھ کر اس کا خاتمہ کرنے کا عزم کریں گے لیکن اس سے کیا ہوگا ،سوائے اس کے کہ ہم اور زیادہ غلطیاں کریں گے اور اپنے لئے اور زیادہ تباہی کے ساماں کریں گے ۔