تھنہ منڈی //تھنہ منڈی کے رتن پیر، منیہال گلی، لاہ والی بائولی،دیرہ گلی اور شاہدرہ شریف قدرتی حسن سے مالا مال علاقے ہیں جنہیں ہمیشہ سے نظرانداز رکھاگیاتاہم حال ہی میں متعلقہ وزیر نے اس حوالے سے پروجیکٹ مرتب کرنے کی ہدایت دی ہے ۔دیرہ گلی جو تھنہ منڈی سے صرف 11 کلو میٹر دوری پر ہے ، سر سبز و شاداب ،تازہ ہوا اور دلفریب مقام کے طور پر شناخت رکھتاہے ۔اس مقام سے تھوڑی دور رتن پیر ہے جہاں ایک بزرگ کی آماجگاہ بھی ہے اوراس کے بغل میں سکھ سر، نندن سر اور کال ڈچھنی سرجیسی سات جھیلیں ہیں جنہیں دیکھ کر واقعی قدرت کے نظاروں کا احساس ہوتاہے۔ تھنہ منڈی سے صرف چھ کلو میٹر کی مسافت پر با با غلام شاہ بادشاہ کی معروف زیارت ہے جہاں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں زائرین حاضری دینے آتے ہیں۔قصبہ کے گردونواح میں گھنے جنگلات بھی ہیں جس سے اس علاقے کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوجاتاہے ۔مقامی لوگوں نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ دیرہ گلی جو سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ کی درمیان واقع ہے ،کوسیاحتی نقشہ پر لاکر سیاحتی مقام بنا یا جائے تاکہ یہاں کے بے روزگا نوجوانوں کو روزگار فراہم ہو سکے۔ رابطہ کرنے پر چیف ایگزیکٹو آفیسر محکمہ سیاحت راجوری طاہر فردوس نے کہا کہ محکمہ کے ریاستی وزیر کی ہدایات ہیں کہ رتن پیر، دیرہ گلی، پنگائی اور منیہال گلی کے علاقوں کے لئے ایک پروجیکٹ مرتب کیا جائے۔ انہوں نے کہا محکمہ کوشش کر رہا ہے کہ ایک ایسا پروجیکٹ مرتب کیاجائے جس سے علاقے کے ماحول میں بگاڑ اور آلودگی کے بنا سیاحتی ترقی ہوسکے۔انہوں نے بتایاکہ اس پروجیکٹ کی عمل آوری سے مقامی نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوںگے ۔مذکورہ افسر نے بتایاکہ علاقے میں سیاحوں کے قیام کی خاطر ہٹ بھی تعمیر ہوںگے ۔