سرینگر//تخمینہ سے لیکر بلوں کی ادائیگی تک کے عمل میں غیر ضروری طوالت ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کے وزیر عبدالرحمٰن ویری نے کہاکہ ایگزیکٹو انجینئراور اے سی ڈی کے درمیان بہتر تال میل قائم کرکے ہر ایک کام کو مقررہ مدت میں مکمل کیاجائے۔رورل انجینئرنگ ونگ کے افسران کے ساتھ منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہاکہ مرکزی معاونت والی سکیموں کی مدد سے سب سے زیادہ پیسہ اسی محکمہ میں آتاہے اورلوگوں کی سب سے زیادہ خدمت بھی اسی محکمہ سے کی جاسکتی ہے لیکن یہ دیکھاگیاہے کہ اس پیسے کی مستحقین تک منتقلی میں بہت طوالت ہوتی ہے۔غیر ضروری طوالت کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے ویری نے کہاکہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بناتے ہوئے تمام کاموں کو مقررہ مدت میں مکمل کیاجائے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ رواں مالی سال کے دوران ہونے والے کاموں کا تخمینہ بیس دنوں کے اندراندر ایکشن پلان کے تحت مکمل کیاجائے۔انہوں نے ایگزیکٹو انجینئروں اور اے سی ڈیز کے درمیان بہتر تال میل کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ تال میل جی آر ایس اور ٹیکنکل اسسٹنٹ تک نچلی سطح پر بھی ہوناچاہئے۔ویری نے کہاکہ آج کے بعد یہ شکایت نہیں ملنی چاہئے کسی کام کا تخمینہ تیار کرنے میں چار چار ماہ لگے جس کی وجہ سے لوگوں کو دفاتر کے چکر کاٹنے پڑے۔ان کاکہناتھاکہ کام کے طریقہ کار میں بدلائو لاناہوگااور اور ایگزیکٹو انجنینئروں کو اس بات کاانتظار نہیں کرناہوگاکہ کب کاغذان کے پاس پہنچے گابلکہ انہیں اپنے ماتحت ٹیکنکل عملے کیکام کا وقت بروقت جائزہ لیناہوگا اور انہیں ہی تکنیکی طور پر نگرانی بھی کرناہوگی۔وزیر موصوف نے کہاکہ ایگزیکٹو انجینئر محکمہ دیہی ترقی کو دیگر محکمہ جات کے انجینئرنگ ونگ کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ اس محکمہ کا بنیادی مقصد عوامی شراکت داری سے ترقیاتی امور انجام دیناہے اوربیروزگاری کے اس دور میں زیا دہ سے زیادہ لوگوں کو ترقیاتی سکیموں کی عمل آوری میں شامل کیاجائے۔ویری نے ایگزیکٹو انجینئروں پر زور دیاکہ وہ تجربہ کار ہونے کے ناطے محکمہ کے کام کاج میں اختراعی تدابیر لانے کا سبب بنیں اور نئے سے نئے اقدامات کرنے کی تجویز پیش کریں۔انہوں نے ہدایت دی ہر ایک ضلع کی کارکردگی رپورٹ ماہانہ بنیاد پر حکام کو روانہ کی جائے اور عوامی شکایات کا بروقت ازالہ کیاجائے۔اس دوران انہوں نے انجینئرنگ ونگ کے مسائل حل کرنے کا بھی یقین دلایا۔میٹنگ میں محکمہ کی سیکریٹری شیتل نندا،ڈائریکٹر کشمیر نذیر احمد شیخ،ڈائریکٹر فائنانس شادی لعل پنڈتا،ڈائریکٹر پلاننگ سید شبیر شفیع اوردونوں صوبوں کے ایگزیکٹو انجینئران بھی موجو دتھے۔