روحانی اعتبار سے امراضِ قلب کا انتہائی سنگین اور ہولناک قسم مرض تکبر ہے۔ تکبر سے مراد اپنی ذات کو دوسروں کے مقابل نہ صرف فائق بلکہ دوسروں کو اپنے مقابل خفیف اور حقیر سمجھنا ہے۔ یہ ایسامہلک مرض ہے جو انسان کو بصارت کے نور اور بصیرت کے زیور سے محروم کردیتا ہے۔ رفعت کی منزلوں سے گر ا کراُسے سرکشی، ذلت وپستی اور تاریکیوں کی گمنام وادیوں میں دھکیل دیتا ہے۔ یہ فعلِ بد اس قدر بدبودار ہے کہ حلم وبردباری کی روح افزا مہک کو بھی سلب کردیتا ہے ۔اس سے غصے میں شدت پیدا ہوجاتی ہے ۔ انسانی ذہن کا توازن درہم برہم کرکے رکھتا ہے اور اس پر ایسے مضرت رساںاثرات مرتب کرتا ہے جن سے حقیقی عقل کا چراغ ہی گُل ہوجاتا ہے ،نتیجہ یہ کہ اُسے دوسروں کی باتیں عجیب و غریب محسوس ہونے لگتی ہیں، اُن کا وجود کمتر معلوم ہوتا ہے، اُن کا رہن سہن معدوم ((obseleteنظر آتا ہے حتاکہ کہ اُن کی ظاہری ساخت ) physical appearance)پر بھی استعجاب ہو تا ہے اور اپنی ہر ا ک پُراستکبار ادا نرالی ہی نرالی نظر آتی ہے۔ اس ناپاک فعل کا اظہار کئی سطحوں پر ہوتا ہے جس کے متعدد اسباب درجہ ذیل ہیں:
۱) علم ۲) حُسن وجمال ۳) مال ودولت ۴) طاقت وقوت ۵) عہدہ ومنصب ۶) حسب ونسب ۷) صلاحیت
باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو پتا چلے گا کہ ایک قطرہ ناپاک ’ نُطفہ‘ ( (sperm کا کیا سٹیٹس (status) ۔یعنی رُتبہ ہوتا ہے ؟ اس بدبودار ُنطفہ کی حیاتیاتی ساخت (biological composition ) یکساں ہے جس سے ہم سب وجود میں پائے ہیں تو پھر غرور کس بات کا؟ جب انسان کی لاش چارپائی پر پڑی رہتی ہے اس وقت اُس کا مرتبہ کیا ہوتا ہے؟ ایک بے حس و لاچار وجود کے سوا کچھ بھی نہیں۔ طاقت خواہ جسمانی نوعیت کی ہو یا ذ ہنی،ہر اعتبار سے اللہ پاک کی عطا کی ہوئی نعمت ہے نہ کہ انسان کی خودساختہ ، تو پھراس میں تفاخُر کی آمیزش کیسی؟اسی طرح علم ایک دولت ِ نایاب ہے جس کا حقیقی منبع صرف رحمن خُدا کی ذات ہے ۔اب اگر انسان اس نعمت سے باریاب ہو ا تو اس کا زہے نصیب پھر گھمنڈ کی حاجت کیا؟تکبر درحقیقت شیطان کا تعارف ، اس کی شناخت ہے کیونکہ اس قبیح عمل کابانی (founder )ہے جس کا ذکر قرآن کے سب سے طویل ترین سورہ ’البقرہ‘میں آتا ہے جب ابلیس نے مٹی کے پُتلے ’ حضرت آدمؑ‘ کو اللہ کے فرمان کے مطابق سجدہ کرنے سے انکار صرف اس بنا پر کیا کہ وہ (ابلیس) آگ سے بنا ہے بھلا مٹی کو آگ سجدہ کیسے کرسکتی ہے تو اس طرح خدائے بزرگ و برتر کا باغی بن کر ابد تک نافرمانیوں کے بھیانک اندھیروں میں جا گرا ۔ حسب ونسب پر فخر سے مُراد اپنی ذاتcaste) (یا خاندانی نام پر فخر کرکے یہ جتلانا کہ میرا تعلق فلاں فلاں خاندان سے ہے اورمعاشرہ میںموجود اسی جاہلانہ رسم کا پجاری بن کر رشتوں کا انتخاب عمل میں لانا۔ کسی کو طعنہ دینا کہ تو اس نیچ ذات کا ہے اُس حقیر ذات کا ہے ایک جاہلانہ سوچ کا بدبودار ظہار ہے ۔یہی تھا وہ نسلی تفاخُر و تعصب جس کی بنا پر یہود رسولؐ محترم کی رسالت کے منکر بن گیے حالانکہ وہ اس بات کا بخوبی علم رکھتے تھے کہ یہی وہ آخری پیامبرؐ ہیں جن کا ذکر اُن کے صحیفوں میں تھا۔یاد رہے کہ حضرت ابراہیم ؑکا باپ ’آزر ‘بتوں کا نہ صرف پجاری بلکہ بُت گر اور بُت فروش بھی تھا مگر اس جاہل اور مشرک باپ کے بیٹے ابراہیم ؑکو اللہ نے اپنا ’خلیل‘ (دوست)قرار دیا۔لہٰذا حسب و نسب پر طعن کرنا رُتبہ نہیں بلکہ جاہلیت کی نشانی ہے۔اللہ پاک نے سورہ حجرات میں عزت و حُرمت کا معیار (yardstick) اور پیمانہ متعین کر کے بیان فرمایا ہے کہ ’ اللہ کے نزدیک تُم میں سے عزت والاوہ ہے جو سب سے زیادہ تقوی شعار ہے‘۔ گویاوہ انسان جو بظاہر رنگین محلات ، پُرکشش گاڑیوں ، جاہ حشمت ، حسن و جمال ،جعلی سٹیٹس کا خود کو مالک تصور کرتا ہو اوربڑے پوسٹ پر فایض کیوںنہ ہو ، ڈگریوں سے لیس کیوں نہ ہو، اگر تقوی کی عظیم نعمت یعنی خوفِ خُدا سے محروم ہے تو اللہ کی نظر میں سب سے زیادہ بے عزت مانا جائے گا خواہ وہ دُنیا میں بظاہر کتنا ہی عزت دار کیوں نہ ہو۔ نبیؐ محترم اس تکبر سے پاک تھے ۔وہ عجزو انکساری کی عظیم ترین مثال تھے۔ تاریخ شاہدہے کہ دنیا کا مشہور بحری جہاز(Titanic )جو ۱۰ اپریل۱۹۱۲کو ساوتھ ہمپٹن برطانیہ سے 2224 مسافروں کو لے کر اپنے پہلے سفر پر نیویارک کی طرف روانہ ہواتواس کے مالک جے بروس اسمے نے تکبر کی بڑھک لگائی کہ’ اسے طوفانِ نوح تو کیا، اللہ بھی نہیں ڈبوسکتا ہے ‘۔اس جہاز میں کوئی بھی خرابی نہ تھی بلکہ کافی مضبو ط اور خوبصورت تھا،پر سفر کے چوتھے اور پانچویں روز کی درمیانی شب یہ ایک ایسے بر فانی تودے سے ٹکرا یا کہ دوٹکڑے ہوکر سمندر میں ڈوب گیا۔ 2224 مسافروں میں سے 1502 مسافر بھی اس کیساتھ ہی ڈوب گئے ۔ اس جہاز کی تباہی کا باعث صرف یہی تفاخرانہ انداز تھا جس کی وجہ سے یہ واقع رہتی دُنیا کے لیے نشانِ عبرت بن گیا۔قرآن و احادیث اس بات پر گواہ ہے کہ جو بھی انسان تکبر میں مبتلا ہوا، اُسے رسوائی کے سوا کچھ ہات نہ آیا۔ قرآن ِ مجید کے متعدد مقامات پر ایسی آیتیں ہیں جن پر سنجیدگی سے غورو فکر کرنے سے سٹیٹس کے غباروں کی ہوا نکل آتی ہے۔ تکبراللہ کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے ۔قرآن کا ارشاد ہے سورہ النحل آیت ۲۳ میں کہ ’ اللہ متکبر لوگوں کو ناپسند کرتا ہے‘۔یعنی متکبرین جنہیں اللہ ناپسند کرتاہے وہ اس قدر بدصورت بن جاتے ہیں کہ اللہ کی عظیم ذات اُن کو دھتکارتی ہے۔ تکبر تشبیح ہے فرعونیت سے اس لیے چونکہ فرعون نے اللہ کے مقابلے میں خدائی کاباطل نعرہ ’اعلیٰ ‘لگا کر تکبر کیا تو اُسے دردناک عذاب سے دوچار ہونا پڑا اور صبح ِ حشر تک اُسے عبرت کا سامان بنادیاگیا۔ اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کی برادری میں ایک شخص قارون تھا جس کا ذکرسورہ القصص میں تفصیل سے آیا ہے ۔ وہ اپنے حسن و جمال اور خوش الحانی کے سبب لوگوں میں ’ منور‘ کے لقب سے مشہور تھا ۔اسے دولت کی فراوانی حاصل تھی اور خزانے بے شمار عطا ہوے تھے جن کی چابیاں الگ الگ تھی جن کو اٹھانے کیلئے انتہائی طاقتور لوگوں کی جماعت متعین تھی ۔جب قارون کواپنی قوم کے لوگوں نے اشارہ کیا کہ قارون ا ترامت ! تو اس نے ایک نہ مانی بلکہ تفاخر کرنے لگا تو اللہ نے اسے گھر اور خزانوں سمیت زمین میں دھنسادیا۔ جعلی رتبوں کے وہ غبارے جن کی ہوا ابد تک نکل گئی، چند تاریخی مثالوںسے عیاںہے
٭فرعون پر خون، مینڈک اور دوسرے عذاب نازل ہوئے تو زچ ہوکر ر ہ گیا
٭قوم عاد نے اپنی طاقت کا نعرہ لگایا تھا مگر تیز ہوا نے ان کا بھوسہ بنادیا
٭ قوم ثمود اپنی مضبوط اور عالی شان رہایش گاہوں کے اندر ہلاک کردی گئی
٭نمرود کی ناک میںمچھر گھس گیا تھا ، اس کا رتبہ اسے نہ بچاپایا
یہ چند مثالیں مضبوط ترین حکومتوں ، حکمرانوں ، قوموں کی ہیں جن کے متکبر مزاج نے انہیں عذاب الٰہی میں مبتلا کردیا۔ایک تعجب انگیز امر یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنی دینداری، شُعلہ بیانی ، پاک دامنی کا بھی غرور سوار ہوتاہے کہ باقی سب انسان ناپاک اور صرف وہ سب سے پاک ہے حالانکہ کہ اللہ کا ارشاد ہے سورہ نجم آیت نمبر ۳۲ میں کہ’’ اپنی ذات کو پاک مت کہو اللہ خوب جانتا ہے کہ پاک کون ہے‘‘ ۔احادیث ِ نبویؐ میں بھی تکبر جیسے خفیف عمل کی مذمت ہوئی ہے چنانچہ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ نبیؐ محترم نے فرمایا کہ’ جس انسان کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا‘ ۔متکبرین کا انجام انتہا ئی دردناک نوعیت کا ہوگا جس کا تذکرہ جامع ترمذی کے حدیث نمبر2492 میں آتا ہے۔ حضرت عبدُللہ بن عمرو عاصؓ سے مروی ہے کہ صادقُ المصدوق پیغمبر ؐ نے فرمایا کہ ’’ متکبر ( گھمنڈ کرنے والے ) لوگوں کو قیامت کے دن میدان حشر میں چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کے مانند لوگوں کی صورت میں لایا جایے گا ، انہیں ہر جگہ ذلت ڈھانپے رہے گی، پھر وہ جہنم کے ایک ایسے قید خانے کی طرف ہانکے جائیںگے جس کا نام ’ بولس ‘ ہے۔اس میں انہیں بھڑکتی ہوئی آگ ابالے گی،وہ اس میں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ پئیںگے جسے ’ طینت الخبال ‘ کہتے ہیں ، یعنی سڑی ہوئی بدبودار کیچڑ‘‘۔
اے اللہ ہمیں اس وعید میں شمار نہ کرنا۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ تکبر کے اس مرض کا علاج کیا ہے ؟ اس وحشت ناک فعل کا خاتمہ جن حسین اعمال سے ممکن ہے وہ یوں ہیں۔
۱) انسان کو اللہ کا شکر گزار بن کر اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا ہر لمحہ اعتراف کرنا چاہئے۔
۲) مخاطبین کی بات کو اطمینانِ قلب سے سنے نہ کہ ان کے کلام کو منقطع کریں۔
۳)تواضع و انکساری کا لباس زیبِ تن رکھیں۔
۴)سلام کرنے میں پہل کریں
۵) قرآن ِ مُقدس کی نہ صرف تلاوت کریں بلکہ اس پر تدبرو تفکرکریں۔
۶) قول و فعل میں ہم آہنگی پیدا کریں۔
۷) یتیموں اور بیوائوں کی دادرسی کریں ۔
۸) حُسن اخلاق سے اپنا وجود آراستہ کریں ۔
۹) موت کو کثرت سے یاد کریں۔
الغرض یہ کہ انسان کو ہمیشہ یہ بات ذہن نشیں رکھنی چاہئے کہ تکبر صرف اور صرف اللہ ذولجلال کی صفت ہے اور اپنی ذات کو حقیر وفقیر ماننا ۔ہماری تمام صلا حیتیں اللہ کی عطا کی ہوئی ہیں ،ہم تو صرف اس کے امانت دار( (custodianہیں مالک نہیں۔ ہماری شیخی اللہ کی ذات میں ذرا برابر بھی کمی نہیں لاسکتی بلکہ ہم ہی رسوا اور ذلیل ہوکر اپنا ٹھکانہ ہولناک آگ کو پائیں گے۔ اس لیے کہ جب فرعون اور قارون اللہ کی گرفت سے نہ بچے تو ہم اور آپ کجا؟
(مضمون نگار گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں طب کے عالب علم ہیں)
ای میل۔ [email protected]