اگر فردوس بروئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
اگر دیکھا جائے تو کشمیر کی سرزمین واقعتا جنت کی مانند ہے۔ یہاں کے پھولوں کی پھلکاریاں،یہاں کے سرسبز جنگل اور پہاڑ دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔ ان ہی سرسبز اور شاداب ٹکڑوں میں سے کشمیر کے وسطی ضلع بڈگام کے دوردراز علاقہ کھاگ میں وسیع وعریض میدان’ توسہ میدان‘ ایک سرسبز و شاداب ، لوگوں کے دل لْبھانے میں اہم رول ادا کرتا ہے اور جو قدرتی حْسن کے شیدائی ہیں ان کے کلیجے کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔ توسہ میدان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ میدان وسیع وعریض ہونے کی وجہ سے توسیع میدان کہلاتا ہے جوبگڑتے بگڑتے توسہ میدان بن گیا ۔کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس میدان کو فارسی زبان میں "تْو شاہ میدان" کہتے تھے یعنی تمام میدانوں کا بادشاہ۔اگر توسہ میدان کی سیر کی جائے تو لگتا ہے کہ توسہ میدان واقعتامیدانوں کا بادشاہ ہے کیونکہ یہ اتنا وسیع وعریض ہے کہ یہاں مہینہ بھر رہ کر بھی توسہ میدان کو عبور نہیں کیا جاسکتا۔ سرسبز پہاڑوں کے بیچ یہ میدان قدرتی حْسن کی رعنائیوں کی داستان خود بیان کررہا ہے۔ اس کے کئی میدان قدرتی پھولوں سے سج کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان کرتے ہیں کیونکہ توسہ میدان کو سجانے والا صرف اللہ ہی ہے۔ اس کو جِلا بخشنے میں کسی انسان کا ہاتھ نہیں ہے ۔توسہ میدان باقی میدانوں سے خوبصورتی، بڑھائی اور سبزہ زار سے الگ ہے ۔یہاں باقی سیاحتی مقامات کی طرح ماحولیاتی آلودگی نہیں ہے۔ توسہ میدان میں واقع "گھٹہ مرگ" جو ایک چھوٹی سی وادی ہے، میں وادی کے سبھی سیاحتی مقامات کو ایک ہی کونے میں سمایا جاسکتا ہے۔ خوبصورتی ایسی ہے کہ سیاح انگشت بدنداں رہتے ہیں اور دیکھ کر حیران ہوجاتے ہیں۔ یہاں کا چھوٹے سے چھوٹا میدان عبور کرنے میں ایک شخص کو کئی گھنٹے لگتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب بھی کوئی شخص اس میدان سے پیدل سفر کرتا ہے تو توسہ میدان کی زمین اس شخص کے پاؤں دباتی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے جب پیچھے دیکھتے ہیں تو زمین اپنی ہی جگہ ہوتی ہے۔ یہ سب قدرت کا کرشمہ ہے۔ پتھروں کے نیچے سے بہہ رہا پانی گنگناتا ہوا بہہ رہا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ پریاں زمین کے نیچے سے گانا گارہی ہیں۔ توسہ میدان کے ارد گرد پانی کی نہریں گزر رہی ہیں جن کا پانی ٹھنڈا اور میٹھا ہوتا ہے۔ وہاں لوگوں کو ریفریجریٹر کی ضرورت نہیں پڑتی ہے کیونکہ یہ پانی گلیشئر سے پگھل کر سیدھے ان ہی نہروں سے نکل کر وادی کے بیشتر علاقوں کو بھی سیراب کرتا ہے اور اسی کے بیچ میں یہ میدان واقع ہے۔
توسہ میدان میں ہر ایک گھاٹی کا نام اور پہچان الگ ہے۔ گھٹہ مرگ، دَم دَم، کدلہ بل، ہفاس،مْلٹھ، مْہند لَب،اور چینا مرگ توسہ میدان کے خشک حصّے ہیں جبکہ گاڈہ سر، دمام سر، شْپ ناگ، کمام سر وغیرہ اس کے آبی حصے ہیں جو دیکھنے کے لائق ہیں۔ سَر کشمیری میں آبی ذخیرے کو کہتے ہیں۔ ان سروں سے جو پانی نکلتا ہے وہ آدھا پونچھ (جموں)جاتا ہے اور آدھا کشمیر۔توسہ میدان کی ایک اور خاصیت یہ بھی ہے کہ ماہی گیری کا شغل رکھنے والوں کی بھی دل بہلائی ہورہی ہے ۔مغل بادشاہ توسہ میدان سے ہوتے ہوئے پونچھ اور راجوری پہنچ جاتے تھے اور واپس آتے تھے اور توسہ میدان میں واقع دَم دَم پر کئی دن تک ٹھہرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ اس جگہ پر ایک قلعہ بھی تعمیر ہوا تھا جو بعد میں برف اور بارش اور سرکاری عدم توجہی کی وجہ سے زمین بوس ہوا ہے اور آج وہاں کوئی آثار نہیں ہیں۔ دَم دَم اس جگہ پر بنایا گیا تھا جہاں سے لگ بھگ پوری وادی کشمیر کے علاوہ توسہ میدان وادی کا بھی نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس علاقے کے لوگ آج بھی اسی راستے سے پیدل سفر طے کرکے پونچھ اور راجوری جاتے ہیں کیونکہ اس راستے سے پونچھ کا سفر صرف سات گھنٹوں میں طے ہوجاتا ہے اور پونچھ اور راجوری کے گوجر وبکروال اپنے مال مویشیوں کو اسی راستے سے واردِکشمیر کرتے ہیں ۔دلکش اور دلفریب توسہ میدان وادیوں سے گزر کر دل باغ باغ ہوجاتا ہے اور آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون ملتا ہے۔ اس علاقے کے لوگ موسم گرما میں اپنے مال مویشیوں کو اسی میدان میں چَرانے لے جاتے ہیں اور خود بھی گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے ماہ اپریل سے ماہ نومبر تک توسہ میدان میں ہی سکونت پذیر ہوتے ہیں۔ خاص طور سے وہ لوگ جو تحصیل کھاگ کے اوپری علاقے میں رہتے ہیں اور انہوں نے وہاں اپنے لئے جھونپڑیاں(ڈوک)بھی تعمیر کئے ہیں ان لوگوں میں رہ کر انسان کو ان کے رہن سہن کا ایک نیا تجربہ ہورہاہے اور انسان کفایت شعاری بھی سیکھتا ہے کیونکہ یہ لوگ کفایت شعار، مہمان نواز،خوش اخلاق اور محنتی ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں خاص طور سے(کدلہ بل اور ہفاس) میں مکھن، گھی اور لسی بھی ملتی ہے ۔جو لوگ یہاں سیر کرنے آتے ہیں وہ ان ہی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں یا اپنا خیمہ نصب کرکے قدرت کی کلا کاری کا لطف اٹھاتے ہیں۔ رات گزرنے کے بعد صبح کا نظارہ دیکھنے کے لائق ہوتا ہے ۔جھونپڑی یا خیمے سے باہر آتے ہی سبزہ زاروں کا نظارہ کرکے آنکھوں کو راحت محسوس ہوتی ہے،سکون قلب ملتا ہے اور ذہن تازہ ہوجاتا ہے۔ صبح کے وقت شبنم کے قطرے سورج کی روشنی سے ایسے چمک رہے ہوتے ہیں کہ لگ رہا ہے کہ سبزے پر سونا بچھا ہوا ہے اور وہی سونا چمک رہا ہے ۔ شبنم پر ننگے پاؤں چل کر انسان کی تمام بیماریاں دور ہوجاتی ہیں اس سے بالغ نظریں ہی نہیں بلکہ چھوٹے بچے بھی قدرت کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور نرم ملائم گھاس سے گْزر کر انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ سبز مخمل سے گزرتا ہے ۔سرمائی کھیلوں کیلئے بھی یہ جگہ کافی موزون ہے کیونکہ یہاں باقی علاقوں سے برف نسبتاً زیادہ گرتی ہے۔ کوہ پیماؤں کیلئے بھی یہ جگہ کافی دلچسپ ہے ۔
توسہ میدان میں ایک اونچی جگہ اس علاقے سے بدنام زمانہ ڈاکو لعل شاہ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ کہتے ہیں کہ لعل شاہ اپنے سپاہیوں کے ذریعے سے نئی نویلی دلہنوں کو چْرا کر اسی اونچی جگہ پر چْھپاتے تھے اور ان پر تشدد کرتے تھے جس کی وجہ سے اس علاقے کے لوگ تنگ آکر شادی کرنے سے گریز کرتے تھے۔ بعد میں لعل شاہ کو کھاگ علاقہ کے ایک گاؤں میں زندہ جلایا گیا اور اس طرح سے اس علاقے کے لوگوں کو اس ڈاکو سے چھٹکارا ملا۔
یہاں جو بھی سیر کرنے آتے ہیں انکا دل واپس آنے کا من نہیں کرتاہے۔ توسہ میدان کی خوبصورتی باعث توجہ بھی ہے اور باعث محبت بھی۔ کیونکہ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ وادی کے مشہور و معروف ولی شیخ نورالدین نورانیؒ بھی کئی بار توسہ میدان میں سکونت پذیر ہوئے ہیں اور جس جگہ پر آپؒ تشریف آور ہورہے تھے اس جگہ کو عَلم کے نام سے جانا جاتا ہے اور وہاں ایک مسجد شریف بھی تعمیر کی گئی ہے
اگر چہ کئی سال پہلے گورنمنٹ نے اس علاقے کو سیاحتی نقشے پر لانے کیلئے اس کو ایکو ٹورزم کا درجہ دیا تھا مگر بعد میں سرکار کی عدم دلچسپی اور عدم توجہی کے باعث توسہ میدان زیادہ تر چرواہوں تک ہی محدود رہا ہے اور توسہ میدان کو سیاحتی نقشے پر لانے کا خواب سراب معلوم ہو رہا ہے ۔یہ بھی قابلِ ذکر بات ہے کہ یہ سیاحتی مقام سیاست کا بھی شکار ہواہے۔ اگر توسہ میدان کو باقی سیاحتی مقامات کی طرح سیاحتی نقشے پر لایا جائے تو اس علاقے کے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار فراہم ہوجائے گا کیونکہ توسہ میدان جنت کا ایک ٹکڑا ہے جو قدرتی حسن کے شیدائیوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ فوج کے تصرف سے آزاد ہونے سے اب تک اس سیاحتی مقام کو فروغ دینے کی باتیں ہوتی رہیںلیکن عملی طور کچھ نہ ہوا اور آج بھی قدرت کا یہ شاہکار سرکار کی عدم توجہی کی وجہ سے سیاحوں سے نظروں سے مسلسل اوجھل ہے ۔
����������