عبدالمجید بھدرواہی
شہر جیسے اچانک رک سا گیا تھا۔ سڑکیں ویران تھیں اور آج کوئی ٹرانسپورٹ بھی دستیاب نہ تھا۔ میں اپنے کام پر جانے کے لئے بےتاب تھا مگر ہر سمت مایوسی میرا مقدر بن رہی تھی۔
کافی دیر بعد ایک کالج بس نظر آئی، جو پکنک کے لئے جا رہی تھی۔ قہقہوں اور شور سے بھری وہ بس چند لمحوں کے لئے رکی اور میں نے موقع غنیمت جان کر اس میں سوار ہونے کا فیصلہ کیا۔
بس کے اندر زندگی اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ موجود تھی، ہنسی، شوخی اور بےفکری۔ میں خاموشی سے ایک نشست پر بیٹھ گیا، جیسے اس ہجوم میں ایک اجنبی سایہ۔
مگر اسی شور میں ایک خاموشی بھی تھی۔
کھڑکی کے پاس ایک لڑکی بیٹھی تھی، سنجیدہ، خاموش، اپنے ہی خیالوں میں گم۔ اس کے چہرے پر ایک انجانی سی اداسی تھی۔ میں نے سلام کیا اور نرمی سے خیریت پوچھی۔
وہ مختصراً بولی، مگر دل کی کہانی اس کی آنکھوں میں صاف جھلک رہی تھی۔
باتوں ہی باتوں میں معلوم ہوا کہ وہ بھی حالات کی مجبوری سے اس سفر کا حصہ بنی تھی۔ والدین کے سائے سے محروم، وہ اپنے چچا کے سہارے زندگی گزار رہی تھی اور چاہتی تھی کہ جلد تعلیم مکمل کر کے ان کا بوجھ ہلکا کرے۔
میں نے بھی اپنے دل کا بوجھ اس کے سامنے رکھ دیا۔
میرے والدین ایک احسان کے قرض تلے دبے ہوئے تھے۔ کسی نے مشکل وقت میں ان کی مدد کی تھی اور اب وہ اس کا بدلہ اس شخص کی بیٹی سے میری شادی کر کے ادا کرنا چاہتے تھے۔ مگر میرا دل… ایک سادہ، دیندار اور سمجھدار ہمسفر کا خواہاں تھا، نہ کہ ایک مجبوری کا رشتہ۔
ہم دونوں اجنبی تھے مگر دکھ مشترک تھے اور شاید یہی مشترک دکھ ہمیں قریب لے آئے۔
چند دن بعد ہماری بات فون پر ہونے لگی۔ دونوں طرف ایک ہی کشمکش تھی، پنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق جینے کی خواہش اور بڑوں کی رضا کا احترام۔
آخر ہم نے ایک منصوبہ بنایا۔
وہ اپنے گھر والوں کو یہ باور کرائے گی کہ اسے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنی ہے اور ابھی شادی ممکن نہیں۔
اور میں یہ عذر پیش کروں گا کہ کمپنی مجھے بیرونِ ملک ٹریننگ کے لئے بھیج رہی ہے۔
یوں ہم نے وقتی طور پر اس رشتے کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کر لیا، شاید وقت ہمیں کوئی اور راستہ دکھا دے۔
پھر وہ دن آیا جب دونوں خاندان آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ رسمی گفتگو جاری تھی، چائے پیش کی جا رہی تھی اور فضا میں ایک سنجیدہ سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔
لڑکی پہلے ہی ہال میں موجود تھی۔
میں کچھ دیر بعد اندر داخل ہوا—سر جھکا ہوا، دل بوجھل مگر جیسے ہی میری نظر اس پر پڑی، وقت جیسے تھم گیا۔
وہی لڑکی!
اور وہ بھی حیرت سے مجھے دیکھ رہی تھی۔
چند لمحے خاموشی میں گزرے مگر ان لمحوں میں ایک پوری کہانی سمٹ آئی۔ بس کا وہ سفر، وہ باتیں، وہ دکھ، وہ منصوبہ…
اب فیصلہ مشکل نہ رہا۔
لڑکی نے ایک گہری سانس لی اور پُرسکون لہجے میں کہا:
“ابو… ابھی ابھی مجھے میرے پی ایچ ڈی گائیڈ نے یہ خوشخبری دی ہے کہ میری تھیسس کو منظوری مل گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میرا پی ایچ ڈی حاصل کرنا اب یقینی ہے… اس لئے اب مجھے مزید تاخیر کی ضرورت نہیں۔”
میں نے بھی اعتماد سے سر اٹھایا اور کہا:
“ابو… کمپنی کی طرف سے جو میرا بیرونِ ملک جانا طے تھا، وہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے منسوخ ہو گیا ہے… اس لئے اب میں بھی اس رشتے کے لئے تیار ہوں۔”
ہال کی فضا یکسر بدل گئی۔
جہاں انکار اور تاخیر کی باتیں ہو رہی تھیں، وہیں اب ایک خاموش سی خوشی پھیلنے لگی۔
دو منصوبے… جو بچنے کے لئے بنائے گئے تھے…
وہی ایک خوبصورت انجام کا ذریعہ بن گئے۔
اور یوں لگا جیسے تقدیر مسکرا کر کہہ رہی ہو،
“تم نے راستے بدلنے چاہے، مگر منزل تو میں نے پہلے ہی لکھ دی تھی۔
���
کریم منزل پیس اوینیو شیخ پورہ بڈگام ، کشمیر
موبائل نمبر؛8825051001