ڈوڈہ //سرکار کے بلند بانگ دعوئوں کے باجود سرکاری سکولوں میں سمارٹ کلاسز شروع کرنے اور طلاب کو موثر تعلیم فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے،حالانکہ سرکار نے دو سال قبل یہ اعلان کیا تھا کہ ریاست کے سرکاری سکولوں میں سمارٹ کلاسز شروع کئے جائیں گے لیکن دو سال گُذر جانے کے بعد بھی ابھی تک اسکے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ڈوڈہ میں سمارٹ کلاسز کیلئے منظور شدہ 53سکولوں میں سے ابھی تک فقط دو سکولوں میںانٹرنیٹ سہولیات دستیاب ہیں اور بیشتر سکولوںمیں ICT لیبارٹریاں فعال نہیں بنائی گئی ہیں۔باوثوق ذرائع کے مطابق مرکزی سرکا رنے 2015 میں آئی سی ٹی سکیم کے لئے دس سکولوں کو منظوری دی تھی۔تاہم ،ریاستی سرکار نے ان تمام سکولوں میںانفراسٹریکچر مہیا کیا ماسوائے جی ایچ ایس ایس بائز ڈوڈہ اور بھدرواہ میں ہی انٹرنیٹ سہولیات دستیاب ہیں۔مرکزی سرکار نے دوبارہ اسی ضلع کے دس سکولوں کو 2016 میں منظوری دی تھی اور فنڈز بھی منظور کئے لیکن ریاستی سرکار کی سست رفتاری اور اکاہلی سے ابھی تک سمارٹ کلاسوں کے لئے انفراسٹریکچر مکمل نہیں کیا گیا ہے۔ذرائع نے مزید کہا ہے کہ اگرچہ 2017 میں وزارت فروغ انسانی وسائل بھارت سرکار نے ڈوڈہ کے 33 سکولوں کو منظوری دی لیکن محکمہ نے ابھی تک ان سکولوں کیلئے بلڈنگ انفراسٹریکچر مہیا نہیں کی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ہر ایک سکول میں سامرٹ بورڈ، پروجیکٹر،یو پی ا یس، 9 کمپیوٹر اور دیگ رکمپیوٹر لیبارٹری سے متعلق انفراسٹریچر فراہم کرنے کے لئے فنڈزمنظور کئے گئے ہیں،تاکہ ان سکولوں کے طلاب کو ملک کے دیگر حصوں کے طلاب کے ساتھ جوڑا جائے اور سیمنار و تعلیم کے متعلق دیگر پروگرام دیکھنے کی سہولیت فراہم ہو۔ایسا باور کیا گیا تھا کہ اس سے طلاب خصوصاً ریاست کے دور افتادہ سکولوں کے طلاب کو اس سے جانکاری حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ان تمام سکولوں کو UDISE کوڈ الاٹ کیا گیا ہے لیکن ابھی تک یہ مقصد پورا نہیں کیا گیا ہے،جس کے وجوہات کا حُکام کو بخوبی علم ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سکولوں میں سمارٹ کلاسزشروع کرنے کے لئے سرکار نے سمارٹ کلاس ٹیکنالوجی میں 5 روزہ تبادلہ خیال سیشن بھی منعقد کیا ہے۔ سمارٹ کلاس روم قائم کرنے کا مقصد طلاب کو آڈیو ویجول طریقہ سے تعلیم فراہم کرنا ہے۔