عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتونے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں تعلیمی اداروں کو فوری طور آن لائن موڈ پر منتقل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے اور فی الحال اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے ان افواہوں کو مسترد کر دیا جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے کفایت شعاری اور ایندھن بچانے کے اقدامات پر زور دینے کے بعد حکومت جموں و کشمیر میں آن لائن کلاسز متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔
سکینہ ایتو نے کہا، ‘‘فی الحال ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ابھی اس حوالے سے کچھ زیر غور نہیں۔ آگے دیکھتے ہیں۔’’انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے نہ تو فزیکل کلاسز معطل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور ہے اور نہ ہی طلبہ کو دوبارہ مکمل طور پر ورچوئل یا آن لائن نظام تعلیم کی طرف منتقل کرنے کا کوئی فیصلہ لیا گیا ہے۔حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی تھی کہ ملک میں ایندھن کے تحفظ، اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری سے متعلق ممکنہ حکومتی اقدامات کے تحت دفاتر میں ‘‘ورک فرام ہوم’’ اور تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا نظام دوبارہ نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان قیاس آرائیوں کے بعد طلبہ، والدین اور اساتذہ کے درمیان بے چینی پائی جا رہی تھی۔تاہم سکینہ ایتوکے تازہ بیان نے ان خدشات کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح تعلیمی نظام کو بلا رکاوٹ جاری رکھنا اور طلبہ کے تعلیمی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انہوںکہا ہے کہ انڈر گریجویٹ،نیٹ پیپر لیک کیس کی تحقیقات مکمل طور پر شفاف ہونی چاہئیں اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی افراد امتحانی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے جائیں، ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔