سائمہ مقبول
رات کی ہوا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ گاؤں کے کچے راستوں پر شام کی اداسی ابھی تک پھیلی ہوئی تھی اور چھوٹے سے صحن میں رکھا مٹی کا چراغ ٹمٹما رہا تھا۔ زینب صحن کے کونے میں کپڑے دھو رہی تھی مگر اس کے ہاتھوں کی رفتار اس کے دل کے بوجھ کی طرح سست ہوتی جا رہی تھی۔ سسرال کے طنز، لوگوں کی نظریں — سب مل کر روز اس کی سانسوں کو گھٹاتے تھے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا جیسے وہ زندہ انسان نہیں بلکہ ایک نوکرانی ہے، ایک مشین ہے جس سے لوگ بس فائدہ اٹھاتے ہیں… اور بدلے میں اسے “شکر کرو” کا سبق دیتے رہتے ہیں۔
زینب کے ذہن میں ایک تصویر اب بھی زندہ تھی — یونیورسٹی کا لیکچر ہال لڑکیوں کی ہنسی، اساتذہ کی تعریف اور وہ لمحہ جب اُسے ’’سب سے بہترین طالبہ‘‘ کا سرٹیفکیٹ ملا تھا۔ اس دن وہ دنیا جیت سکتی تھی مگر دنیا نے اسے جینے نہیں دیا۔ شادی، ذمہ داریاں، لڑکیوں کا دوسرا مقصد گھر ہوتا ہے جیسے جملوں نے اس کی ڈگری کو الماری میں بند کر دیا۔ جب کبھی دل میں خواہش اٹھتی تو ساس کہتی خواب دیکھنا چھوڑ دو۔ عورت کی اوقات گھر تک ہے۔اس کے خواب ہر دن مر کر پھر زندہ ہوتے اور کبھی مٹتے نہیں تھے۔
اس شام بھی ثاقب اور اس کے دوست باہر بیٹھے زور زور سے ہنس رہے تھے۔ وہ ہنسی جو دل کو نہیں بلکہ کسی اور کے دکھ کو چھپا رہی ہو۔ کسی کو اندازہ تک نہیں تھا کہ اسی گھر کے اندر ایک عورت اپنی آواز ، اپنی شناخت اور اپنا خواب دفنا کر چپ بیٹھی ہے۔ جب زینب پانی لے کر آئی تو ثاقب نے دوستوں کے سامنے اسے بلند آواز میں ٹوکا۔ جلدی کرو ہر کام میں دیر ہوتی ہے۔وہ رک گئی۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ مگر اندر کہیں بہت کچھ ٹوٹا بھی نہیں — جاگ گیا۔
رات کو وہ کمرے میں آئی تو کونے میں رکھی الماری کھولی۔ گرد سے اٹی فائل نکالی۔ سرٹیفکیٹوں کے نیچے ایک پرانی تصویر تھی —۔ وہ دن، جب اس نے پہلی بار اپنے خواب کو محسوس کیا تھا۔ اس رات زینب نے اپنے دل سے پہلی بار سیدھا سوال پوچھا: “کیا اللہ نے مجھے صرف برداشت کرنے کے لئے بنایا ہے؟ کیا میں انسان نہیں؟ میں خواب دیکھوں تو یہ جرم کیسے بن گیا۔ نم آنکھوں اور کانپتی انگلیوں کے ساتھ اس نے یونیورسٹی کا ایڈمیشن فارم بھرنا شروع کیا۔ کسی نے نہیں دیکھا، کسی نے نہیں پوچھا، کسی کو پروا نہیں تھی لیکن اس کے لئے وہ کاغذ زندگی کا پہلا قدم تھا۔
اگلے دن وہ خاموشی سے فارم جمع کر آئی۔ واپس آتے ہوئے ہوا اس کے چہرے پر پڑی تو اسے لگا جیسے برسوں بعد اس نے سانس لی ہو۔ وہ ڈری ہوئی تھی مگر خوش تھی۔ خوف تھا مگر امید بھی تھی۔ جب تک آدمی ڈر کے ساتھ چل سکتا ہے — وہ ہارا نہیں ہوتا۔
لیکن خواب ہمیشہ چپکے سے نہیں پھیلتے۔ گھر میں وہ فائل ایک دن ثاقب کے ہاتھ لگ گئی۔ غصہ، الزام، طعنے — سب ایک ساتھ اس پر برس پڑے۔ یہ سب کیا ہے تمہیں باہر نکلنے کا بڑا شوق ہے، پڑھائی کی کیا ضرورت ۔ہے ثاقب چلایا زینب خاموش رہی۔ مگر اس کی خاموشی پہلی بار کمزوری نہیں تھی۔ وہ بولی: “مجھے ضرورت ہے کیونکہ اگر میں خود نہیں رہوں گی تو یہ گھر بھی کبھی مکمل نہیں ہوگا۔ عورت کو زندہ رہنے دیا جائے تو گھر زندہ رہتا ہے۔”
وہ رات تنہائی آنسو اور بے آواز دعاؤں سے بھری تھی۔ مگر اس رات زینب نے شکست قبول نہیں کی۔ وہ جاگتی رہی مگر اندر سویا ہوا حوصلہ پوری طاقت سے جاگ گیا تھا۔ آنے والے مہینوں میں گھر کا ہر کام ویسے ہی ہوتا رہا — مگر رات کو چپکے سے پڑھائی، ایسائنمنٹ ٬ لیکچر اور نوٹس ۔وہ تھکتی تھی مگر رکتی نہیں تھی۔ شوہر طعنے دیتا اور محلے کی عورتیں باتیں بناتی رہیں — مگر وہ سب ایک طرف اور زینب کا خواب ایک طرف۔
چار مہینے بعد نتیجہ آیا۔ وہ انٹرن شپ کے لیے منتخب ہو چکی تھی۔ وہ خبر پڑھتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر اس کے دل میں ایک عجیب سی روشنی تھی۔ ایسی روشنی جو کبھی دوسروں کی اجازت سے نہیں صرف اللہ کی مدد سے پیدا ہوتی ہے۔ اس نے سجدہ کیا۔ لمبا بہت لمبا۔ الفاظ کم تھے شکر زیادہ تھا۔
ایک سال گزر گیا۔ وہ اب یونیورسٹی میں پڑھا رہی تھی۔ اس کی آواز میں اعتماد ، چہرے پر وقار اور قدموں میں وقعت تھی۔ جس لڑکی کو کبھی اپنی اوقات یاد کروائی جاتی تھی — آج وہ دوسروں کو روشن مستقبل کا راستہ دکھا رہی تھی۔ ایک دن کلاس ختم ہوئی تو دروازہ کھلا۔ ثاقب باہر کھڑا تھا۔ وہ اب پہلے والا نہیں تھا۔ — چہرے پر غصہ نہیں، فخر بھی نہیں… مگر افسوس ضرور تھا۔
وہ دھیمی آواز میں بولا، “زینب… تم ٹھیک تھیں۔ میں نے تمہیں ٹوکا… تم نے مجھے سمجھایا۔ اگر تم ہار مان لے تیں تو شاید ہم سب ہار جاتے۔ شکریہ کہ تم نے خود کو نہیں چھوڑا۔”
زینب مسکرائی۔ اس کی آنکھوں میں جیت نہیں سکون تھا کیونکہ اصل جیت کبھی دوسروں کو ہرا کر نہیں ملتی… خود کو پا کر ملتی ہے۔
وہ باہر نکلی روشنی بہت تھی۔ سامنے طالبات اس کے ارد گرد جمع تھیں اور سب کے ہاتھوں میں کاپیاں تھیں، سب خوش، سب مستقبل کے سپنے لئے ہوئے۔ زینب نے انہیں دیکھا اور دل میں ایک جملہ نے جنم لیا:
تعبیر کبھی باہر نہیں ملتی تعبیر ہمیشہ اندر جاگتی ہے بس انسان کو ایک بار خود کو جگانا پڑتا ہے۔
���
ٹیکی پورہ لولاب کپواڑہ،کشمیر