ترال //ترال میں محکمہ بجلی نے صارفین سے واجب الادا بجلی فیس کو وصول کرنے کیلئے ایک انوکھا طریقہ کار اپنا یاہے،جس پر مقامی آبادی نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ محکمہ کے مطابق اب تک علاقے میں8سو کے قریب صارفین کی پاور سپلائی کاٹ دی گئی ہے جس پر لوگوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے لوگوں کے مطابق جن محکموں کو50ہزار یا لاکھ روپے بقایہ ہیں انہیں بلا خلل بجلی سپلائی فراہم کی جا رہی ہے اور عام لوگوں کیلئے روز نئے نئے فرمان جاری ہوتے ہیں اورترال میں محکمہ بجلی فیس وصول کرنے میں تیزی لا کر 2ہزار روپے سے زیادہ بقایا والے ٖصارف کا بجلی کنکشن کاٹ رہے ہیں ۔تاہم عوامی حلقوں نے ترال میں اس طرح کے اقدامات پر بھی طرح طرح کے سوالات اٹھائے ہیں ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں جن لوگوں یا محکموں کے پاس بڑی رقم واجب ادا ہے ان کے ساتھ کوئی نہیں چھیڑ رہا ہے جبکہ غریب لوگ جو گزشتہ تین سالوںکے حالات کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجبور ہیںان کے کنکشنوں کو کاٹ کر بجلی سپلائی متاثر کی جا رہی ہے ۔ لوگوں کا الزام ہے کہ ترال میںمتعدد سرکاری دفاتروں اور زیر اثر لوگوں کے پاس بجلی کی ہزاروں روپے کی بلیں واجب الاد ہیں جبکہ مواصلاتی نیٹ ور ک ٹاوروں کو ایک کروڑ کے قریب فیس بقایا ہے اور کسی بھی جگہ تاحال فیس وصول نہیں کی جا رہی ہے ۔جبکہ غریب لوگوں کے کنکشن کاٹ دئے گئے ہیں۔اے ای ای محمد مقبول اہنگر نے بتایا محکمہ نے فیس وصول کرنے کا ایک ٹارگٹ مقرر کیا ہے کہ اکتوبر تک سب بقایا جات حاصل کئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس بجلی فیس بقایہ ہے انہیں فیس ادا کرنی چاہئے ۔ انہوں نے بتایا سب ضلع میں سنیچر تک800 کے قریب کنبوں کی بجلی سپلائی کاٹ دی گئی ہے ۔ محمد مقبول اہنگر نے بتایا لوگ بقایا فیس کا کوئی ایک قسط فوری طور محکمہ میں جمع کرائیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’لوگوںکی شکایات کو سننے کیلئے دفتر کھلا ہے ‘۔انہوں نے یقین دلایا اگر کسی جگہ نا انصافی ہوئی ہے، تو اسکو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔