بلال فرقانی
سرینگر //کبھی ہر چھت اور ہر صحن کی رونق سمجھی جانے والی چڑیا اب تیزی سے ہمارے ماحول سے غائب ہوتی جارہی ہے۔ اس کی مدھم ہوتی موجودگی اس بات کا سنجیدہ اشارہ ہے کہ ہمارا قدرتی ماحولیاتی نظام کس قدر نازک ہوچکا ہے۔ ماہرین کے مطابق چڑیوں کی تعداد میں کمی تیزی سے بڑھتی شہری تعمیرات، گھونسلوں کے خاتمے اور سبزے کی کمی جیسے عوامل کا نتیجہ ہے، جو مجموعی ماحولیاتی بگاڑ کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ماحولیاتی اور سماجی ماہرین کا ماننا ہے کہ جذباتی و سماجی روابط میں کمی، تیز رفتار شہرکاری اور جدید طرزِ زندگی نے ’’عام چڑیا‘‘ کو انسانوں سے دور کر دیا ہے۔ وہ پرندہ جو کبھی وادی کے گھروں، گلیوں اور دریا کناروں پر خوشی اور زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج شہری علاقوں میں شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مواصلاتی ٹائوروں کی بھر مار جدید طرزِ تعمیر، کنکریٹ کے میدانی پھیلاؤ اور شہروں کی گنجان آبادی نے چڑیوں کی فطری پناہ گاہیں محدود کر دیں۔ گھاس کے جھنڈ، قدیم تعمیرات کے سوراخ اور کھلی فضا ، سب آہستہ آہستہ غائب ہو رہے ہیں، جس سے ان کی افزائش اور بقا شدید متاثر ہوئی ہے۔’زالوجی‘ کے سکالر نصر اللہ مجید بتاتے ہیں کہ نمازِ فجر کے بعد دریائے جہلم کے کنارے چڑیوں کی میٹھی چہچاہٹ وادی کے ماحول کو ایک خاص سرور بخشتی تھی، مگر گزشتہ برسوں میں یہ آوازیں تقریباً ناپید ہو چکی ہیں’’اب ان کی بولی سننے کو کان ترستے ہیں۔‘‘سیول لائنز کے ایک شہری محمد سلطان کا کہنا ہے’’بٹوارہ سے لالچوک تک، جہلم کے کناروں سے گزرنے والی صبح کی سیر میں چڑیوں کی میٹھی چہچاہٹ دل کو زندگی بخشتی تھی، مگر اب وہ سب آوازیں وقت کے شور میں گْم ہو چکی ہیں۔‘‘ماہر سماجیات ڈاکٹر شبیر احمد راتھر کا کہنا ہے کہ چند دہائیاں قبل وادی کے گھروں میں بچوں اور چڑیوں کا تعلق عام بات تھی۔وہ کہتے ہیں’’ہمارے والدین ہمیں ’وچھہ ژئر، ژئر کیاہ کران، ژر آئی‘ کہہ کر ان پرندوں کی طرف متوجہ کرتے تھے، مگر آج نہ والدین کے پاس وقت ہے نہ بچوں میں دلچسپی۔ موبائل گیمز اور کمپیوٹر نے قدرتی تفریح کی جگہ لے لی ہے۔‘‘پلوامہ کے نہامہ سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ شہری ف محمد شعبان کے مطابق پہلے گھروں کے باہر شالی کو سوکھنے کے لیے پھیلایا جاتا تھا جس سے چڑیوں کو آسانی سے خوراک ملتی تھی، مگر اب یہ روایت ختم ہو چکی ہے۔ دریا کناروں پر گھاس کے جھنڈ بھی ختم کر دیے گئے اور ان کی جگہ کچرے کے ڈھیر اْگ آئے، جس سے چڑیوں کی پناہ گاہیں بھی مٹ گئیں۔سماجیات کے ماہر فرمان علی چڑیا کو امن کی علامت قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جہاں شورش ہو وہاں چڑیوں کی تعداد فطری طور پر کم ہوتی جاتی ہے۔صحافی معراج الدین مسکین کے مطابق چڑیا وادی کی تہذیب کا حصہ تھی۔ ان کا کہنا ہے’’ مسلمان اور پنڈت دونوں اپنی بچیوں کے نام چڑیا سے منسوب کرتے تھے جبکہ اسکولوں اور مدرسوں میں بچوں کو چڑیوں پر نظمیں پڑھائی جاتی تھیں۔‘‘ انہوں نے کہا یہ پرندہ وادی کی روزمرہ زندگی، محبت اور سادگی کا استعارہ تھا۔نئی تعمیرات میں چڑیوں کے لیے جگہ کم اور کھڑکیاں بند ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ پرانے طرزِ تعمیر میں انہیں آسانی سے بسیرا مل جاتا تھا۔مزید یہ کہ شہر میں موبائل ٹاوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے بھی چڑیوں کی موجودگی میں کمی پیدا کی ہے، جس کا ذکر ماہرین نے خصوصی طور پر کیا ہے۔