یو این آئی
ممبئی//ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)کی جانب سے گزشتہ سال ریپوریٹ میں چار مرحلوں میں مجموعی طور پر 1.25 فیصد کمی کے بعد تجارتی بینکوں نے قرضوں پر شرح سود میں 1.05 فیصد کمی کی ہے۔ آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جمعہ کے اختتام پذیر ہونے والی تین روزہ میٹنگ کے بعد جاری بیان میں بتایا کہ گزشتہ سال فروری سے دسمبر کے درمیان تجارتی بینکوں کی وزنی اوسط قرضے کی شرح (ڈبلیو اے ایل آر)میں 105 بیسس پوائنٹس (1.05 فیصد) کی کمی درج کی گئی۔ یہ کمی نئے قرضوں میں درج کی گئی ہے۔ اس کمی میں 0.94 فیصد کا حصہ ریپو شرح میں کی گئی کٹوتی کا ہے۔ ریپوریٹ وہ شرح ہے، جس پر ریزرو بینک تجارتی بینکوں کو قلیل مدتی قرض فراہم کرتا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ مرکزی بینک نے گزشتہ سال فروری میں ریپوریٹ میں 0.25 فیصد، اپریل میں 0.25 فیصد اور جون میں 0.50 فیصد کی کمی کی تھی۔ اگست اور اکتوبر میں ریپوریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جبکہ دسمبر میں اس میں دوبارہ 0.25 فیصد کمی کی گئی۔ اس طرح مجموعی طور پر 1.25 فیصد کم کرکے ریپو شرح کو 5.25 فیصد کر دیا گیا۔ ملہوترا نے بتایا کہ فکسڈ ڈپازٹ پر بینکوں کی جانب سے دی جانے والی سود کی شرح میں فروری سے دسمبر کے دوران اوسطا 0.95 فیصد کی کمی درج کی گئی۔ وہیں پرانی جمع رقوم پر بھی سود کی شرح میں 41 بیسس پوائنٹس کی کمی رہی۔ بعد ازاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ ریپو شرح میں کی گئی کمی کا پورا فائدہ صارفین کو ملے، اس کے لیے مرکزی بینک نے بینکنگ کے نظام میں نقدی کی دستیابی بڑھانے کے اقدامات کیے ہیں۔ کھلے بازار سے سرکاری سکیورٹیز کی خریداری کی گئی ہے اور روپیہ/ڈالر خرید و فروخت کے سویپ نیلامی عمل میں لائی گئی ہے۔