ڈوڈہ //ڈوڈہ کی تحصیل چلی پنگل میں ناقص طبی نظام کی وجہ سے مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دس پنچائتوں پر مشتمل پرائمری ہیلتھ سینٹر جکیاس میں ایک میڈیکل آفیسر سمیت طبی عملہ کی 5 سامیاں خالی پڑی ہیں اور بیس ہزار نفوس کے لئے صرف ایک آئی ایس ایم ڈاکٹر کو اٹیچ کیا گیا ہے اسے بھی ایک جگہ رہنے نہیں دیا جاتا۔ سابق سرپنچ و سماجی کارکن شیخ لیاقت علی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ تحصیل چلی پنگل کے مرکز میں واقع اخیار پور جکیاس پرائمری ہیلتھ سینٹر میں ڈاکٹروں و نیم طبی عملہ کی عدم دستیابی سے مقامی لوگوں کو معمولی علاج کے لئے سب ضلع و ضلع ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایچ سی ایمبولینس سروس بھی دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے مریضوں و بالخصوص حاملہ خواتین کو ہسپتال منتقل کرنے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کو لے کر متعدد بار اعلی حکام سے رجوع کیا لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔سرپنچ پنچائت بدھلی دانش ملک نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی لیکن اس نے چارج نہیں سنبھالا ہے۔انہوں نے کہا کہ دس پنچائتوں پر مشتمل علاقہ پنگل کے لئے ایک آئی ایس ایم ڈاکٹر و درجہ چہارم کے ملازم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔مقامی لوگوں نے ایل جی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پی ایچ سی جکیاس میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر، سینئر فارماسسٹ، ایف ایم پی ایچ ڈبلیو، دو این اوز و صفائی کرمچاری کی خالی پڑی سامیوں کو پر کیا جائے اور ساتھ ہی ایمبولینس گاڑی کی سروس بھی دستیاب رکھی جائے تاکہ غریب عوام کو راحت مل سکے۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ایک ہفتہ میں ان کی مانگ کو پورا نہیں کیا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔