حافظ افتخاراحمدقادری
حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ کی ذاتِ مقدسہ محتاج تعارف نہیں۔ کون کلمہ گو ہے جو آپ کی شخصیت و مرتبیت سے آشنا نہیں۔ جب فاران کی چوٹی سے آفتابِ اسلام بلند ہوا، معلم انسانیت حضور نبی کریم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے دعوت اسلام دی تو سب سے پہلے جس قلب مقدس و مطہر نے انوار ایمانی کو اپنے اندر جذب کیا اور اپنے دل کو اسلام کی نورانی دعوت کا نشیمن بنایا، وہ کوئی اور نہیں بلکہ امیر المومنین حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا مبارک و مقدس قلب اطہر ہے۔ ملاحظہ فرمائیں کہ حضرتِ علی المرتضیٰ کرم الله تعالیٰ وجہہ، سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ کے فضائل کس طرح بیان کرتے ہیں:
حضرتِ اسید بن صفوانؓ فرماتے ہیں: جب سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا وصال ہوا تو مدینے کی فضا میں رنج و غم کے آثار تھے، ہر شخص شدت غم سے نڈھال تھا، ہر آنکھ سے اشک رواں تھے۔ صحابہ کرامؓ پر اسی طرح پریشانی کے آثار تھے جیسے حضورِ اقدس صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کے وصالِ ظاہری کے وقت تھے۔ سارا مدینہ غم میں ڈوبا ہوا تھا، پھر جب تو حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ ؓنے فرمایا: آج کے دن نبی رحمت ؐ کے خلیفہ ہم سے رخصت ہو گئے، پھر آپؓ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے صدیق اکبرؓ! آپ پر الله رب العزت رحم فرمائے، آپ رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کے بہترین رفیق، اچھے محب، بااعتماد رفیق اور محبوب خداؐ کے رازداں تھے۔ حضور اکرم ؐ ،آپؓ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے، آپؓ لوگوں میں سب سے پہلے مومن، ایمان میں سب سے زیادہ مخلص، پختہ یقین رکھنے والے اور متقی و پرہیز تھے۔ آپؓ دین کے معاملات میں بہت زیادہ سخی اور الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریبی دوست تھے۔ آپؐ کا مرتبہ سب سے بلند تھا، آپؓ ہمارے لیے بہترین واسطہ تھے۔ آپ کا اندازِ خیر خواہی، اسلام کی دعوت دینے کا طریقہ، شفقتیں اور عطائیں رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کی طرح تھیں، آپؓ، رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کے بہت زیادہ خدمت گزار تھے، الله رب العزت آپؓ کو اپنے رسول صلی الله علیہ وسلم اور اسلام کی خدمت کی بہترین جزا عطا فرمائے۔ آپ رضی الله عنہ نے دین متین اور نبی کریم ؐ کی بہت زیادہ خدمت کی، الله رب العزت اپنی رحمت کے شایان شان آپؓ کو جزاء عطا فرمائے۔ جس وقت لوگوں نے رسولِ کریم ؐ کو جھٹلایا تو آپؓنے رسولِ کریمؐ کی تصدیق فرمائی۔ حضور نبی اکرمؐ کے ہر فرمان کو حق و سچ جانا اور ہر معاملے میں حضور اکرمؐ کی تصدیق فرمائی، الله رب العزت نے قرآن کریم میں آپ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔ آپ رضی الله عنہ کی شان تو یہ ہے کہ آپ کو’’ ثانی اثنین‘‘ کا لقب ملا، آپ یار غار ہیں، الله تعالیٰ نے آپ پر سکینہ نازل فرمایا، آپؓ نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت فرمائی، آپ نے خلافت کا حق ادا کیا، آپ نے مرتدین سے جہاد کیا۔آپؓ لوگوں کے لیے سہارہ بنے،اور لوگوں کےحوصلے بلندکئے، لوگوں نے اپنے اسلام کو چھپایا لیکن آپؓ نے اپنے ایمان کا اظہار کیا۔ آپؓ نے ہمیشہ نبی کریمؐ کی سنتوں کی اتباع کی۔منافقین و کفارکے حوصلوں کو پست کرکے ذلیل و خوار کیا۔ لوگوں نے دینی امور میں سستی کی لیکن آپؓ نے بخوشی دین پر عمل کیا۔ لوگوں نے حق بات سے خاموشی اِختیار کی مگر آپؓنے علی العلان کلمہ حق کہا، جب لوگ اندھیروں میں بھٹکنے لگے تو آپؓکی ذات ان کے لیے منارہ نور ثابت ہوئی۔
لوگ آپؓ کی پیروی کرکے کامیابی کی طرف بڑھتے رہے اور آپ کے مشوروں اور حکمت عملی کی وجہ سے انہیں ایسی ایسی کامیابیاں عطا ہوئیں جو ان لوگوں کے وہم وگمان میں بھی نہ تھیں۔ الله رب العزت کی قسم! آپؓ اپنی منزلِ مقصود کی طرف پرواز کر گئے اور اپنے مقصود کو پالیا۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم الله تعالیٰ وجہہ نے آپ رضی الله عنہ کی تعریف کرتے ہوئے مزید فرمایا: آپؓ نے کبھی کسی کو عیب نہ لگایا، نہ کسی کی غیبت کی اور نہ ہی کبھی لالچ کیا، بلکہ آپ لوگوں پر بہت زیادہ مشفق و مہربان تھے، کمزور و ناتواں لوگ آپ رضی الله عنہ کے نزدیک محبوب اور عزت والے ہوتے۔ اگر کسی مالدار اور طاقتور شخص پر ان کا حق ہوتا تو انہیں ان کا حق دلواتے۔ آپؓ کے نزدیک امیر وغریب سب برابر تھے، آپ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ مقرب ومحبوب وہ تھا جو سب سے زیادہ متقی و پرہیز تھا، آپ صدق و سچائی کے پیکر تھے اور آپ رضی الله عنہ کی جدائی کا غم ساری دنیا کو رُلا رہا ہے۔ الله رب العزت نے آپ رضی الله عنہ کی آخری آرام گاہ اپنے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم کے قرب میں بنائی۔ الله رب العزت ہمیں آپ کی طرف سے اچھا اجر عطا فرمائے اور ہمیں آپ رضی الله عنہ کے بعد صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے اور گمراہی سے بچائے۔ آمین (الریاض النضرة، جلد اول/ صفحہ نمبر، 262)
ایک بار حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر ؓ اور حضرتِ علی المرتضیٰ کرم الله تعالیٰ وجہہ کی ملاقات ہوئی تو آپ ؓ، سیدنا علی المرتضیٰؓ کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔ سیدنا علی المرتضیٰ ؓ نے پوچھا: آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا: میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ پل صراط سے وہی گزرے گا، جس کو علی المرتضیٰ تحریری اجازت نامہ دیں گے۔ یہ سن کر سیدنا علی المرتضیٰ ؓ بھی مسکرا دئے اور عرض کرنے لگے: کیا میں آپ کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے آپ کے لیے بیان کردہ خوشخبری نہ سناؤں؟ کہ رسولِ کریم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پل صراط سے گزرنے کا تحریری اجازت نامہ صرف اسی کو ملے گا جو ابو بکر صدیق سے محبت کرنے والا ہوگا۔ (الریاض النضرة، جلد اول/ صفحہ نمبر، 207)
امیر المومنین سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ عشقِ رسول صلی الله علیہ وسلم کی دولتِ لازوال سے مالا مال تھے۔ حضورِ اقدسؐ نے وصال ظاہری کے بعد آپ کی مبارک زندگی میں سنجیدگی زیادہ غالب آگئی اور تقریباً دو سے سات ماہ پر اپنی باقی زندگی گزارنا آپ ؓکو انتہائی دشوار ہوگیا۔ آپ حضورِ اقدس صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کی یاد میں بے قرار رہنے لگے۔ حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ کی وفات کا سبب حقیقی حضور صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ظاہری تھا۔ حضور صلی الله علیہ وسلم کے وصال ظاہری کے بعد سے آپ کا بدن مسلسل گھلنے لگا اور بالآخر ۲۲؍ جمادی الثانی آپ بھی دنیا سے وصال فرما گئے۔
رابطہ8954728623
[email protected]