رتن سنگھ کنول
بہت عرصے سے میں اپنے گھر میں ہی قید تھا ۔
لمحے وقت کی کوکھ سے نکل کر فضاء میں معدوم ہو رہے تھے۔ دھرتی اپنی گردش میں محو تھی اور دنیا بدل رہی تھی۔ مجھے معلوم نہ تھا ۔پھر اچانک ایک صبح ایسی بھی آئی کہ مجھے اپنے ارد گرد کی سبھی چیزوں کا حجم گھٹتا ہوا دکھائی دینے لگا ۔ہر ایک چیز گھٹتی ہوئی ایک نقطے پر مشتمل ہو گئی ۔ میں نے حیرت سے آنکھیں جھپک جھپک کر دیکھا لیکن پھر وہی کچھ دکھائی دیا ۔ شاید میں بھی کسی کو دکھائی نہیں دے رہا ہوں ‘ تبھی تو میرے گھر والے بھی مجھے نظرانداذ کر رہے ہیں ۔ دروازہ جزوی کھولا ‘، نظر گھما کر دیکھا پھر بند کیا اور اپنی راہ لی ۔ میں سوچتا رہا۔ اپنے آپ کو ٹٹولا ‘ سچ میں میرا بھاری بھرکم اور بلند مجسمہ بھی ایک ادنا سا ‘جاندار مخلوق بن کے رہ گیا تھا ۔ میرے سامنے سے کوئی گزر جاتا تو میں اندیکھا ہی رہ جاتا ۔ میری پریشانی بڑھتی ہی گئی ۔
میں اپنے گھر سے باہر نکل آیا، چاروں اور نظر دوڑائی۔ آسمان ‘سورج ‘ چاند ‘ تارے تو وہی تھے ۔ زمین، ‘پہاڑ ‘، ہوا اور پانی بھی وہی تھا مگر انسان کی بنائی اشیا ہی بدل گئی تھی ۔ چہل قدمی کرتے ہوئے میں آگے بڑھنے لگتا ہوں ۔ یوں ہی چلتے چلتے بازار میں پہنچ جاتا ہوں۔ دیکھا چھوٹی چیزیں بڑی اور بڑی چیزیں چھوٹی ہوگئی ہیں ۔ ایک لین والی سڑک کئی لینوں میں پھیل گئی ہے ۔چھوٹے چھوٹے مکان فلک بوس عمارتوں میں تبدیل ہو گئے ہیں ۔ روز مرہ زندگی کی اشیاء والی دُکانیں بڑے بڑے مالوں اور گوداموں میں منتقل ہو گئ ہیں ۔ بڑے زور شور سے اچھلتے کودتے ہوئے بہتے ندی نالے اپنا وجود ہی گنوا بیٹھے ہیں ۔ ان کی جگہ لوہے کے دریا بہہ رہے ہیں ‘ دہاڑتےٹرالے اور گرجتی ہوئی چھوٹی بڑی گاڑیاں۔ پٹریوں پر رینگتا ہوا لوگوں کا سیلاب ۔ کسی کو ذرا سی چوک ہو جائے تو وجود ہی مٹ جائے ۔اور دُنیا یوں ہی ،بے پروہ ، چلتی رہے ۔ وقت کے وقت مجھے لگا کہ آگ لگ گئی ہے ‘ دنیا جل رہی ہے، اور حادثے جاری ہیں۔ اگلے ہی پل لگا نہیں ‘ خریدوفروخت کا دھندا ہو رہا ہے ۔
بازار کی چکا چوند، ‘ بڑے بڑے اشتہار بھیڑ کو اپنی اور راغب کر رہے ہیں اور آدمی کا دل و دماغ بے قابو ہو گیا ہیں۔ میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا ہوں میری ضرورت کی کوئی چیز دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ میں اپنے سراپے کو بار بار ٹتولتا ہوں ‘ اور دیکھتا ہوں میں کہاں ہوں، میرا سب کچھ ٹھیک تو ہے؟ آخر میری ضرورت کی اشیاء کہاں غائب ہو گئیں ۔۔۔ مجھے تو سب کچھ غیر ضروری لگ رہا ہے ۔ جو کچھ ضروری ہے وہ غائب ہے ‘، جو غیر ضروری ہے وہ حاضر ہے ۔یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ غیر ضروری اشیاء ضروری ہو گئی ہیں ۔ خریدو کچھ دیر رکھو اور پھینک دو ۔ کھائو جو بچتا ہے پھینک دو ،کل اور خریدو ۔ جو آج ہے وہ کل نہیں ہوگا ‘ اور جو کل ہے وہ دوسرے دن نہیں ہوگا ۔
کسی صورت یا کسی حالت میں بھی حاصل کرنے کی کوشش۔ بدلتے نام بدلتی بھاشا اور بدلتے پیرائے ۔ ۔۔۔
ایک پردہ سرکتا ہے اور میں اندر کے اطراف جھانکتا ہوں ۔ آدمی لیپ ٹاپ ‘ اور کمپیوٹر وں کے ماوس گھوما رہے ہیں ،کمپیوٹروں پہ اپنی اُنگلیاں نچا رہے ہیں۔۔۔۔
میں دور اُفق پر نگاہ دوڑاتا ہوں ،دھند ہی دھند چھائی ہوئی ہے ۔ پہاڑوں کی چوٹیاں برف سے نہیں ،کثافتوں سے لپٹی ہوئی ہیں ۔ دیکھتا ہوں ،چلتا ہوں ،ٹکراتا ہوں ،گرتا ہوں ،پھر اٹھتا ہوں اور سنبھلتا ہوں ۔
کوئی دھکا دے کے گرا کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے اور کوئی آنکھ دکھا کر گزر جانا چاہتا ہے ۔ میں ہر بار اُفق پر کچھ ڈھونڈ رہا ہوں ۔ اچانک ایک دیو پیکر سا دھند میں سے نکل آتا ہے ۔ مجھے اس بھیڑ میں بھی اپنا آپ اکیلا محسوس ہوتا ہے ۔ ڈر لگتا ہے ۔ پھر بھی بنا دیکھے رہ نہیں سکتا ہوں ۔
” ہا ہا ہا ۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔!” وہ شیطان کی طرح ہنستا ہے ۔ لگتا ہے شاید وہ میرے اندر کی بات بُوجھ چکا ہے ۔
میں ابھی سوچ ہی رہا ہوں کہ اُس کی باتیں سماعت ہونے لگتی ہیں۔
“میں جانتا ہوں ! ہاں میں جانتا ہوں !! ۔۔۔یہی نا کہ تم افق کے پردے پر ماضی اور مستقبل کو دیکھنا چاہتے ہو ? ۔۔۔ ہی ہی ہی ۔۔۔ کسی کا خون ہوا، کسی پہ ظلم ہوا تو صاف دکھائی دے دیتا ،اُفق پہ لالی پھیل جاتی ۔توبہ توبہ کرتے لوگ ۔۔۔ سنبھل جاتے ،ہوشیار ،خبردار ہو جاتے ۔۔۔ہی ہی ہی ۔۔۔ اب نہیں ! ۔۔۔ افق کا پردہ میلا ہو گیا ہے ۔۔۔ اب تو یہاں میں ہوں ۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔ ہی ہی ہی ! ۔۔۔ ”
مجھے اس دیو پیکر کے طعنے مہینے اور ہنسی زہر لگ رہی ہے۔ تیر کی طرح چبھ رہی ہے ۔ میں نظریں پھیر لیتا ہو ں مگر اندر کا ڈر اور بے چینی دیکھنے پر بھی مجبور کر رہا ہے۔ بازار کی اور نا چاہتے ہوئے بھی بار بار دیکھ لیتا ہوں ۔ سوچتا ہوں یہ شیطان، دیو پیکر اب چُپ ہو جائے گا مگر نا ،وہ لگاتار میرا پیچھا کر رہا ہے اور مجھے مخاطب ہے ۔
“دیکھو دیکھو ، باز۱ر کو بھی خوب دیکھو ۔۔۔ کچھ مڑنے والا نہیں ہے ۔۔۔ جو پانی بہہ گیا وہ نہیں مُڑتا ۔۔۔ کیا بِک رہا ہے اب اور کیا خریدا جا رہا ہے تو نہیں جانتا ۔۔۔ ابھی تیرے لئے قبل از وقت ہے ۔۔۔ جب جانے گا تو بازار اور بھی پھیل چُکا ہوگا ۔۔۔اگر خریدے گا نہیں تو بچ نہیں پائے گا ۔۔۔ گھٹتے گھٹتے فقط ایک نقطہ رہ جائے گا ۔۔۔اور وہ تو چیونٹی کو بھی دکھائی نہیں دے گا ۔۔۔ ہا ہا ہا ۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔ ”
“آخر جائے گا کہاں یہ سب کچھ ۔۔۔ دھرتی کا دم تو نہیں گھٹے گا ۔۔۔ ؟ ” میرے اندر سوال ہی سوال پیدا ہو رہے ہیں اور وہ شیطان مجھ پہ ہنس رہا ہے۔
“ہا ہا ہا ۔۔۔ہی ہی ہی ۔۔۔ جو تیرے پاس تھا اپنے پرکھوں کا ، کہاں گیا ۔۔۔ جانتا ہے ۔آسمان سے زمین پر کس نے دے مارا تیری پوری نسل کو۔۔۔ نہیں جانتا۔۔۔ہی ہی ہی ۔۔۔ہا ہا ہا ۔۔۔ وقت کا بھی اژدحام ہوتا ہے ۔ ۔۔وہ بڑی تیزی سے بہتا ہے اور بہت کچھ بہا کے لے جاتا ہے ۔۔۔ ”
میں پل پل پریشانی میں مبتلا ہو رہا ہوں اور سوچ میں ڈوبا خراماں خراماں آگے بڑھتا جا رہا ہوں ۔ بھیڑ کا ایک دھکا آیا اور میرا ادنیٰ سا پیکر لڑ کھڑا گیا ۔ گرتے گرتے بچ گیا ۔ بھیڑ کی آنکھیں مجھے گھور گھور کر دیکھ رہی ہیں ۔ جیسے میں کسی سنگین گناہ کا مرتکب ہو گیا ہوں ۔ بھیڑ کے سلے لبوں پہ بھی نفرت بول رہی ہے اور غصہ رقص کر رہا ہے۔ اسی اثنا میں ایک زوردار آندھی افق سے ٹانڈو کرتی ہوئی آئی اور کتنا کچھ زمین سے اٹھا کر آسمان میں اچھال دیا ۔ پلاسٹک کے بکھرے لفافے , ریپر اور ادھر اُدھر پڑی اشیاء تنکوں کی طرح فضاء میں تیرنے لگیں ۔ پھیلی دھند میں , ہرسمت میں بھاگ رہے لوگوں کے ساتھ میں بھی بھاگ رہا ہوں ۔ میری ایڑی پر چبھن سی محسوس ہوتی ہے اور میری ایڑی بھی جوتے سے باہر ہو جاتی ہے ۔ میں ٹھہر جاتا ہوں ۔ مڑ کر دیکھتا ہو ں ایک معصوم سی لڑکی جھینپ کر کھڑی ہو جاتی ہے ۔ میرا غصہ اور نفرت اُسی دم کافور ہو جاتے ہیں ۔ اُس کی پیٹھ پر ایک بھاری بھرکم کتابوں کا بیگ لٹک رہا ہے ۔اُس کے اندر ڑر اور سہم بھی ہے ۔ ” ! sorry uncle ”
وہ ہاتھ جوڑ کر کہتی ہے۔ اُس کے لہجے میں نرمی اور اپنائیت بھی ہے ” کوئی بات نہیں بیٹی ! ” میںخلوص سے کہتا ہوں اور اپنی ایڑی کو بوٹ میں ڈال لیتا ہوں ۔ اُس کا حوصلہ بڑ جاتا ہے اور وہ اپنی بات جاری رکھتی ہے : ” اس دھند میں ،ازار میں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ،انکل ! گلیوں میں کتے بھی ٹوٹ پڑتے ہیں , بہت ساری لڑکیاں ان کتوں کا شکار بھی ہو گئ ہیں اور اُن کا۔۔۔ لوگ بس تماشا دیکھتے ہیں۔۔۔ویڈیو بناتے ہیں پیسا کمانے کیلئے ۔۔۔ انکل یہ برُا ہے نا ?
” ہاں بیٹی یہ بُرا ہی نہیں بہت بُرا ہے ۔ ”
لڑکی میرے پیچھے پیچھے تیز قدموں سے چلتے ہوئے کہہ رہی ہے ۔ میرے دل میں خیال آتا ہے اور میں پوچھ لیتا ہوں :
” تو نے مجھ پر۔۔۔ ? ”
” انکل میں سب کچھ سمجھتی ہوں ،طالبہ ہوں نا ۔۔
حساس کی سوجھ بوجھ اظہار کی محتاج نہیں ہوتی ۔۔۔پھر آپ تو ہماری بستی کے بسکین ہیں ۔۔۔ ”
میں رُک گیا اور مُڑ کر اس طالبہ کی آنکھوں میں دیکھنا چاہا ۔ واقعی اُس کی آنکھوں میں علم کے ستارے چمک رہے تھے ۔ پھر بھی پتہ نہیں مجھے کیا سوجھی پوچھ بیٹھا :
” میرا ادنا سا پیکر تجھے دِکھ گیا ؟”
لڑکی مسکرا تی ہے اور مجھ پر ایک بھرپور نظر ڈالتی ہے ۔ جیسے کہہ رہی ہو ۔
“انکل اب کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں بچا ”
میرے پاس بھی اب پوچھنے کو کچھ نہیں ہے ۔ چپ چاپ آگے ہی آگےبڑھ رہا ہوں ۔ آندھی سست ہو گئی ہے ۔
” انکل رُک جاو ! ” لڑکی اچانک زور سے چلاتی ہے ۔
” آپ غلط سمت میں چل رہے ہیں، بھٹک گئے ہیں ۔۔۔سمت بدلنی پڑے گی جدھر ہماری بستی ہے ،گھر ہیں۔۔۔ ”
ہم سمت بدل دیتے ہیں اور بستی کی سمت چل پڑتے ہیں ۔ اب لڑکی آگے آگے چل رہی ہے اور میں اُس کے پیچھے پیچھے۔ سامنے افق پر اُجالا پھوٹ آیا ہے ۔ دیو پیکر اب نظر نہیں آ رہا ہے ۔
���
چکِ سُرنگسو، پہلگام کشمیر
موبائل نمبر؛7006803106