ٹی ای این
سرینگر// ایک عالمی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق بھارت کی معیشت میں رواں سال 6.4فیصد اور 2027میں 6.6فیصد شرح سے اضافہ متوقع ہے، جبکہ افراطِ زر 2026 میں 4.4فیصد اور 2027میں 4.3فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی اور جنوب مغربی ایشیا کی معیشتوں نے 2025میں 5.4 فیصد ترقی کی، جو 2024 کے 5.2فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے، اور اس ترقی میں بھارت کا نمایاں کردار رہا۔ بھارت کی شرح نمو 2025 میں بڑھ کر 7.4فیصد تک پہنچ گئی، جس کی بڑی وجہ دیہی معیشت میں مضبوط کھپت، جی ایس ٹی میں کمی اور امریکی ٹیرف کے نفاذ سے قبل برآمدات میں اضافہ قرار دیا گیا ہے۔
تاہم 2025کے دوسرے نصف میں معاشی سرگرمیوں میں کچھ سستی دیکھی گئی، جب امریکہ کو برآمدات میں تقریباً 25 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ کمی اگست 2025میں 50فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی۔ اس کے باوجود خدمات کا شعبہ بدستور معیشت کی ترقی کا اہم محرک بنا رہا۔رپورٹ میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تجارتی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث ایشیا اور بحرالکاہل کے ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری میں کمی آئی۔ 2025میں اس خطے میں ایف ڈی آئی میں 2فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، حالانکہ عالمی سطح پر سرمایہ کاری میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔اس کے باوجود بھارت ان ممالک میں شامل رہا جہاں گرین فیلڈ سرمایہ کاری کا بڑا حصہ آیا، اور اسے تقریباً 50ارب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری حاصل ہوئی۔رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم افراد کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم (ریمیٹینسز) میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے گھریلو کھپت کو سہارا ملا ہے، تاہم اس شعبے کو بھی کچھ چیلنجز درپیش ہیں۔ اندازوں کے مطابق 2024میں بھارت کو 137ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، لیکن جنوری 2026سے امریکہ کی جانب سے ریمیٹینسز پر ایک فیصد ٹیکس عائد کیے جانے سے اس میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔