دھاندلی ثابت ہوئی تو کارروائی ضرور ہوگی:عمر عبداللہ
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اتوار کو واضح کیا ہے کہ ریاست میں تمام انتظامی اور بھرتی سے متعلق فیصلے محض اہلیت اور شفافیت کی بنیاد پر کیے جائیں گے، اور اگر کسی امتحان میں دھاندلی یا بے ضابطگی کے شواہد پیش کیے گئے تو حکومت سخت ترین کارروائی شروع کرے گی۔گلمرگ میں برف باری کی صورتحال، بجلی بحالی کے اقدامات اور نئی اسکی لفٹ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر معاملے کو مذہب یا خطے کے چشمے سے دیکھنا مناسب نہیں۔ کچھ فیصلے صرف اور صرف میرٹ پر ہونے چاہئیں۔ جن امیدواروں نے محنت سے میرٹ حاصل کیا ہے وہ اس کے مستحق ہیں۔انہوں نے کشمیر میں جوڈیشل سروسز مین امتحان کے نتائج پر اٹھائے جارہے اعتراضات پر بات کرتے ہوئے کہا، ’اگر آپ دھاندلی کے ثبوت لاتے ہیں تو میں فوری تحقیقات کا حکم دینے کے لیے تیار ہوں۔ اگر کسی نے نقل، بے ایمانی یا امتحان چھیڑ چھاڑ کا راستہ اپنایا ہے، اسے بخشا نہیں جائے گا۔‘وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بتایا کہ وہ گلمرگ عوام کی شکایات کے بعد آئے ہیں جہاں برف ہٹانے اور بجلی کی فراہمی میں کچھ معمولی خامیاں تھیں جنہیں انتظامیہ دور کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں بھی بہت جلد مکمل بجلی بحال کر دی جائے گی۔عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ جموں و کشمیر کی وحدت کی حمایت کرتی آئی ہے۔’ہم نے کبھی بھی ریاست کے کسی حصے کی علیحدگی کی حمایت نہیں کی۔ لداخ کو الگ کیا گیا، مگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ دوبارہ جموں و کشمیر کا حصہ بنے۔ جموں کی تقسیم کی بھی ہم نے کبھی تائید نہیں کی۔ یہ بی جے پی اور اس کے اتحادی تھے جنہوں نے ریاست کو تقسیم کیا۔‘وزیراعلیٰ نے بی جے پی رہنما ترون چگ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ جموں کی علیحدہ ریاست کا مطالبہ نیشنل کانفرنس کی جانب سے اٹھایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا،”یہ بحث بی جے پی کے اراکین اسمبلی نے چھیڑی تھی۔ ہم نے کبھی بھی جموں اور کشمیر کو الگ کرنے کی حمایت نہیں کی۔انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس نہ صرف جموں کی علیحدگی کے خلاف رہی ہے بلکہ وہ لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کرنے کی بھی مخالف رہی ہے۔